تین طلاقوں کے قانون کے خاتمے کا مطالبہ

- مصنف, سلمان راوی
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، اترکھنڈ
بھارت میں آج کل یکساں سول کوڈ یعنی یونیفارم سول کوڈ پر اتنی بحث کیوں ہے؟
بحث اس لیے ہو رہی ہے کیونکہ بھارتی مسلم مہیلا آندولن نامی ایک تنظیم نے تقریباً 50 ہزار مسلم خواتین کی دستخط شدہ یادداشت وزیراعظم نریندر مودی کو پیش کی ہے جس میں تین بار طلاق کو غیرقانونی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس یادداشت پر مسلم معاشرے کے بہت سے مردوں نے بھی دستخط کیے ہیں۔
بھارت کی سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ وہ واضح کرے کہ اس سلسلے میں وہ کیا کر رہی ہے۔
جس وقت ملک کا آئین بنایا جا رہا تھا اس وقت آئین سازوں نے کہا تھا کہ بھارتی شہریوں کے لیے ایک جیسا قانون بننا چاہیے۔
تاکہ اس کے تحت ان کی شادی، طلاق، جائیداد اور وراثت کی جانشینی کا فیصلہ کیا جا سکے جس کو مختلف مذہب کے لوگ اپنے اپنے حساب سے حل کرتے ہیں۔

ڈائریكٹیو پرنسپلز آف سٹیٹ پالیسی میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں تمام شہریوں کے لیے ایک یکساں سول کوڈ بنانے کی کوشش ہونی چاہیے۔
اس مسئلے پر بحث تو انگریزوں کے دور حکومت سے ہی شروع ہو گئی تھی۔ بھارت میں معاشرے کے تنوع کو دیکھ کر انگریز حکمران حیران تھے وہ اس بات پر بھی حیران تھے کہ چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلمان، یا پھر پارسی اور عیسائی، سب کے اپنے مختلف قاعدے قانون ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھیں قوانین کے تحت ان کا معاشرہ چلتا تھا اسی لیے برطانوی حکومت نے مذہبی معاملات کا تصفیہ انہی معاشروں کے روایتی قوانین کی بنیاد پر ہی کرنا شروع کر دیا۔
انگریزوں کے زمانے کے قوانین کے مطابق مسلمانوں کے قوانین میں مرد اور عورت کو دوبارہ نکاح کی اجازت، وراثت میں عورت کا بھی حصہ اور مرد کو تین بار طلاق کہہ کر عورت سے الگ ہونے کا حق شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
اس کے برعکس ہندوؤں کے قوانین میں بیواؤں کی شادی کی ممانعت، بچپن میں شادی کی اجازت کیونکہ شادی کی کوئی عمر مقرر نہیں، ایک سے زیادہ بیویوں کے رواج کی منظوری، عورت کوجائیداد یا وراثت کی جانشینی کا حق نہ دینا، عورت کو بیٹا گود لینے کی اجازت نہ ہونا اور شادی شدہ عورت کو بھی جائیداد میں کوئی حق نہ دینا شامل تھے۔
آئین سازوں نے ہندو سماج کی خواتین کو ان پر عائد پابندیوں سے آزاد کرانے کے لیے بل پیش کیا۔
خاص طور پر ڈاکٹر بی آر امبیدکر اس معاملے میں وزیراعظم جواہر لال نہرو سے متفق تھے مگر ہندو کوڈ بل کو پارلیمنٹ میں زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

مخالفت کرنے والےممبران پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ عوام کے منتخب کردہ نمائندے ہی اس بارے میں فیصلہ کریں گے کیونکہ یہ اکثریت ہندو معاشرے کے حقوق کا معاملہ ہے۔
کچھ لوگوں کی ناراضی یہ تھی کہ نہرو کی حکومت صرف ہندوؤں کو ہی اس قانون کا پابند بنانا چاہتی ہے، جبکہ دوسرے مذاہب کے لوگ اپنی رسم و رواج کے مطابق چل سکتے ہیں
ہندو کوڈ بل منظور تو نہیں ہو سکا لیکن 1952 میں ہندوؤں کی شادی اور دوسرے معاملات پر مختلف کوڈ بنائے گئے۔
1955 میں ہندو میرج ایکٹ بنایا گیا جس میں طلاق کی قانونی منظوری کے ساتھ ساتھ دوسری ذاتوں میں شادی کو بھی تسلیم کیا گیا جبکہ ایک سے زیادہ شادی کو غیر قانونی قرار دیدیا گیا۔

ہندوؤں کے لیے بنائے گئے قانون کے دائرے میں سکھوں، بدھ مت اور جین مت کے پیروکاروں کو بھی لایا گیا۔
انگریزوں کی حکومت کے زمانے سے ہی ہندوستان میں مسلمانوں کے شادی، بیاہ، طلاق اور وراثت کے معاملات کا فیصلہ شریعت کے حساب سے کیا جاتا رہا ہے۔
اس قانون کو ’مسلم لاء‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اگرچہ اس سے زیادہ وضاحت نہیں کی گئی ہے مگر ’مسلم لاء‘ کو ہندو کوڈ بل اور اس طرح کے دوسرے قوانین کے برابر کا درجہ حاصل ہے.
یہ قانون 1937 سے نافذ العمل ہے۔ اس قانونی نظام کو آئین میں مذہب کی آزادی کے حق یعنی آرٹیکل 26 کے تحت رکھا گیا ہے جس میں تمام مذہبی فرقوں اور مسالک کو عوامی نظام اور اخلاقیات کے معاملات کا خود انتظام کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔
لیکن 1985 میں مدھیہ پردیش کی رہنے والی شاہ بانو کو شوہر کی طرف سے طلاق دیے جانے کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا کہ انھیں زندگی بھر گزارا الاؤنس دیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہ
شاہ بانو کے معاملے پر خاصا ہنگامہ ہوا اور اس وقت کے وزیراعظم راجیوگاندھی کی قیادت میں مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں ’مسلم ویمن پروٹیکشن آف رائٹس آف ِڈوورس) ایکٹ پاس کرایا جس نے سپریم کورٹ کے شاہ بانو کیس میں دیے گئے فیصلے کو منسوخ کر دیا اورگزارا الاؤنس کو عمر بھر کے بجائے طلاق کے بعد کے 90 دن تک محدود کردیا گیا۔
اس کے ساتھ ہی سول میرج ایکٹ بھی آیا جو ملک کے تمام لوگوں پر نافذ ہوتا ہے۔
اس قانون کے تحت مسلمان بھی کورٹ میں شادی کر سکتے ہیں۔
ایک سے زیادہ شادیوں کو اس قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیا گیا اس ایکٹ کے تحت شادی کرنے والوں کو بھارت کے جانشینی ایکٹ کے دائرے میں ہی لایا جاتا ہے اور طلاق کی صورت میں گزارا الاؤنس بھی ایک جیسا ہی ہوتا ہے چاہے لوگ کسی کمیونٹی سے تعلق کیوں نہ رکھتے ہوں۔








