بھارت: ’جنسی زیادتی کے بعد متاثرہ کا طبی معائنے کے لیے انتظار‘

بھارت میں جنسی زیادتی کے واقعات کے خلاف حالیہ سالوں میں عوامی غم و غصے میں اضافہ ہوا ہے
،تصویر کا کیپشنبھارت میں جنسی زیادتی کے واقعات کے خلاف حالیہ سالوں میں عوامی غم و غصے میں اضافہ ہوا ہے

بھارت کے بڑے شہروں میں جنسی زیادتی کے واقعات کے خلاف تحریک اور بحث جاری ہے لیکن ریاست چھتیس گڑھ کی ایک لڑکی جنسی زیادتی کے بعد تین دن سے اپنے طبی معائنے کے لیے ہسپتالوں کے چکر لگا رہی ہے۔

چھتیس گڑھ کے گاؤں بلاس پور کی رہائشی 16 سالہ متاثرہ لڑکی سے 14 دنوں تک اجتماعی طور پر جنسی زیادتی کی جاتی رہی۔

متاثرہ لڑکی نے اس واقعے کے خلاف پولیس سے رجوع کیا اور اب پولیس اسے ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال لے جا رہی ہے اور سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر کبھی عدالت کی پیشی میں مصروف ہونے اور کبھی ڈیوٹی کا وقت مکمل ہونے کی وجہ سے طبی معائنہ کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

ریاست کے وزیر صحت نے کہا ہے کہ پورے معاملے کی تفتیش کی جائے گی اور غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

دوسری طرف طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ میڈیکل چیک اپ میں تاخیر سے جنسی زیادتی کے شواہد کمزور پڑ جائیں گے۔

16 سال کی اس قبائلی لڑکی کا اغوا اس کے پڑوسی گاؤں کے چار نوجوانوں نے 15 نومبر کو کیا تھا۔

چاروں اسے دوسرے گاؤں لے گئے اور یرغمال بنا کر رکھا، جہاں اس کے ساتھ یہ واردات ہوئی۔

گینگ ریپ کا شکار لڑکی کسی طرح وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئی اور اس نے اہل خانہ کے ساتھ تھانے میں رپورٹ درج کرائی۔

متاثرہ کی شکایت پر پولیس نے اس معاملے میں ہوللا سونی، دیویندر شرما، پرمود یادو اور سلام انصاری کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

جمعہ کو پولیس اہلکاروں نے متاثرہ لڑکی کا میڈیکل چیک اپ کرانے کی کوشش کی۔ جب وہ اسے لے کر مقامی ہسپتال پہنچے تو وہاں انہیں خاتون ڈاکٹر نہیں ملیں۔

اگلے روز سنیچر کی صبح اس لڑکی کو جانچ کے لیے صحت کے مرکز لے جایا گیا لیکن وہاں یہ معلوم ہوا کہ ایک لیڈی ڈاکٹر تربیت کے لیے جبکہ دوسری عدالت میں پیشی پر گئی ہیں۔

مرواہي کے تھانہ انچارج سنتوش کمار اپادھیائے کے مطابق ’شام تک انتظار کے بعد بھی جب کوئی ڈاکٹر نہیں ملا، تو ہمیں مجبوراً واپس آنا پڑا۔‘

اتوار کی صبح بھی متاثرہ لڑکی کو ہسپتال لے جایا گیا لیکن شام تک طبی معائنہ نہیں ہو سکا کیونکہ ہسپتال میں موجود خاتون ڈاکٹر نے اپنی ڈیوٹی کا وقت پورا ہونے کا حوالہ دے کر چیک اپ سے انکار کر دیا۔

متعلقہ حکام کے مطابق ’اتوار کو چھٹی ہوتی ہے اور پیر کو ہی اس بارے میں کچھ بتایا جا سکتا ہے۔‘

دوسری جانب ڈاکٹروں کو خدشہ ہے کہ کہیں متاثرہ لڑکی کے طبی معائنے میں تاخیر سے جنسی زیادتی کے ثبوت ختم نہ ہو جائیں۔

بلاس پور کے سینیئر ڈاکٹر آر آر تیواری کہتے ہیں: ’عام طور پر 48 گھنٹے تک جنسی زیادتی کے معاملے میں طبی ٹیسٹ کے بہتر نتائج آتے ہیں۔ اگر بیرونی چوٹ نہ ہو، تو ایسے ثبوت وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہوتے جاتے ہیں۔ اس معاملے میں اب تک متاثرہ کا معائنہ نہ ہونا تشویشناک ہے۔‘

ریاست کے وزیر صحت امر اگروال نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر مرواہي یا گورےلا میں خاتون ڈاکٹر دستیاب نہیں تھے تو متاثرہ کا معائنہ علاقے میں کسی دوسری قریبی صحت مرکز میں کرایا جا سکتا تھا۔

امر اگروال کہتے ہیں: ’اس طرح کی لاپروائی خطرناک ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات کی جائے گی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی بھی ہوگی۔‘

ریپ کا شکار لڑکی اب اگلے دن کا انتظار کر رہی ہے۔ اسے امید ہے کہ شاید اب اس کا میڈیکل چیک اپ ہو جائے گا اور اس کے بعد پولیس ملزمان کو سزا بھی دلائے گی۔