چينی صدر کا دورہ پاکستان اور بھارتی تشویش

،تصویر کا ذریعہAP
چین کے صدر شی جی پنگ نے جس انداز میں پاکستان کی پارلیمان سے خطاب کیا اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے بہت سے پاکستانیوں کے خواب پورے ہوگئے ہیں۔
لیکن چینی صدر کا یہ دورہ اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اس سے بھارتی وزیر اعظم کے مئي کے وسط میں چین کے دورہ سے قبل چینی صدر کی بھارت سے متعلق سوچ کا بھی پتہ چل سکتا ہے۔
گزشتہ ستمبر میں شی جی پنگ کو بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی جانا تھا لیکن وہ دلی میں کئی دور کے مذاکرات اور پھرگجرات میں مودی کے ساتھ روایتی سوئنگ میں الجھ كررہ گئے تھے۔
چینی صدر کے اس دورہ کا ایک اہم مقصد چین اور پاکستان کے درمیاں مجوزہ اقتصادی راہداری ہے اور یہ اقتصادی راہداری كاشغر سے صوبہ بلوچستان میں گوادر بندرگاہ تک ہوگی۔
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شی جی پنگ کا یہ دورہ پاکستان جنوبی ایشیا کی شکل تبدیل کر سکتا ہے کیونکہ چین بحیرہ عرب تک پاکستان کی زمین کا استعمال مشرق وسطی سےتیل حاصل کرنے کے لیے کر رہا ہے۔
اس موقع پر یہ دیکھنا بہت دلچسپ ہوگا کہ پاکستان اور چین کےلیے یہ ملاقات تو خوش آئند ہو سکتی ہے لیکن بھارت کے لیےتشویش کا باعث بھی۔
چین کا نقطہ نظر

چین کا منصوبہ ہے کہ مشرق وسطی سے آنے والا تیل پہلےگوادر کی بندرگاہ تک اور پھر وہاں سے مجوزہ راہداری سےسڑک اور ریل کے راستے سے اس کی سرحد تک آسانی سے پہنچایا جا سکےگا۔
اس مقصد کے لیے اسے ابھی تک تقریباً بارہ ہزار کلو میٹر کا طویل بحری راستہ طے کرنا پڑتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کا نقطہ نظر
اس راستے کے تعمیر کے ساتھ ہی اس راہداری میں بجلی پیداکرنے والی تنصیبات بھی لگائی جائیں گي جس کی پاکستان کوسخت ضرورت ہے۔
چین کے پیسوں سے گوادر بندرگاہ کا پہلا مرحلہ سنہ 2006 میں مکمل ہو گیا تھا لیکن اب تک کوئی کمال نہیں ہوا ہے۔ ابھی تک اس کی خوبیوں یا خامیوں کا پتہ نہیں چل پایا اس لیے چین نےایک بار اسے آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔
چینی نیوز ایجنسی نے اسلام آباد میں ’کونسل آف ورلڈ افیئرز‘ کے خالد محمود کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’پاکستان کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے خطے میں صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گی۔ پاکستان خلیج سے توانائی کی منتقلی کا مرکز بھی بن جائے گا۔‘
خالد محمود کا کہنا ہے کہ ’اس سے چین خلیجی علاقے، افریقہ، یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں سے بآسانی اور کم وقت میں جڑسکے گا۔‘
بھارت کی تشویش

،تصویر کا ذریعہThinkstock
بھارت کو سیکورٹی وجوہات کی بنا پر بھی فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ گوادر جیسے گہرے سمندر کی بندرگاہ میں چین کی موجودگی آج تو صرف تجارتی وجوہات کی وجہ سے ہوسکتی ہے لیکن اس بات کا امکان بہت غالب ہے کہ یہ چین کی بحریہ کے لیے ایک بحری اڈہ بن جائے اور مستقبل میں یہاں چین پاکستانی بحریہ کے ساتھ مل کر کام کرے۔
بحیرہ عرب کا پھیلاؤ بھارت کے ممبئی جیسے شہروں تک ہے۔ پہلے بھی ممبئی حملوں کے دوران شدت پسندوں نے پاکستان سےممبئی تک سفر بحیرہ عرب میں ہوکر طے کیا تھا۔
بعض بھارتی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بھارت کو اتنا زیادہ ڈرنے کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کیونکہ اس منصوبے کی تکمیل میں ابھی بہت وقت لگے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی راہ میں پاکستان کی سیاسی بے چینی، شدت پسندی کا بحران اور چینی صوبے شن جیانگ(جہاں سے یہ راستہ شروع ہونا ہے) میں اسلامی علیحدگی پسندی کی تحریک جیسے روڑے آ سکتے ہیں۔
لیکن اس طرح کی سوچ کا مطلب چینی بلڈرز کی مالی طاقت اوران کی ضد کو بہت کم کر کے دیکھنا ہے۔
بہت سے ناقد جنہوں نے ماضي میں اس طرح کی باتیں کی تھیں کہ چین کی کوششیں ناکام ہوں گی یا غبارے کی طرح پھوٹ جائیں گی، ماضی میں بری طرح غلط ثابت ہو چکے ہیں۔







