مودی کی اہلیہ اپنے محافظوں سے پریشان

یشودابین نے درخواست میں یہ بھی کہا ہے کہ ان کے محافظ ان سے مہمان نوازی کی امید رکھتے ہیں

،تصویر کا ذریعہdeepa sidana

،تصویر کا کیپشنیشودابین نے درخواست میں یہ بھی کہا ہے کہ ان کے محافظ ان سے مہمان نوازی کی امید رکھتے ہیں
    • مصنف, انکر جین
    • عہدہ, صحافی، دہلی

بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کی اہلیہ یشودا بین سرکاری طور پر دی گئی سکیورٹی سے پریشان ہیں اور اپنے حقوق کے بارے میں جاننا چاہتی ہیں۔

یشواد نے مہیسا کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت یہ معلومات مانگی ہیں۔

بی بی سی سے بات چیت میں انہوں نے کہا، ’اگر مجھے سکیورٹی دی گئی ہے تو دیگر حق بھی ملنے چاہیئیں۔‘

اپنی درخواست میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے محافظوں سے ڈر لگتا ہے۔

یشودا بین کا نام لوک سبھا انتخابات کے دوران اس وقت سامنے آیا تھا جب وڈودرا سے الیکشن لڑنے والے نریندر مودی نے اپنے حلف نامے میں پہلی بار خود کو شادی شدہ بتاتے ہوئے انھیں اپنی بیوی قرار دیا تھا۔

ریٹائرڈ سکول ٹیچر یشودا بین گجرات کے يشورواڑا گاؤں میں اپنے بھائی کے ساتھ رہتی ہیں۔

بی بی سی ہندی سے فون پر بات کرتے ہوئے یشودا بین نے کہا، ’مجھے کس سرکاری حکم کے تحت سکیورٹی دی گئی ہے۔ مجھے یہ پروٹوکول کیوں ملا ہے؟ مجھے اصول کے حساب سے انصاف نہیں ملا ہے۔ اگر مجھے سکیورٹی دی گئی ہے تو دیگر حق بھی ملنے چاہییں۔‘

اگر مجھے سکیورٹی دی گئی ہے تو دیگر حق بھی ملنے چاہیئیں: یشودا بین

،تصویر کا ذریعہANKUR JAIN

،تصویر کا کیپشناگر مجھے سکیورٹی دی گئی ہے تو دیگر حق بھی ملنے چاہیئیں: یشودا بین

ان کا کہنا تھا کہ، ’مجھے حفاظتی گارڈز کی وجہ سے بہت پریشانی ہوتی ہے، میں سرکاری بس میں سفر کرتی ہوں اور میرے ساتھ والے محافظ کار میں گھومتے ہیں۔ وہ لوگ ساتھ میں ہوتے ہیں تو ڈر لگتا ہے۔‘

رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کی درخواست میں یشودابین نے لکھا ہے کہ ’اندرا گاندھی پر ان کے محافظوں نے حملہ کیا تھا اور انھیں مار دیا تھا۔ اس وجہ سے مجھے میرے باڈی گارڈز سے ڈر لگتا ہے۔ اس لیے مجھے ان کی تمام معلومات دیں اور بتائیں انہیں کس کے احکامات پر میرے ساتھ رکھا گیا ہے۔‘

نریندر مودی سے بات چیت کے سوال پر یشودا بین کہتی ہیں، ’میں نے پہلے ان کو کئی بار خط لکھا ہے پر مجھے کبھی کوئی جواب نہیں ملا۔ اگر وہ مجھے دہلی بلائیں گے تو میں جانے کے لیے تیار ہوں۔‘

یشودا کے چھوٹے بھائی اشوک مودی نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ان کی بہن کی حفاظت کے لیے پانچ پانچ محافظ دو شفٹوں میں تعینات رہتے ہیں۔

ریٹائرڈ سکول ٹیچر یشودا بین گجرات کے يشورواڑا گاؤں میں اپنے بھائی کے ساتھ رہتی ہیں

،تصویر کا ذریعہdeepa sidana

،تصویر کا کیپشنریٹائرڈ سکول ٹیچر یشودا بین گجرات کے يشورواڑا گاؤں میں اپنے بھائی کے ساتھ رہتی ہیں

اس سوال پر کہ ان کی بہن نے درخواست کیوں دی ہے، اشوک مودی نے کہا، ’میری بہن کو یا تو تمام حقوق ملنے چاہیئیں۔ سکیورٹی گارڈز خود گاڑی میں گھومتے ہیں اور وہ سرکاری بس میں سفر کرتی ہیں۔ لوگ مذاق اڑاتے ہیں اور بدنامی مودی کی ہوتی ہے۔‘

یشودابین نے درخواست میں یہ بھی کہا ہے کہ ان کے محافظ ان سے مہمان نوازی کی امید رکھتے ہیں اس لیے ان کے کردار کے بارے میں اصول و قانون انہیں بتائے جانے چاہییں.

لوک سبھا انتخابات کے دوران بی بی سی سے ہونے والی بات چیت میں یشودابین کے گھر والوں نے بتایا تھا کہ ان کی نریندر مودی سے شادی رسم و رواج کے مطابق ہوئی تھی لیکن شادی کے تین سال کے بعد دونوں الگ ہو گئے تھے۔