قطر کے اجلاس میں افغان حکومت اور طالبان کی شرکت

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, سید انور
- عہدہ, بی بی سی، کابل
افغان حکام نے کہا ہے کہ ایک 20 رکنی وفد طالبان کے نمائندوں کے ساتھ ایک کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے قطر گیا ہے۔
اس وفد میں افغانستان امن کونسل کے کچھ نمائندے اور اور بعض آزاد سیاسی شخصیات شامل ہیں۔
افغان امن کونسل کے نائب سربراہ عطاء اللہ لودین نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا ہے کہ یہ وفد اتوار اور پیر کے روز طالبان کے ساتھ گفتگو میں شرکت کرے گا۔
لودین کے مطابق اس کانفرنس میں افغانستان، پاکستان، طالبان اور کچھ دیگر افراد شامل ہوں گے اور اس کانفرنس میں افغانستان میں قیام امن کے مسئلے پر گفتگو ہو گی۔
انھوں مزید کہا ہے کہ افغان امن کونسل کے ارکان قطر میں گلبدین حکمت یار کی قیادت میں حزب اسلامی پارٹی کے دو نمائندوں کے ساتھ بھی ملاقات کریں گے۔
طالبان کے علاوہ حکمت یار کی حزب اسلامی پارٹی بھی حکومت اور ملک میں غیر ملکی افواج کے خلاف جنگ میں شامل ہے۔
دوسری جانب عبدالحکیم مجاہد، افغان اعلیٰ امن کونسل کے قائم مقام سربراہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دوحا کانفرنس میں افغان وفد میں کونسل کے آٹھ افراد موجود ہیں لیکن یہ لوگ سرکاری طور پر حکومت کی نمائندگی نہیں کریں گے۔
اس صورتحال میں جو اہم سوال سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا یہ کانفرنس افغان حکومت اور طالبان کے درمیان رسمی مذاکرات نہیں ہیں، کیا اس طرح کے کانفرنسوں کا افغانستان کی حالات پر کوئی مثبت اثر ہوگا؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہی سوال افغان امن کونسل کے قائم مقام سربراہ سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’افغانوں کااس طرح کے کانفرنسوں میں شرکت کرنا ملک میں قیام امن کے مفاد میں مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔‘
یہ کانفرنس ’بگواش‘ نامی ادارے کی جانب سےمنعقد کی گئی ہے۔
طالبان نے بھی قطر میں افغانستان کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس میں شرکت کرنے کی تصدیق کی ہیں۔ طالبان کے ترجمان نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اپنے آٹھ افراد پر مشتمل وفد کے ناموں کا اعلان بھی کیا ہے۔
تاہم طالبان نے اس بیان میں سرخ لکیر میں لکھا ہے کہ ’ پگواش نامی ادارے کی جانب سے قطر میں منعقدہ کانفرنس میں طالبان کے وفد کی شرکت کا مقصد امن مذاکرات کرنا نہیں ہے اور نہ ہی اس کانفرنس میں کوئی کسی کی رسمی نمائندگی کرے گا بلکہ ہر کوئی انفرادی طور پر بات کرے گا۔‘
لیکن کہانی جو بھی ہو، چاہے طالبان کے نمائندوں اور افغان امن کونسل کے ارکان کی اس کانفرنس میں شرکت رسمی ہے یا نہیں، کم از کم ایک بات واضح ہے کہ افغانستان میں قومی اتحاد حکومت سامنے آنے کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ افغان امن کونسل کے ممبران اور طالبان ایک ہی چھت کے نیچے ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کریں گے۔
افغانستان میں کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس کانفرنس سے نئی افغان حکومت اور طالبان کو ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔
لیکن نتیجہ کیا ہوگا، ابھح واضح نہیں ہے، کیونکہ طالبان نے دو سال پہلے قطر کے دارالحکومت دوحا میں اپنا سیاسی دفتر کھولا تھا، لیکن دفتر پر جھنڈے کے تنازعے کے باعث افغان امن مذاکرات کے لیے کی جانے والی کوشش کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوئی تھیں۔
افغانستان میں قیام امن اور طالبان کے ساتھ مذاکرات نئی افغان حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، لیکن ابھی تک کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔







