افغانستان: فرخندہ قتل معاملے میں 11 پولیس اہلکاروں کو قید

فرخندہ کو مشتعل ہجوم نے مارچ میں پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا تھا
،تصویر کا کیپشنفرخندہ کو مشتعل ہجوم نے مارچ میں پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا تھا

افغانستان میں ایک عدالت نے مارچ میں پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دی جانے والی ایک خاتون فرخندہ کے معاملے میں 11 پولیس اہلکاروں کو ایک ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔

انھیں یہ سزا اس خاتون کو مشتعل ہجوم سے بچانے میں ناکامی کے الزام میں دی گئی ہے۔

رواں سال 19 مارچ کو دارالحکومت کابل کے وسط میں 28 سال کی فرخندہ کو لوگوں نے قرآن مجید کو نذر آتش کرنے کے الزام میں پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا تھا لیکن عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسا نہیں کیا تھا۔

اس واقعے کے بعد خواتین کے خلاف ناروا سلوک پر وسیع پیمانے پر احتجاج اور مظاہرے ہوئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق فرخندہ نے شاہ دو شمشائرہ مزار پر خواتین کو تعويذ گنڈے فروخت کیے جانے کی مخالفت کی تھی اور وہیں کے تعویذ فروخت کرنے والے نے ان پر جھوٹے الزام لگائے تھے۔

یہ مزار ایوان صدر اور کابل کے اہم بازار سے زیادہ دور نہیں ہے۔

فرخندہ کی ہلاکت کے بعد وسیع پیمانے پر مظاہرے کیے گئے تھے
،تصویر کا کیپشنفرخندہ کی ہلاکت کے بعد وسیع پیمانے پر مظاہرے کیے گئے تھے

فرخندہ کے قتل کے معاملے میں عدالت نے چھ مئی کو چار افراد کو موت کی سزا سنائی ہے جن میں وہ تعویذ بیچنے والا بھی شامل ہے۔

عدالت میں کل 49 لوگوں کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔ عدالت نے چار دن کی سماعت کے بعد ہی اپنا پہلا فیصلہ سنا دیا تھا۔

اس معاملے میں آٹھ لوگوں کو 16 سال قید کی سزا بھی ہوئی ہے اور آٹھ پولیس اہلکاروں سمیت 26 افراد کو الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔

عدالت میں چند ملزمان کے اعترافی بیان پڑھ کر سنائے گئے جن میں انھوں نے اعتراف کیا کہ انھوں نے فرخندہ پر حملہ قرآن جلانے کے الزام کی وجہ سے کیا۔

ایک سرکاری تفتیش کار کے مطابق ایسے شواہد نہیں ملے جس سے یہ ثابت ہو کہ فرخندہ نے قرآن مجید کو نذر آتش کیا ہو۔