دوسری ذاتوں میں شادی کرنے پر نقد انعام

بھارت میں کئی لوگ اب بھی دوسری ذاتوں میں شادی کرنا معیوب سمجھتے ہیں

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنبھارت میں کئی لوگ اب بھی دوسری ذاتوں میں شادی کرنا معیوب سمجھتے ہیں

بھارت کی ریاست اتر پردیش میں سرکار مختلف ذات کے لوگوں کے درمیان شادیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے نقد انعام دے رہی ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اتر پردیش سرکار شادی شدہ جوڑوں کو 50 ہزار روپے نقد کے علاوہ میڈل اور سرٹیفیکیٹ بھی دی رہی ہے ـ صرف ایک شرط ہے کہ دولھا یا دلھن میں سے ایک بھارت کی کسی ’درج شدہ ذات‘ سے ہوں۔

درج شدہ ذات ’شیڈیولڈ کاسٹ‘ سے مراد ہندو سماج میں سب سے نچلی ذاتیں ہیں جو سرکار کے مطابق سماجی اور معاشی طور پر سب سے پسماندہ ہیں۔

بھارت میں دوسری ذات میں شادی کرنا اب بھی معیوب سمجھا جاتا ہے اور کئی جوڑے اپنے ہی خاندان کے ہاتھوں عزت یا غیرت کے نام پر قتل کر دیے جاتے ہیں ـ

سماجی کارکنوں نے اترپردیش سرکار کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس دقیانوسی روایت کے خاتمے کا موقع ملے گا۔

روہت چوہدری خود بھی ایسی ہی ایک شادی کے بندھن میں بندھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’انعام کی رقم کے باوجود یکدم لوگوں کی سوچ کو بدلنا تو مشکل ہے لیکن پھر بھی یہ ایک مثبت قدم ہے۔ ہر کسی کو حق حاصل ہے کہ وہ جس کے ساتھ بھی چاہے اپنی زندگی بسر کر سکے۔ ذات یا مذہب کے نام پر کسی کو بھی ہراساں نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

انعام کی رقم حاصل کرنے کے لیے شادی شدہ جوڑوں کو شادی کے سرٹیفیکیٹ کی توثیق مجسٹریٹ سے کروانی پڑے گی جس کے بعد سرٹیفیکیٹ کو لوکل اتھارٹی کو ارسال کر دیا جائے گا۔

میرٹھ شہر میں آٹھ ایسے جوڑوں نے اپنی درخواستیں جمع کروا دی ہیں اور آٹھ فروری کو اجتماعی تقریب میں وہ شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے۔