بھارت: نس بندی کروانے والی 11خواتین کی ہلاکت

،تصویر کا ذریعہalok putul
بھارت کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع بلاسپور میں ایک سرکاری طبی کیمپ میں نس بندی کا آپریشن کروانے والی 11 خواتین کی ہلاکت کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
اس طبی کیمپ میں آنے والی 53 خواتین اب بھی مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں جن میں سے 30 کی حالت اب بھی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
ڈاکٹروں نے ہلاکتوں میں اضافے کے خدشے سے انکار نہیں کیا ہے۔
ریاستی حکومت نے اس کیمپ میں کام کرنے والے چار ڈاکٹروں کو معطل کر دیا ہے جبکہ ریاستی سیکریٹری صحت ڈاکٹر كمل پريت سنگھ کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
وزیر اعلی نے متاثرہ خاندانوں کو چار چار لاکھ روپے زرِ تلافی دینے کا اعلان بھی کیا ہے.
بلاسپور کے پینڈاري گاؤں میں مرکزی خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرام کے تحت سنیچر کو نس بندی کے لیے کیمپ لگایا گيا تھا۔
گاؤں والوں کا الزام ہے کہ سرکاری ہدف پورا کرنے کی جلد بازی میں صرف چھ گھنٹے کے دوران ہی ضلع ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر 83 خواتین کی نس بندی کر دی۔
معطل ہونے والے ڈاکٹروں میں آپریشن کرنے والے ڈاکٹر آر کے گپتا سمیت نس بندی پروگرام کے ریاستی رابطہ کار کیسی اراؤں، ضلع کے اہم طبی افسر آر بھاگے اور ڈویژنل طبی اہلکار پرمود تیواری شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہalok putul
مرنے والی ایک خاتون جانكي بائی کے شوہر کا کہنا تھا کہ نس بندی سے پہلے دوا کھاتے ہی کئی خواتین کو قے ہونے لگی تھی لیکن ڈاکٹر نے ان کی طرف توجہ نہیں دی اور عورتوں کی حالت بگڑتی چلی گئی۔
بلاسپور کے طبی اہلکار ڈاکٹر آر کے بھانگے کا کہنا ہے کہ خواتین کی موت کیسے ہوئی، یہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی واضح ہو پائے گا۔
ڈاکٹر بھانگے کے مطابق: ’35 خواتین کو ضلع ہسپتال، چھتیس گڑھ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اور ایک نجی ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ان میں سے کچھ کی حالت تشویشناک حد تک نازک ہے۔‘
مقامی صحافی آلوک کمار پتل نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے پر برانگیختہ و مشتعل مقامی شہریوں اور حزب اختلاف کانگریس پارٹی کے لوگوں نے پیر کی رات ریاست کے وزیرِ صحت امر اگروال کی رہائش گاہ کا بلاسپور میں محاصرہ کرلیا۔

،تصویر کا ذریعہalok putul
اس کے بعد کانگریس کارکنوں اور پولیس کے درمیان زبردست جھڑپ ہوئی۔ کانگریس نے اس پورے معاملے پر بلاسپور میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب ریاست کے وزیر اعلی رمن سنگھ نے معاملے کی جانچ کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
ریاست کے وزیر صحت امر اگروال نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم نے اس پورے معاملے کی تفتیش کے لیے کمیٹی بنائی ہے۔ اس میں جو بھی قصوروار پایا جائے گا، اس کے خلاف ہم سخت کارروائی کریں گے۔ فی الحال ہماری پوری توجہ بیمار خواتین کو علاج فراہم کرنے کی جانب ہے۔‘







