افغانستان: برفانی تودے گرنے سے ہلاکتیں 210 سے زائد

صرف شمالی صوبہ پنج شیر میں ہی کم از کم 187 افراد ہلاک ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنصرف شمالی صوبہ پنج شیر میں ہی کم از کم 187 افراد ہلاک ہوئے ہیں

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں تباہ کن برفانی تودوں کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد 214 تک پہنچ گئی ہے۔

یہ ہلاکتیں شمالی صوبہ پنج شیر اور صوبہ بدخشاں میں ہوئی ہیں۔

پنج شیر کا صوبہ اس قدرتی آفت سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں کم از کم 187 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 129 زخمی ہیں۔

علاقے میں حادثے کے دوسرے روز بھی ریسکیو کا کام جاری ہیں تاہم برفباری کی وجہ سے اس میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

دور دراز دیہاتوں تک جانے والی سڑکیں تاحال بند ہیں۔

پنج شیر میں امدادی کارروائیوں کے سربراہ واعظ برمک نے بی بی سی کو بتایا کہ متاثرہ علاقے میں خوراک اور امداد پہنچی تو ہے لیکن سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے امدادی آپریشن متاثر ہو رہا ہے۔

مقامی افراد زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کا کام ہاتھوں سے کر رہے ہیں اور واعظ برمک کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

سردی کی شدت میں اضافہ اچانک ہوا اور لوگ اس کے لیے تیار نہیں تھے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسردی کی شدت میں اضافہ اچانک ہوا اور لوگ اس کے لیے تیار نہیں تھے

صوبہ پنج شیر کے قائم مقام گورنر رحمان کبیری کا کہنا ہے کہ انھوں نے تین دہائیوں میں اتنے زیادہ برفانی تودے گرنے کے واقعات نہیں دیکھے۔

بدخشاں کے مختلف علاقوں میں برفانی تودے گرنے سے 27 افراد مارے گئے ہیں جن میں عورتوں اور بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 14 افراد بھی شامل ہیں۔

رواں برس افغانستان میں موسمِ سرما کی شدت قدرے کم تھی اس لیے حالیہ برفانی تودے گرنے کے واقعات دھچکا ہیں۔

سردی کی شدت میں اضافہ اچانک ہوا اور لوگ اس کے لیے تیار نہیں تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تدفین برف کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے اور ریسکیو اہلکاروں کو برف کے باعث اس علاقے میں پہنچنے میں دقت ہو رہی ہے۔

اگرچہ برفانی تودے گرنا اس علاقے میں عام ہے لیکن ایسے واقعات میں اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں 2010 میں سالانگ کے علاقے میں ہوئی تھیں جب 165 افراد ہلاک ہوئے تھے۔