عوامی مقامات پر رقص عمررسیدہ چینی خواتین کا مقبول مشغلہ

حکومت نے کھیلوں کے محکمے اور وزاعتِ ثقافت کی ذمہ داری لگائی ہے کہ وہ رقص کے لیے قواعدو ضوابط ترتیب دے

،تصویر کا ذریعہGetyy

،تصویر کا کیپشنحکومت نے کھیلوں کے محکمے اور وزاعتِ ثقافت کی ذمہ داری لگائی ہے کہ وہ رقص کے لیے قواعدو ضوابط ترتیب دے

اطلاعات کے مطابق چین میں عوامی مقامات پر رقص کرنے والوں کو مستقبل میں حکومتی قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کرنا پڑے گا۔

عوامی مقامات پر رقص عمررسیدہ چینی خواتین میں ایک مقبول مشغلہ ہے۔ لیکن مقامی لوگ موسیقی کے شور کی وجہ سے ان کو پسند نہیں کرتے۔

سرکاری اخبار ’ڈیلی چائنہ‘ کے مطابق لوگوں کی جانب سے شکایات کی وجہ سے حکام نے ان کے رقص کو منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اخبار میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق کوئی بھی گروپ جو اب عوامی مقام پر رقص کرنا چاہے گا ان کو اپنے رقص کو حکومت کے منظور شدہ 12 معمول تک محدود رکھنا پڑے گا۔

حکومت نے کھیلوں کے محکمے اور وزاعتِ ثقافت کی ذمہ داری لگائی ہے کہ وہ رقص کے لیے قواعدو ضوابط ترتیب دے۔

کھیلوں کے محکمے کے عہدیدار لی گیوانگ نے اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عوامی مقامات پر رقص چینی ثقافت کے اجتماعی پہلو کو اجاگر کرتا ہے مگر ضرورت سے زیادہ پرجوش شرکا کے مقامی لوگوں کے ساتھ شور اور جگہوں پر تنازعات کی وجہ سے اس کو نقصان پہنچا ہے۔ لہذا لوگوں کی رہنمائی کے لیے ہمیں قومی معیار کے قواعد و ضوابط بنانے پڑیں گے۔‘

اخبار کی ویب سائٹ کے مطابق رقص کے نئے معمول کو ایک ماہر نے ترتیب دیا ہے اور رقص کروانے کے لیے 600 انسٹکٹرز کو تربیت دی گئی ہے۔

حال ہی میں انسٹکٹر کی تربیت مکمل کرنے والے وینگ گوانگچینگ کا کہنا ہے کہ ’ رقص کی منظم مشقیں اس مقبول مشغلے کو سماجی لحاظ سے قابلِ قبول طریقے سے کرنے میں مدد دیں گی۔‘

کچھ تفصیلات ابھی واضع نہیں جیسے کہ کہاں اور کب لوگ رقص کر سکیں گے اور میوزک کتنا اونچا چلایا جا سکے گا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ چین میں عوامی مقامات پر رقص کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور کچھ لوگ تو یہ مشغلہ بیرونِ ملک بھی لے گئے ہیں۔

2014 میں روس اور فرانس میں بھی چینی افراد کو عوامی مقامات پر رقص کرتے دیکھا گیا ہے۔