طورخم پر پاک افغان افواج کے درمیان دوبارہ جھڑپ

پاک افغان سرحدی مقام طورخم پر گذشتہ کچھ عرصہ سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاک افغان سرحدی مقام طورخم پر گذشتہ کچھ عرصہ سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان اور افغانستان کے سرحدی مقام طورخم پر ایک مرتبہ پھر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

یہ تنازع پاکستان کی جانب سے سرحد پر ایک گیٹ کی تعمیر پر شروع ہوا ہے اور اتوار کی رات سے پیر کی صبح تک جاری رہنے والے فائرنگ کے تبادلے میں ایک افغان فوجی ہلاک جبکہ 11 پاکستانیوں سمیت 17 افراد زخمی ہوئے تھے۔

٭ <link type="page"><caption> جنرل راحیل شریف کا فیصلہ، طورخم سرحد کھول دی گئی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/05/160513_torkham_opens_rh" platform="highweb"/></link>

٭ <link type="page"><caption> ’پاکستان کا طورخم پر سفری رعایت دینے پر غور‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/06/160602_pakistan_torkham_briefing_zz" platform="highweb"/></link>

طورخم کے تحصیل دارغنچہ گل نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا ہے کہ پیر کی شام ایک بار پھر افغان جانب سے فائرنگ شروع ہوئی جس کے جواب میں پاکستانی فوجیوں نے بھی جوابی کارروائی کی ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا آغاز پاکستان کی جانب سے گیٹ کی تعمیر دوبارہ شروع کیے جانے پر ہوا۔

،تصویر کا ذریعہISPR

اس سے قبل افغانستان کے چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ نے کہا تھا کہ طورخم میں پاکستان اور افغانستان کی سرحدی افواج کے درمیان جھڑپ کے بعد دونوں ممالک نے فائربندی پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان نے اتوار کی شب فائرنگ کے واقعے پر پیر کو اسلام آباد میں تعینات افغان ناظم الامور کو بھی طلب کیا تھا اور ان سے افغان فوج کی پاکستانی افواج پر بلااشتعال فائرنگ پر احتجاج کیا گیا۔

پیر کو دفترِ خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق افغان ناظم الامور کو بتایا گیا کہ فائرنگ کا واقعہ دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کی روح سے متصادم تھا۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے افغان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کی تفصیلی تحقیقات کرے اور نتائج سے پاکستان کو آگاہ کرے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مستقبل میں ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔

بیان کے مطابق اتوار کو ہونے والی فائرنگ کا مقصد ایک ایسے دروازے کی تعمیر روکنا تھا جو پاکستانی حدود کے اندر تعمیر کیا جا رہا ہے اور جس کا مقصد عوام اور گاڑیوں کی سرحد کے آر پار نقل و حمل کو آسان بنانا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ افغان سفارتکار کو بتایا گیا کہ طورخم کی سرحد پر نقل و حمل کی نگرانی پاکستانی حکومت کی بارڈر مینجمنٹ کو مضبوط بنانے کی پالیسی کا حصہ ہے اور اس سلسلے میں پاکستان افغان حکومت کا تعاون چاہتا ہے کیونکہ اس سے دونوں ممالک کی سکیورٹی میں بہتری آئے گی اور دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

پیر کو ہی پاکستان کے وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان کو افغان سکیورٹی فورسز کی جانب سے سرحد پر بلااشتعال فائرنگ کے واقعے پر شدید تشویش ہے۔

وزیرِاعظم ہاؤس کے ترجمان نے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ اس قسم کے بلااشتعال حملے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے لیے نقصان دہ ہیں اور پاکستان کو افغان حکومت سے امید ہے کہ وہ اس واقعے کی فوری تحقیقات کرے گی۔

یاد رہے کہ پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق اتوار کی شب پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق نو بج کر بیس منٹ پر افغان سکیورٹی فورسز کی طرف سے اچانک پاکستان کی طرف واقع طورخم گیٹ پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہAFP

طورخم کے تحصیل دار غنچہ گل نے بی بی سی اردو کے رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ پیر کی صبح چار بجے تک جاری رہا جبکہ اس وقت علاقے میں کرفیو نافذ ہے۔

انھوں نے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں دو ایف سی اہلکار ہلاک اور نو عام شہری زخمی ہوئے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی مقام طورخم پر گذشتہ کچھ عرصہ سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

رواں ماہ ہی باڑ کی تنصیب پر دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ ہوگئے تھے جس کی وجہ سے سرحد چار دن تک بند رہی تھی۔

چند دن پہلے پاکستانی حکام کی طرف سے طورخم کے مقام پر سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال کے عمل پر سختی سے عمل درآمد شروع کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے سرحد پار آنے جانے والوں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہوئی تھی۔

تاہم بعد میں پاکستانی حکام کی جانب سے سفری پابندیوں میں کچھ نرمی کردی گئی تھی۔