’خفیہ دستاویزات‘ افشا کرنے پر چینی صحافی کو سات سال قید

،تصویر کا ذریعہAFP
چین میں عدالت نے ایک سینیئر صحافی کو خفیہ دستاویزات ایک غیرملکی ویب سائٹ کو دینے کے الزام میں سات سال قید کی سزا سنا دی۔
بیجنگ میں قائم عدالت نے 71 سالہ گاؤ یو کو سزا سناتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ’غیرقانونی طور پر ریاستی راز غیر ملکیوں کو فراہم کیے۔‘
چین نے افشا کیے جانے والی دستاویزات کے بارے میں تو واضح طور پر کچھ نہیں کہا ہے لیکن خیال ہے کہ یہ کمیونسٹ پارٹی کی حکمتِ عملی کی دستاویزات تھیں جنھیں ’دستاویز نمبر نو‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ دستاویز جمہوریت، سول سوسائٹی اور پریس کی آزادی پر کنٹرول کے بارے میں ہے۔
حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یو گاؤ کی سزا کو ’انصاف کی توہین‘ قرار دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
تنظیم کا کہنا ہے کہ ’گاؤ ریاستی رازوں کے مبہم قانون کا نشانہ بنی ہیں جسے حکام اظہار رائے کی آزادی کے حامی افراد کے خلاف استعمال کرتے ہیں‘۔
یو گاؤ کے وکیل شینگ باؤجن کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ’مایوس کن‘ ہے اور وہ اس کے خلاف اپیل کریں گے۔
گاؤ کو اپریل 2014 میں حراست میں لیا گیا تھا جس کے چند ہفتوں بعد سرکاری ٹی وی پر ان کی ایک ویڈیو نشر کی گئی تھی جس میں وہ اعتراف کر رہی تھیں کہ ان سے’بڑی غلطی‘ ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چینی صحافی کے وکلا کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ بیان اپنے بیٹے کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دیے جانے کے بعد ریکارڈ کروایا تھا۔
خیال رہے کہ یو گاؤ ماضی میں 1990 کی دہائی میں بھی قید رہ چکی ہیں۔ اس وقت ان پر صدر تیانگ زن من کی تقریر ہانگ کانگ کے ایک اخبار کو فراہم کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔







