’وائف ڈے پر مودی کا پیغام کیا ہوگا؟‘

وزیر اعظم نریندر مودی کو گجرات کا ایک کامیاب وزیر اعلیٰ سمجھا جاتا ہے، اور اب تو وہ بطور وزیر اعظم کامیابی کی سیڑھیاں تیزی سے طے کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنوزیر اعظم نریندر مودی کو گجرات کا ایک کامیاب وزیر اعلیٰ سمجھا جاتا ہے، اور اب تو وہ بطور وزیر اعظم کامیابی کی سیڑھیاں تیزی سے طے کر رہے ہیں
    • مصنف, زبیر احمد
    • عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پانچ ستمبر کو یوم اساتذہ کے موقع پر اساتذہ اور طلبا کے والدین کو اپنے بچوں کا کردار بہترکرنے کا مشورہ دیا تھا۔

طالب علموں کے کردار کی تعمیر کے حوالے سے انھوں نے کافی دیر تک تقریر کی تھی۔

اگر وائف ڈے یعنی ’یوم اہلیہ‘ جیسا کوئی دن ہوتا تو اس موقع پر وزیر اعظم کیا مشورہ دیتے؟ اور اگر کوئی مشورہ دیتے تو ان کی بیوی جشودابین کا ردعمل کیا ہوتا؟

یہ سارے سوال تصوراتی ضرور ہیں لیکن ان سے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی الجھنیں کافی حد تک بڑھ سکتی ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی کو گجرات کا ایک کامیاب وزیر اعلیٰ سمجھا جاتا ہے، اور اب تو وہ بطور وزیر اعظم کامیابی کی سیڑھیاں تیزی سے طے کر رہے ہیں۔

لیکن کیا کسی میں ان کی ذاتی زندگی سے جڑے اس سوال کوپوچھنے کی ہمت ہے کہ ’مودی جی کیا آپ کامیاب شوہر بھی ہیں؟‘

گذشتہ مئی میں بھارت میں ہوئے عام انتخابات سے پہلے ملک کے پانچ ’بیچلرز‘ ( کنوارے) رہنماؤں کے نام سامنے آ رہے تھے۔ نریندر مودی، راہل گاندھی، مایا وتی، جے للتا اور ممتا بنرجی۔

لیکن کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے وقت نریندر مودی کا نام اس لسٹ سے باہر ہوگیا کیونکہ انھوں نے اپنا نام ’شادی شدہ کے زمرے‘ میں ڈالا تھا۔

اور اس طرح عوامی زندگی میں پہلی بار ان کی ’خفیہ‘ بیوی کانام سامنے آیا۔ جشودابین کو سرکاری دستاویزات میں اپنی بیوی تسلیم کرنے کے باوجود نریندر مودی نے اس پر اپنی خاموشی اب تک نہیں توڑی ہے۔

انھوں نے اب تک اس بات کی وضاحت بھی نہیں پیش کی ہے کہ آخر اب تک وہ خود کو ’بیچلر‘ کی طرح سے کیوں پیش کرتے رہے؟

خاموشی کی دیواریں

جشودابین کہہ چکی ہیں کہ برسوں سے ان کی جانب سے لکھے گئے خطوط کا انھیں کوئی جواب نہیں ملا ہے

،تصویر کا ذریعہdeepa sidana

،تصویر کا کیپشنجشودابین کہہ چکی ہیں کہ برسوں سے ان کی جانب سے لکھے گئے خطوط کا انھیں کوئی جواب نہیں ملا ہے

خود کو شادی شدہ کہلوانے کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی نے جشودابین سے رابطہ نہیں کیا۔ بی بی سی سے بات چیت کے دوران جشودابین کہہ چکی ہیں کہ برسوں سے ان کی جانب سے لکھے گئے خطوط کا انھیں کوئی جواب نہیں ملا ہے۔ ان کے درمیان 45 برسوں کی علیحدگی اور خاموشی کی دیواریں اب تک نہیں ٹوٹی ہیں۔

ظاہر ہے جشودابین اسے اپنی توہین سمجھتی ہیں۔ گذشتہ دنوں میڈیا میں اچانک سے انٹرویو دینے کے پیچھے جشودابین کا مقصد جو بھی رہا ہو لیکن یہ سچ ہے کہ اب تک وہ اپنی خودداری کا دامن تھامے ہوئی ہیں۔

عوامی سطح پر انھوں نے اپنے شوہر کی تعریف ہی کی ہے اور ان کی کامیابی کے لیے دعا کرنے کی بات بھی کہی ہے۔

روایتی بیوی

اب حق اطلاعات اور معلومات کی رسائی کے قانون کے تحت جشودابین نے اپنے لیے مہیا کرائی گئی سکیورٹی پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ آخر انھیں کس قانون کے تحت یہ سکیورٹی فراہم کی گئی ہے اور اس کے تحت ان کے اور کیا حقوق ہیں؟

انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آر ٹی آئی کے خصوصی ایکٹ کےتحت ان سوالات کے جواب انھیں 48 گھنٹے کے اندر فراہم کیے جائیں۔

جشودابین کے بارے میں جو تھوڑی بہت معلومات سامنے آئی ہیں اور اب تک جو بھی ان کا بیان سامنے آیا ہے اس سے ان کی شبیہ ایک مثالی اور روایتی ہندوستانی خاتون اور بیوی کی بنتی ہے۔

دوسری طرف نریندر مودی کے خلاف ایک شوہر کی حیثیت سے کئی سوال کھڑے ہوتے ہیں۔

مودی کی قربانی؟

وزیر اعظم کے حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ وہ ملک کی خدمت میں لگے ہیں اور اپنی بیوی کو الگ رکھنا دراصل ان کی ایک بڑی قربانی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنوزیر اعظم کے حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ وہ ملک کی خدمت میں لگے ہیں اور اپنی بیوی کو الگ رکھنا دراصل ان کی ایک بڑی قربانی ہے

نریندر مودی سے جشودابین کی شادی ہندو رسم و رواج کےمطابق ہوئی تھی۔ ایک ہندو اہلیہ ہونے کے سبب ان کے بہت سے حقوق ہیں لیکن جشودابین اپنے حق کی بھی باتی نہیں کرتیں۔

بی بی سی سے بات چیت کے دوران سوال پوچھنے پر انھوں نےاپنے شوہر کے گھر جانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ لیکن ان کے مطابق وہ اسی صورت میں واپس لوٹیں گي جب ان کےشوہر خود انہیں فون کریں گے۔

اگر نریندر مودی اپنی بیوی کو اس کی عزت اور احترام کریں گے تبھی وہ وہاں جائیں گی۔

وزیر اعظم کے حامی یہ دلیل دیتے ہیں کہ وہ ملک کی خدمت میں لگے ہیں اور اپنی بیوی کو الگ رکھنا دراصل ان کی ایک بڑی قربانی ہے۔

اس معاملے پر ان کے حامیوں کے درمیان بھلے ہی ان کی مقبولیت کم نہیں ہوگی لیکن جشودابین کے سوالات کے بعد ان کے شوہرکے کردار پر ضرور سوال اٹھ رہے ہیں۔