کشمیر میں مٹی کا تودہ گرنے سے 15 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہEPA
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں چاڈورہ قصبے میں مٹی کا تودہ گرنے سے ایک ہی خاندان کے 12 افراد سمیت 15 افراد ملبے تلے دب جانے سے ہلاک ہو گئے ہیں۔
اس دوران دریائے جہلم میں پانی کی سطح سیلاب کے خطرے سے نیچے آگئی ہے۔
اس سے قبل حکومت نے سیلابی کے خطرے کے پیشِ نظر تمام سکولوں اور کالجوں کو بند کردیا تھا۔
سڑکوں اور شاہراہوں پر بارشوں کا پانی جمع ہونے کی وجہ سے عام تجارت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
دریائے جہلم میں پانی کی سطح بلند ہونے اور مسلسل بارشوں کے باعث کم سے کم 200 خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
اس سے پہلے کشمیر میں چھ ماہ قبل ہی آنے والے صدی کے بدترین سیلاب میں کم سے کم 250 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پولیس کے مطابق مٹی کا تودہ سری نگر سے 15 کلومیٹر دور واقعے چاڈورہ نامی علاقے میں مکانات پر گرا۔

،تصویر کا ذریعہAP
امدادی کارکنوں نے ملبے سے 15 لاشیں نکال لی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے 20 کے قریب امدادی کیمپ قائم کیے ہیں اور نشیبی علاقوں کے لوگوں سے وہاں منتقل ہونے کو کہا ہے۔
قدرتی آفات اور موسمی تبدیلیوں کے ماہر شکیل رامشو کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس ستمبر میں جو سیلاب آیا تھا اس کی وجہ سے زمین کے اندر پانی کی سطح بڑھ گئی ہے اور نیا پانی جذب کرنے کی صلاحیت ابھی موجود نہیں ہے۔
شکیل رامشو کہتے ہیں ’ویسے بھی جب ایک صدی بعد کوئی سیلاب آتا ہے اور ایک ہی سال میں دوسرے سیلاب کا خطرہ موجود رہتا ہے۔‘
رفیع آباد کے شہری عبدالغفار نے بتایا ’اتوار کو دن بھر حکومت کہتی رہی خطرے کی کوئی بات نہیں ہے اور پھر رات کو 12 بجے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ گزشتہ برس بھی لوگوں کو دھوکے میں رکھا گیا۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ سرینگر اور اس کے گردونواح میں عارضی رہائش اور کھانے پینے کا پیشگی انتظام رکھا جا رہا ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ برس آنے والے سیلاب کی وجہ سے جموں و کشمیر کی مجموعی اقتصادیات کو ایک لاکھ کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔
ابتدائی تخمینوں کے مطابق سیلاب کی وجہ سے ساڑھے تین لاکھ مکانات گر گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہMAJID JAHANGIR







