’صدر کلام مسلمان ہونے کے باوجود محب وطن تھے‘

،تصویر کا ذریعہAP

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

بھارت کے مرکزی وزیرِ ثقافت مہیش شرما نے کہا ہے کہ ملک کے سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام مسلمان ہونے کے باوجود مجب وطن اور انسانیت پرست تھے۔

مہیش شرما کے اس بیان پر حزبِ مخالف جماعتوں اور مسلم رہنماؤں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

وزیرِ ثقافت مہیش شرما نے ایک پرائیوٹ ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نئی دہلی میں مغل بادشاہ اورنگزیب کے نام سے منسوب ایک سڑک کا نام بدل کر اسے سابق صدر ڈاکٹر عبدلکلام کے نام پر رکھنے کا دفاع کیا۔

انھوں نے کہا ’اورنگزیب کوئی آیڈیل شخص نہیں تھا جس سے کسی کو ترغیب حاصل ہو۔ اورنگزیب روڈ کا نام بدل کر ایک ایسے عظیم شخص ڈاکٹر عبدالکلام کے نام پر رکھا گیا ہے جو مسلمان ہونے کے باوجود بڑے محب وطن اور انسانیت پرست تھے۔‘

حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس نے مہیش شرما کے بیان کو سابق صدر اور ملک کے مسلمانوں کی توہین قرار دیا ہے۔ پارٹی ترجمان پی سی چاکو نے وزیر اعظم نریندر مودی سے وزیر ثقافت کے بیان کی وضاحت طلب کی ہے۔

بھارتی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما ڈی راجہ نے مہیش شرما کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ان تنگ نظر مذہبی قوم پرستی کی عکاسی ہوتی ہے۔

مسلم رہمنا کمال صدیقی نے حکومت سے مہیش شرما کو کابینہ سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مجلس اتحادالمسلیمن کے رہنما اسد الدین اویسی نے شرما کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ آر ایس ایس کا بنیادی نظریہ ہے کہ اسلام اور مسیحی مذہب بھارت کے باہر سے آئے ہیں اس لیے مسلمانوں اور عیسائیوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

اویسی نے کہا ’مہیش شرما کا بیان آر ایس ایس کی اسی تنگ نظر مذہبی منافرت کا عکاس ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ مودی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو رہی ہے اس لیے اس طرح کے متنازع بیانات کے ذریعے وہ عوام کی توجہ اپنی ناکامیوں سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے ۔

خیال رہے کہ مہیش شرما کو آر ایس ایس سے قریب بتایا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ وہ بھارت کے کلچر کو مغربی اثرات کی ’کثافت‘ سے پاک کریں گے۔

انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سکولوں میں ہندو مذہبی کتابوں مہابھارت، رامائن اور گیتا کے اقتباسات شامل کیے جانے چاہئیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا قرآن اور انجیل بھی نصابوں میں شامل کی جانی چاہئیں تو انھوں نے جواب دیا کا قرآن اور انجیل بھارت کے مرکزی تصورات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

کچھ عرصے قبل بی جے پی کےایک رہنما نے کہا تھا ’یہ صحیح ہے کہ ہر مسلمان دہشت گرد نہیں ہے لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ جو دہشت گرد ہیں وہ سبھی مسلمان ہیں۔

ایک اور رہنما نے کہا تھا کہ مسلمانوں کی زیادہ شرح پیدائش روکنے کے لیے ان پر دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر پابندی لگا دینی چاہیے۔

بھارت میں نریندر مودی کی حکومت بننے کے بعد بی جے پی کے رہنماؤں اور اس کی حامی ہندو تنظیموں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف وقتاً فوقتاً بیانات آتے رہے ہیں۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس طرح کے بیانات کو وزیر اعظم کی حمایت حاصل ہے یا نہیں لیکن ملک میں شدید تنقید اور تشویش کے باوجود انھوں نے اپنے وزیروں اور رہنماؤں کے متنازع بیانات پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔