کشمیر میں دو فوجی گروہوں کے درمیان تصادم، دو اہلکار ہلاک

،تصویر کا ذریعہAP
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں فوج کے دو گشتی دستوں کے درمیان غلط فہمی کی وجہ سے ہونے والے تصادم میں کم از کم دو فوجی ہلاک ہوگئے۔
کشمیر سے ہمارے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا ہے کہ اطلاعات کے مطابق جنوبی کشمیر کے ترال قصبے کے قریب ان دونوں گروپوں نے ایک دوسرے کو شدت پسند سمجھ کر گولیاں چلانی شروع کر دیں جس کے نتیجے میں یہ ہلاکتیں ہوئیں۔
خیال رہے کہ ترال شہر انتہا پسندی سے بری طرح متاثر رہا ہے اور ایک سینیئر پولیس افسر کے مطابق کئی پڑھے لکھے نوجوان اس علاقے میں حالیہ دنوں شدت پسند گروہوں میں شامل ہوئے ہیں۔
پولیس افسر کا کہنا تھا: ’انتہا پسندوں نے حال ہی میں چند ویڈیوز پوسٹ کیے تھے جن میں وہ فوج کی وردی میں نظر آ رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ فوج کی گشتی ٹیم غلط فہمی کا شکار ہو گئی اور ایک دوسرے پر حملے کر دیے۔‘
دریں اثنا بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس نے شدت پسندوں سے تعلق رکھنے کے الزام میں بیرون ممالک رہنے والے ایک کشمیری ڈاکٹر کو گرفتار کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK
منگل کو پولیس نے شدت پسندوں کے خلاف ایک وسیع مہم چلائی۔ خفیہ محکمہ کے ایک افسر کے مطابق ڈاکٹر کی گرفتاری سے شدت پسندوں کی سرگرمیوں کے متعلق معلومات حاصل ہوئی ہیں۔
ڈاکٹر شاہد احمد بابا کو اتوار کو ان کے رشتہ داروں کے ساتھ سرینگر میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ سرینگر ہوائی اڈے کی طرف جا رہے تھے۔
بڈگام ضلع کے رہنے والے احمد بابا فی الحال برطانیہ میں مستقل طور پر رہ رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ شاہد احمد بابا برطانیہ کے مستقل رہائشی نہیں ہیں بلکہ وہ وہاں صرف کام کر رہے تھے اور ان کے پاس وہاں کام کرنے کا پرمٹ ہے۔







