بھارت: مذہب اور ذات کے نام پر رہائش گاہوں کا رجحان

رضوان قادري گجرات کے احمد آباد میں تین ہندو شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک فرم چلاتے ہیں

،تصویر کا ذریعہVIJAYKUMARSONEJI

،تصویر کا کیپشنرضوان قادري گجرات کے احمد آباد میں تین ہندو شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک فرم چلاتے ہیں

بھارت کی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں ایک نیا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے۔

احمد آباد میں لوگ اپنے پرانے گھروں کو چھوڑ کر مذہب اور ذات کے نام پر تیار ہونے والےگھروں میں رہائش اختیار کر رہے ہیں۔

ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیا مسلم کمیونٹی میں رہائش کا بحران بڑھا ہے، یہ پھر سماج مکمل طور پر اس نئے تبدیلی کو اپنا چکی ہے؟ بی بی سی ہندی کی اس رپورٹ میں اس تبدیلی کی حقیقت کو جاننے کی کوشش کی گئی ہے۔

رضوان قادري گجرات کے احمد آباد میں تین ہندو شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک فرم چلاتے ہیں۔

رضوان قادري کا بچپن مخلوط لوگوں کی کمیونٹی میں گزرا ہے۔

سنہ 2002 میں گجرات میں ہندو مسلم فسادات ہوئے تھے جن کے نیتجے میں کم سے کم ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے

،تصویر کا ذریعہVIJAYKUMARSONEJI

،تصویر کا کیپشنسنہ 2002 میں گجرات میں ہندو مسلم فسادات ہوئے تھے جن کے نیتجے میں کم سے کم ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے

سنہ 2002 میں گجرات میں ہندو مسلم فسادات ہوئے تھے جس کے نتیجے میں کم سے کم ایک ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ان فسادات سے کچھ ہی مہینے پہلے قادري اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ اپنے علاقے کو چھوڑ کر جا چکے تھے جہاں وہ گذشتہ 24 سالوں سے رہ رہے تھے۔

ان کی نئی رہائش جھاپرا کا ایک مسلم اپارٹمنٹ ہے جو احمد آباد کے مضافات میں واقع بھارت کی سب سے بڑی مسلم بستی ہے۔

ایک سال بعد قادری کے والدین بھی ان کے پاس آ گئے۔

قادري کہتے ہیں: ’سلامتی کی فکر کو لے کر ہی ہم یہاں رہنے چلے آئے ہیں۔‘

60 لاکھ روپے کی قیمت والے ان اپارٹمنٹس والی سوسائٹی میں شاپنگ مال، کلب، مردوں اور خواتین کے الگ الگ جم اور مسجد کی تعمیر ہو رہی ہے

،تصویر کا ذریعہVIJAYKUMARSONEJI

،تصویر کا کیپشن60 لاکھ روپے کی قیمت والے ان اپارٹمنٹس والی سوسائٹی میں شاپنگ مال، کلب، مردوں اور خواتین کے الگ الگ جم اور مسجد کی تعمیر ہو رہی ہے

ریاست کا اہم شہر احمد آباد بھارت کے ان شہروں میں سے ایک ہے جہاں الگ الگ فرقوں کی ہاؤسنگ کالونیاں تیار ہوئی ہیں۔

جھاپرا پہلے بغیر کسی مکمل شناخت والا گاؤں تھا جو دیکھتے ہی دیکھتے چار لاکھ سے زیادہ مسلمان لوگوں کی بستی بن چکا ہے۔ اس علاقے میں تنگ سڑکیں اور چھوٹے چھوٹے مکان ہیں۔

یہاں پر ایک 14 منزلہ ہاؤسنگ سوسائٹی بھی تیار ہو رہی ہے جس میں تقریباً 800 اپارٹمنٹ ہیں۔

60 لاکھ روپے کی قیمت والے اس اپارٹمنٹس سوسائٹی میں شاپنگ مال، کلب، مردوں اور خواتین کے الگ الگ جم، حتیٰ کہ ایک مسجد بھی تعمیر کی جا رہی ہے۔

جھاپرا بستی میں ایک طرف قادري کا اپارٹمنٹ ہے تو اس سے کچھ ہی فاصلے پر گندگی سے بھرے کم اونچائی والے چھوٹے چھوٹے مکان نظر آتے ہیں۔ چاروں طرف آلودگی کا زور ہے۔

لیکن اس طرح کی مختلف بستیوں نے لوگوں کو کاروبار کا متبادل بھی دیا ہے۔ مخلوط کمیونٹی کی تحلیل اور اثاثے خریدنے میں مسلم کمیونٹی کے لوگوں کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے احمد آباد کے صنعت کار محمد علی حسین نے ایک پراپرٹي میلہ شروع کیا ہے۔

احمد آباد ہمیشہ سے ذات، برادری اور مذہبی بنیاد پر تقسیم رہا ہے

،تصویر کا ذریعہVIJAYKUMARSONEJI

،تصویر کا کیپشناحمد آباد ہمیشہ سے ذات، برادری اور مذہبی بنیاد پر تقسیم رہا ہے

وہ اس میلے کا انعقاد دو بار کر چکے ہیں اور اس میں 40 ہزار ممکنہ مسلم خریدار پہنچے جنھوں نے جائیداد کے بارے پوچھ گچھ کی اور خریداری کی۔

ہندوستانی سماج صدیوں سے تقسیم ہے اور یہاں مختلف بستیوں میں لوگ سینکڑوں سال سے الگ الگ رہتے آئے ہیں۔

احمد آباد ہمیشہ سے ذات، برادری اور مذہبی بنیاد پر تقسیم رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کی سماجی بستیاں مسلم اور ہندوؤں اکثریتی علاقے میں ایک ساتھ دیکھنے کو ملی ہیں۔

احمد آباد کے حوالے سے اپنے مطالعے میں کرسٹوفر اور شرلی ٹامس نے لکھا تھا: ’فرقہ وارانہ تشدد میں مسلمانوں کے نشانہ بننے کے بعد سے مخلوط کمیونٹی غائب ہو گئی۔ سماجی، اقتصادی ترقی کی شرح میں ان کی غفلت کے ساتھ ان کے ساتھ تشدد کے معاملے بھی اضافہ ہوا ہے۔‘

ہندوستانی سماج صدیوں سے تقسیم ہے اور یہاں مختلف بستیوں میں لوگ سینکڑوں سال سے الگ الگ رہتے آئے ہیں

،تصویر کا ذریعہVIJAYKUMARSONEJI

،تصویر کا کیپشنہندوستانی سماج صدیوں سے تقسیم ہے اور یہاں مختلف بستیوں میں لوگ سینکڑوں سال سے الگ الگ رہتے آئے ہیں

قادري بتاتے ہیں کہ کچھ سال پہلے وہ ایک برگر پوائنٹ سے سامان لے رہے تھے، تب انھوں نے دکان کے منیجر کو اپنے ایک ڈیلیوري بوائے کو کہتے سنا تھا کہ ’جھاپر آرڈر دینے نہیں جانا، نہیں تو لوگ تمہیں ٹکڑوں میں کاٹ ڈالیں گے۔‘

ہندوستان کے ایک تہائی مسلمان شہروں میں رہ رہے ہیں، وہ ہندوستان کے سب سے بڑی شہری کمیونٹی میں شامل ہیں لیکن غربت اور امتیاز کے سبب اس طرح کی بستیوں کا بننا جاری ہے۔

گذشتہ ماہ ممبئی میونسپل کارپوریشن نے ایک تجویز پاس کی ہے جس کے مطابق کوئی بھی بلڈر نسل اور مذہب کی ترجیح کی بنیاد پر پروجیکٹ بنا سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہVIJAYKUMARSONEJI

،تصویر کا کیپشنگذشتہ ماہ ممبئی میونسپل کارپوریشن نے ایک تجویز پاس کی ہے جس کے مطابق کوئی بھی بلڈر نسل اور مذہب کی ترجیح کی بنیاد پر پروجیکٹ بنا سکتا ہے

یہاں تک کہ نسلی امتیاز کا شکار دلت بھی اپنے دیہات چھوڑ کر شہروں میں رہنے اور کام کرنے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔

کملیش چوہان احمد آباد کے دلت ہیں، جنھوں نے اپنے فرقہ کے لوگوں کے لیے سستے گھر بنائے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے گذشتہ دو دہائیوں میں تین لاکھ سے 20 لاکھ روپے کے درمیان ڈیڑھ سو کے قریب مکان اور اپارٹمنٹ تعمیر کیے ہیں۔

کملیش کہتے ہیں: ’دلتوں کو دوسرے فرقوں کے لوگ کرائے پر گھر نہیں دیتے ہیں اس لیے وہ مجھے گھیر لیتے ہیں۔ وہ گاؤں میں اپنی زمین فروخت کر کے یہاں آ کر گھر خرید لیتے ہیں۔‘

بہتر حیثیت والے لوگ بڑے فلیٹوں میں رہتے ہیں

،تصویر کا ذریعہVIJAYKUMARSONEJI

،تصویر کا کیپشنبہتر حیثیت والے لوگ بڑے فلیٹوں میں رہتے ہیں

بہتر حیثیت والے لوگ بڑے اپارٹمنٹوں میں رہتے ہیں لیکن غریب لوگ گندگی بھرے گھروں، جھونپڑیوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

نریش پرمار 140 مربع گز میں بنے دو بیڈ روم والے مکان میں رہتے ہیں۔ پرمار کے گھر میں اے سی لگا ہوا ہے، پانی کی سہولت ہے۔ ذریعہ معاش کے لیے انھوں نے دو روڈ رولر کرایے پر دیے ہوئے ہیں۔

انھوں نے دس سال پہلے چوہان سے 50 لاکھ روپے میں مکان خریدا تھا۔ ان کے گھر میں جھولا بھی لگا ہوا ہے۔

نریش پرمار کہتے ہیں: ’یہ میرے گاؤں جیسا ہے۔ مجھے یہاں کا ماحول پسند ہے۔ جب یہاں شہر جیسی بھیڑ ہو جائے گی تو میں سامان باندھ کر گاؤں واپس چلا جاؤں گا۔‘

گذشتہ ماہ ممبئی میونسپل کارپوریشن نے ایک تجویز منظور کی ہے جس کے مطابق کوئی بھی بلڈر نسل اور مذہب کی ترجیح کی بنیاد پر پروجیکٹ بنا سکتا ہے۔ اگرچہ ابھی تک اس تجویز کے عمل کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

مذہبی تعصب کی بنیاد پر قائم ہونے والی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی وجہ سے بھارت کی ترقی متاثر ہوتی ہے۔

مشہور سماجی سیاسی مفکر آشیش نندی کہتے ہیں: ’اس سے کمیونٹیوں کے درمیان باہمی بھائی چارے کا جذبہ ختم ہو گا جبکہ یہ بھائی چارہ ہر جدید معاشرے کی ضرورت ہے۔‘