ایمرجنسی کے دوران بہت کچھ سیکھنے کو ملا: مودی

،تصویر کا ذریعہShanti Bhushan
بھارت کی جمہوریت کی تاریخ میں سیاہ باب کے طور پر درج ایمرجنسی کے 40 برس مکمل ہونے کے موقع پر وزیر اعظم نریندرمودی نے جمہوریت کی اقدار کو مضبوط کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کی بات کہی ہے۔
بھارتی وزیراعظم نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ایمرجنسی کے دوران اس وقت کی سیاسی قیادت نے جمہوریت کو کچل کر رکھ دیا تھا۔
انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا ’ہمیں ان لاکھوں لوگوں پر فخر ہے جنہوں نے ایمرجنسی کی مخالفت کی۔ جن کی کوششوں کی وجہ سے ہی ہماری جمہوریت کا ڈھانچہ محفوظ ہوا ہے۔‘
انہوں نے اپنے ٹویٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ ایمرجنسی کے خلاف چلنے والی تحریک کے دوران جمہوریت کی بحالی کے لیے لڑ رہے رہنماؤں سے سیکھنے کے لیے ایمرجنسی ایک موقعے کی طرح تھی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے لکھا ہے کہ اس دور کے سرکردہ رہنما جے پرکاش نارائن سے متاثر ہوکر بہت سے مرد اور خواتین جمہوریت کے تحفظ کے لیے اس تحریک میں کود پڑے تھے۔
لبرل جمہوریت
یہ سنہ 1974 کی بات ہے جب اندرا گاندھی کی حکومت نے 25 جون کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کی حکومت جمہوری طریقے سے منتخب حکومت تھی لیکن اپوزیشن کو کچلنے کے لیے انہوں نے ملک میں ایمرجنسی لگائی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارت کے بہت سے سیاسی رہنماؤں نے اندرا گاندھی کے اس فیصلے کے خلاف ملک گیر تحریک شروع کی تھی اور جمہوریت کو بحال کرانے میں اہم رول ادا کیا تھا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹ کر کے کہا ہے ’ایک متنوع اور آزاد جمہوریت ملک کی ترقی کی بنیاد ہے۔ ہمیں اپنی جمہوری قدروں اور کرداروں کو مزید مضبوط بنانے کے ہرممکن کوشش کرنی چاہیے۔‘







