ہدہد طوفان سے بھارتی مشرقی علاقوں کو خطرہ لاحق

سمندری طوفان ہدہد کے سبب اڑیسہ کے ساحلی علاقوں میں بارش شروع ہو چکی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنسمندری طوفان ہدہد کے سبب اڑیسہ کے ساحلی علاقوں میں بارش شروع ہو چکی ہے

خلیج بنگال میں اٹھنے والے سمندری طوفان ہد ہد سے بچنے کے لیے جنوب مشرقی ریلوے نے متعدد گاڑیاں منسوخ کر دی ہیں۔

سمندری طوفان ہد ہد ہفتے کی صبح بھارت کی مشرقی ریاست اڑیسہ کے ساحل گوپال پور سے 380 کلومیٹر اور ریاست آندھر پردیش میں وشاكھاپٹنم کے ساحل سے 340 کلو میٹر کے فاصلے پر مرکوز ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق مسافروں کی حفاظت کے پیش نظر ریلوے نے 38 ٹرینیں منسوخ کر دی ہیں۔

اڑیسہ کے دارالحکومت بھونیشور سے مقامی صحافی سندیپ ساہو نے محکمۂ موسمیات کے حوالے سے بتایا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں طوفان شدید تر ہو سکتا ہے اور وہ اتوار کی دوپہر تک وشاكھاپٹنم کے ساحل سے گزرے گا۔

جنوب وسطی ریلوے نے سفر سے منسلک الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے تین دنوں تک سکیورٹی کے پیش نظر ٹرین کی آمد و رفت میں بعض تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔

طوفان کی وجہ سے آنے والے 48 گھنٹے تک اڑیسہ میں تیز بارش کا امکان ہے جبکہ آٹھ اضلاع میں شدید بارش کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ساحلی علاقوں میں طوفان کے پیش نظر انتباہ جاری کیا گیا ہے اور کم از کم 38 ریل گاڑیوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنساحلی علاقوں میں طوفان کے پیش نظر انتباہ جاری کیا گیا ہے اور کم از کم 38 ریل گاڑیوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے

ان آٹھ اضلاع میں گنجام، گجپتی، كندھمال، نبرنگ پور، كالا ہانڈي، كوراپٹ، رائےگڈا اور ملكان گري شامل ہیں۔

دوسری جانب اڑیسہ سے ملحق ریاست آندھرا پردیش کے گوداوری، کرشنا، گنٹور اور پركاشم ضلعوں میں بھی شدید بارش کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

فی الحال ساحلی آندھرا پردیش میں 70-60 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں اور اتوار کی صبح تک طوفان کی رفتار 140 کلومیٹر فی گھنٹے سے بڑھ کر 165 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔

حیدرآباد سے مقامی صحافی دھننجے کے مطابق آندھرا پردیش کے بندرگاہوں کو بھی انتباہ جاری کیے گئے ہیں۔

تحفظ اور امدادی کاموں کے لیے قدرتی آفات سے نمٹنے کے مرکزی محکمے این ڈی آر ایف کی 15 اور ریاستی محکمہ اوڈراف (اڑیسہ ریپڈ ایکشن فورس) کی دس ٹیموں کو متاثر علاقوں میں بھیج دیا گیا ہے۔

مشرقی ساحلی بحری کمانڈ کی جانب سے ہیلی کاپٹر اور امدادی سامان سمیت چار جہاز تیار ہیں۔