ہجوم کے ہاتھوں افغان خاتون کی ہلاکت پر چار کو سزائے موت

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
افغانستان کے دارالحکومت کابل کی ایک عدالت نے ایک 28 سالہ خاتون کو مار مار کر ہلاک کرنے کے جرم میں چار افراد کو سزائے موت سنا دی ہے۔
رواں برس 19 مارچ کو کابل میں ہلاک کی جانے والی فرخندہ پر قرآن نذرِ آتش کرنے کا الزام لگایا گیا تھا، اگرچہ گواہوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسا نہیں کیا تھا۔
اس الزام کے بعد ایک ہجوم نے انھیں سرِعام مار مار کر ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاش کو آگ لگا دی تھی۔
جن چار افراد کو سزائے موت سنائی گئی ہے وہ ان 49 افراد میں شامل تھے جن پر الزام ہے کہ وہ خاتون کو ہلاک کرنے والے ہجوم میں شامل تھے۔
ان 49 افراد میں 19 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جن پر الزام ہے کہ انھوں نے فرخندہ کو مشتعل ہجوم سے بچانے کی کوشش نہیں کی۔
فرخندہ کی موت کے بعد عورتوں سے کیے جانے والے ناروا سلوک کے خلاف افغانستان بھر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے۔
فرخندہ نے ایک مولوی کی جانب سے خواتین کو تعویز گنڈے بیچنے پر اس سے بحث کی تھی اور اسی بحث کے دوران اس پر قرآن جلانے کا الزام لگایا گیا جس کی وجہ سے ہجوم نے اس پر حملہ کر دیا تھا۔
عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران کچھ ملزمان کے اعترافی بیان پڑھ کر سنائے گئے تھے جن میں انھوں نے اعتراف کیا کہ انھوں نے فرخندہ پر حملہ قرآن جلانے کے الزام کی وجہ سے کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم ایک سرکاری تفتیش کار کے مطابق ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے ثابت ہو کہ فرخندہ نے قرآن کو جلایا ہو۔







