سموسہ بوائے اور جلیبی گرل کے کارنامے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

    • مصنف, گیتا پانڈے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی

بھارتی اپنے پسندیدہ چٹ پٹے کھانوں یا سنیکس کے بغیر نہیں رہ سکتے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ ایک بھارتی فنکار نے ملک کے مختلف علاقوں کے مقبول سنیکس کو اپنے خاکوں اور ڈرائنگز میں سپر ہیروز کی شکل میں پیش کیا ہے۔

دلی میں مقیم آرٹسٹ راجکمال ایچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے اپنے فن کے اظہار کے لیے سموسے، جلیبی اور لڈّو کا انتخاب اس لیے کیا کہ بھارت میں گفتگو کا آغاز کھانے کی بات سے ہی ہوتا ہے اور ایک ارب بیس کروڑ انسانوں کے اس بڑے ملک میں جو چیز لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے وہ سموسہ، جلیبی اور لڈو ہی ہیں۔

’اگر آپ کھانوں یا سنیکس کی بات کریں تو بھارت کی ہر ریاست کی کوئی نہ کوئی سوغات ضرور ہے، لیکن دیکھا جائے تو یہ تمام سوغاتیں بھارتی ہیں۔ رس گُلا کہنے کو تو بنگال کی مخصوص مٹھائی ہے لیکن ہر جگہ لوگ اسے شوق سے کھاتے ہیں۔ اسی طرح ڈھوکلا گجرات کی مشہور سوغات ہے لیکن ملک کے دیگر حصوں میں بھی اسے اتنا ہی پسند کیا جاتا ہے۔‘

اپنی ہر ڈرائنگ کے پیچھے راجکمال ایچ نے کوئی پیچیدہ، طویل کہانی بنائی ہوئی ہے جس میں روز مرہ کھانوں کی ان عام اشیا کو کہانی کے کمزور اور پسے پوئے کرداروں کی مدد کو آتے دکھایا گیا ہے۔

آرٹسٹ کا کہنا ہے کہ ان کی تمام کہانیاں آج کل کے بھارتیں کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرتی ہیں اور ان کہانیوں کے کردار وہی ہیں جو ہمیں آج کے بھارت میں دکھائی دیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

’مِستی دوئی‘ یا میٹھا دہی بنگال کا ایک روائتی میٹھا ہے جو کولکتہ میں نہایت مقبول ہے جہاں راجکمال پیدا ہوئے اور اپنا بچپن گزارا۔ کہانی میں ’مِستی دوئی مین‘ ایک سرکاری کلرک ہوتا ہے جس کا افسر اس سے برا سلوک کرتا ہے اور اور خود اس کی بیوی بھی اس پر رعب جماتی رہتی ہے۔

’ایک دن جب ’مستی دوئی مین‘ دریائے ہوگلی کے کنارے بیٹھا خود کشی کرنے کا سوچ رہا ہوتا تو چھابڑی والا اسے مستی دوئی فروخت کرتا ہے۔ کلرک مستی دوئی کھاتا ہے تو اسے اپنے اندر کی طاقت کا احساس ہوتا ہے جس کے بعد اس کی زندگی میں بہتری آنا شروع ہو جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

شاید یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بھارت کی مقبول ترین مٹھائی گول مٹول پیلے رنگ کا لڈُو ہے اور بچے کی پیدائش کی خوشی کی کوئی تقریب لڈّوؤں سے بھرے ڈبے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔

راجکمال ایچ کی کہانیوں میں ’لڈّو بوائے‘ مٹھائی کی ایک دوکان کا کم عمر ملازم ہوتا ہے۔ ’ دوکان کا مالک ہر روز اس سے بُرا سلوک کرتا ہے، اور پھر آخر ایک دن لڈّو بوائے کو اپنی اصل قوت کا ادراک ہو جاتا ہے اور وہ اپنے علاقے کا چوکیدار بن جاتا ہے جو معاشرے کے پسے ہوئے لوگوں کی حفاظت کرتا ہے اور انھیں انصاف دلاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

اپنے کردار ’سموسہ بوائے‘ کے بارے مسٹر ایچ کا کہنا ہے کہ یہ ایک حقیقی کردار پر مبنی ہے اور وہ کردار ’میرا ایک بِہاری دوست ہے جو ایک وقت میں دس سموسے کھا سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

راجکمال کہتے ہیں کہ ان کی جرمن گرل فرینڈ چینی سے بھری اور رسیلی جلیبی دیکھ کر ’پاگل ہو جاتی ہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ ’جلیبی وومن‘ کے کردار کے پیچھے دراصل کالج کی وہ ’پیاری لڑکی‘ ہے جسے لڑکے ہر وقت تنگ کرتے رہتے ہیں۔ ایک دن جب وہ جلیبی کھاتی ہے تو اسے جنسی تفریق اور لڑکیوں سے ہونے والی ناانصافی کے خلاف لڑنے کی طاقت مل جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

جنوبی بھارت کا مقبول ترین چٹ پٹا کھانا اڈلی ہے ۔ ’ اڈلی مین‘ بنانے کی وجہ یہ ہے کہ میرا ایک دوست کیرالہ سے ہے جو آج کل جنوبی بھارت میں رہتا ہے اور ہر وقت اڈلی کی باتیں کرتا رہتا ہے۔

’اڈلی مین کی بڑی مونچھوں کا خیال مجھے سندر بن کے بدنام زمانہ سمگلر اور بھتہ خور ورپّن کی کہانی سن کر آیا جسے پولیس نے سنہ2004 میں ہلاک کر دیا تھا۔ ورپّن کا ٹھکانہ تمل ناڈو اور کرناٹکہ کے جنگلات تھے، یعنی وہ شمالی ریاستیں جہاں اڈلی بہت مقبول ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

’بھاجا مکھو‘ کا مطلب ہے ’تلا ہوا چہرہ‘ اور یہ کردار گھی میں تلی ہوئی چیزیں کھانے کے شوق کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ایک ایسے لڑکے کی کہانی ہے جو ایک ڈھابے پر کام کرتا ہے اور ہر وقت چٹنی اور سموسے کے کُرکُرے ٹکڑے چرا کے کھاتا رہتا ہے اور سموسے کا درمیانہ حصہ دوسروں کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

مسٹر ایچ خود بھی بنگالی ہیں اور ’بنگالی ویمپائر‘ کی کہانی میں انھوں نے اپنے ان بنگالی ساتھیوں کا مذاق اڑایا ہے جو میٹھے کے بغیر نہیں رہ سکتے اور رس گلہ ان کی بڑی کمزوری ہے۔

بنگالی ویپمائر کا ہیرو کوکلتہ میں مٹھائیوں کی ایک بڑی دوکان کا مالک ہوتا ہے اور دیگر بھوتوں یا ویمپائرز کی طرح وہ خون نہیں پیتا بلکہ تمام رس گلوں کا رس چوس لیتا ہے۔ ’وہ ساری رات ویمپائر کی طرح شہر میں پھرتا رہتا ہے اور لوگوں کے رس گلوں سے رس چوستا رہتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

’واڈا پاؤ‘ کو اکثر لوگ انڈین برگر بھی کہتے ہیں۔ گوشت والے برگر کے برعکس واڈا پاؤ میں سبزی کی بنی ہوئی پیٹی استعمال کی جاتی ہے جسے ہری چٹنی کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ یہ ممبئی کا مقبول ترین سنیکس ہے۔

لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے واڈا پاؤ کو میکڈونلڈز جیسے بین الا قوامی برگروں سے سخت مقابلے کا سامنا ہے کیونکہ بھارتیوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد میکڈونلڈز جیسے برگروں کو فوقیت دے رہی ہے۔ اپنے آرٹ کے ذریعے مسٹر راجکمال ایچ کی کوشش ہے کہ وہ ایسے بھارتیوں کو واپس دیسی برگروں کی جانب متوجہ کریں۔ اسی لیے اس خاکے میں ’واڈا پاؤ مین‘ پوچھ رہا ہے کہ آیا پاؤ کی جگہ دوسرا برگر کھانے سے تم واقعی ’کُول‘ بن گئے ہو؟