طورخم کا جھگڑا سفارت کاری سے حل کرنے پر اتفاق

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, سید انور
- عہدہ, بی بی سی، کابل
طورخم میں پاکستان کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں پر غور کرنے کے لیے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں منگل کو قومی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی زیر صدارت ہوا جس میں اس مسئلہ کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
طورخم سے موصول ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سرحد پر دونوں ملکوں کی سکیورٹی فورسز میں کشیدگی بدستور موجود ہے اور منگل کو شام گئے تک وقفے وقفے سے بھاری اسلحے سے آر پار فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا۔
افغان قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں طورخم کے باڈر پر تعینات افغان فوجی دستوں کو بھی سراہا گیا۔
افغان سلامتی کونسل کے اجلاس میں اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ طورخم کا سرحدی تنازع جنگ کے ذریعے حل نہیں ہو گا اور اس کا حل سفارتی ذرائع سے ہی کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ دونوں ملکوں کی خارجہ امور کی وزارتوں نے اپنے اپنے ملک میں تعینات دوسرے ملک کے سفیر وں کو طلب کر کے طورخم پر ہونے والی جھڑپوں پر اپنے ملک کا اجتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔
پاکستان میں افغان سفیر عمر زخیوال جو منگل کو کابل میں موجود تھے انھوں نے سوشل میڈیا ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ ان کی پاکستان کےخارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیر اور پاکستان کی فوج کے سربراہ راحیل شریف سے فون پر بات ہوئی ہے۔
اسی پیغام میں افغان سفیر نے اس امید کا اظہار بھی کیا ہے کہ یہ مسئلہ آئندہ چند دنوں میں سفارتی سطح پر حل کر لیا جائے گا۔
صوبے ننگر ہار صوبوں کے مقامی صحافیوں کے مطابق منگل کی شام کو جب پاکستان کی طرف سے گیٹ کی تعمیر دوبارہ شروع کی گئی تو فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ تاہم اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں طرف حفاظتی نقطۂ نگاہ سے صحافیوں کو سرحد کے قریب جانے نہیں دیا جا رہا۔
طورخم جہاں سے ہر روز تین سے چار ہزار لوگ سرحد کے آر پار جاتے ہیں وہاں ہر طرف ویرانی چھائی ہوئی ہے۔ سرحد کے قریب دکانیں بند ہیں اور کسی کو بھی سرحد کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
دونوں طرف فوجیوں کی نفری میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔







