چین نے خواتین کے حقوق کی کارکنوں کو رہا کر دیا

،تصویر کا ذریعہReuters
انسانی حقوق کے کارکنوں نے چین میں پانچ خواتین کارکنوں کی رہائی کا خیرمقدم کیا ہے۔
ان پانچ چینی کارکنوں کو ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک قید میں رکھا گیا تھا۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ رہائی عالمی سطح پر ان گرفتاریوں کے خلاف آواز اٹھانے کے نتیجے میں ممکن ہو سکی ہے۔
خیال رہے کہ آٹھ مارچ کو منائے جانے والے عالمی یوم خواتین کے موقعے کی مناسبت سے ان خواتین نے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف مظاہرے کا منصوبہ بنایا تھا، اور انھیں اس سے قبل ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔
اور امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین نے ان کی رہائی کی اپیل کی تھی۔
ان پانچوں پر کوئی چارج نہیں لگایا گیا تاہم ان کی ضمانت کی شرائط میں یہ بات ہے کہ ان پر بعد میں چارج لگایا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ان کے وکیل لیانگ شیاؤجون نے کہا کہ انھیں حکام کو اپنے بارے میں مسلسل اطلاع دینی ہوگی کہ وہ کہاں ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کی مایا وانگ نے ان کی رہائي کے بعد ٹوئٹر پر لکھا کہ اس سے ’ایسا لگتا ہے کہ بین الاقوامی دباؤ چین پر اثر انداز ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ بہت مضبوط ہو۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی ولیم نی نے ایک بیان میں کہا: ’رہائی ایک اہم پیش رفت ہے لیکن اب حکام کو ان خواتین پر لگنے والے تمام الزامات واپس لینے چاہییں اور ان پر عائد پابندیاں ختم کرنی چاہیے۔‘
چینی کیمپین گروپ ’ییرنپنگ‘ کی شریک بانی لو جن نے کہا کہ ’ان خواتین کی حراست ناانصافی کی واضح مثال ہے۔‘
اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی رہائی کے لیے کی جانے والی وکالت نے اس بات کو مزید تقویت بخشی ہے کہ ’چین میں خواتین کے حقوق کے قانونی تحفظ کی مزید ضرورت ہے‘ اور یہ کہ ’چین میں قانونی کی بالادستی مضبوط ہوئي ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
چینی حکام نے آخری ممکنہ وقت تک ان کی رہائی روکے رکھی۔ لیکن جب عدالت نے یہ فیصلہ سنایا کہ یا تو ان خواتین کو رہا کیا جائے یا پھر ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے تو پھر حکام نے ’جھگڑا کرنے اور مشتعل کرنے‘ کے الزامات کے ساتھ مقدمہ دائر کرنے کے بجائے انھیں رہا کر دیا۔
یہ خواتین اب ضمانت پر رہا ہیں لیکن وہ پولیس کی نگرانی میں ہوں گی۔ یہ خواتین چین میں خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم گروپ کا حصہ ہیں۔ ان میں ییرنپنگ تنظیم کی خواتین بھی شامل ہیں اور یہ گروپ عورت اور مرد میں مساوات کے پروگرام منعقد کرنے میں سرگرم ہے۔
بہت سے لوگوں نے ان خواتین کی گرفتاری کو چین میں شہریوں کے حقوق اور ان کی سرگرمیوں پر قدغن کے خطرے کے طور پر دیکھا تھا۔
چین نے پیر کو کہا کہ اس نے امریکی وزیر خارجہ کے بیان کے خلاف ایک باضابطہ شکایت درج کی ہے جس میں انھوں نے ان خواتین کی بلاشرط رہائی کی بات کہی تھی۔







