| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’مزاحمت ختم کر دیں گے‘
امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے امریکی عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اب عراق مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا عزم کیا کہ وہ عراق میں سلامتی لا کر رہیں گے۔ ان کا خطاب اس وقت نشر ہو رہا ہے جب عراق میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے امریکہ میں صدر بش کی عراق پر حکمتِ عملی پر کافی تنقید ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے دشمن وہاں مایوسی کی حالت میں میں حملے کر رہے ہیں اور ان کو شکست دینی ہے۔ ’اس میں وقت لگے گا اور یہ قربانی مانگتا ہے۔‘
انہوں نے اس بات کا اعلان کیا کہ وہ کانگریس سے عراق اور افغانستان میں فوجی کارروائیوں اور تعمیرِ نو کے لئے ستاسی ارب ڈالر کی منظوریکے لئے رجوع کریں گے۔ صدر بش کی تقریر پر ڈیموکریٹ پارٹی کے اراکین نے شدید تنقید کی ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار ہورڈ ڈین نے کہا ہے کہ پندرہ منٹ کی تقریر سے پندرہ مہینوں سے امریکی عوام کو گمراہ کرنے کا ازالہ نہیں ہو سکتا کہ انہیں عراق کے خلاف جنگ میں جھونکا کیوں گیا تھا۔ ایک اور امیدوار جون کیری نے کہا ہے کہ صدر نے کئی سوالوں کے جواب نہیں دیے۔ صدر بش نے اپنی تقریر میں اقوامِ متحدہ کے ممبران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ موقعہ ہے اور یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عراق کو ایک آزاد اور جمہوری ملک بنانے میں وسیع کردار ادا کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عراق میں ان کی انتظامیہ کے تین مقاصد ہیں۔ ۔ دہشت گردوں کا خاتمہ ۔ آزاد عراق کے لئے دوسرے ممالک کی حمایت کو شامل کرنا ۔ اور عراقیوں کو اپنے دفاع اور مستقبل کی ذمہ داری کے حصول میں مدد دینا۔ صدر بش کی تقریر اس وقت ہو رہی ہے جب گیارہ ستمبر دو ہزار ایک میں نیو یارک اور واشنگٹن پر ہونے والے حملوں کی دوسری برسی بلکل قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دو سال پہلے کانگریس اور پورے ملک کو بتایا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک لمبی اور مختلف جنگ ہو گی اور یہ کئی محاذوں پر لڑی جائے گی۔ انہوں نے امریکیوں سے اپیل کہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |