سرحدی کشیدگی میں اضافہ کیوں؟

بہت سے مبصرین کے مطابق چینی صدر کا حالیہ دورۂ بھارت اتنا کامیاب نہیں تھا جتنا بھارتی میڈیا بتا رہا ہے اور بعض مبصرین کے مطابق یہ کافی مایوس کن تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبہت سے مبصرین کے مطابق چینی صدر کا حالیہ دورۂ بھارت اتنا کامیاب نہیں تھا جتنا بھارتی میڈیا بتا رہا ہے اور بعض مبصرین کے مطابق یہ کافی مایوس کن تھا

دو ہفتوں کی کشیدگی کے بعد بھارت اور چین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ متنازعہ سرحدوں سے افواج کو واپس بلایا جائے مگر ایسے واقعات بڑھ رہے ہیں اور تجزیہ کار وی پنت کے مطابق ان کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

چین اور بھارت کے درمیان غیر واضح 4057 کلومیٹر لمبی سرحدی پٹی پر چھوٹی موٹی در اندازیاں معمول کی بات ہیں۔

سرحد کہاں ہے اس کے بارے میں دونوں جانب مختلف رائے پائی جاتی ہیں اور دونوں جانب دعوے کرتے ہیں کہ انہوں نے کہاں کہاں گشت کرنا ہے اور اسی کی وجہ سے دونوں کے فوجی ایک دوسرے کی سرحد میں جس کا وہ دعویٰ کرتے ہیں چلے جاتے ہیں۔

بھارت کی وزارتِ داخلہ کے مطابق چینی فوجیوں کی جانب سے اس سال کے 216 دنوں میں 334 بار اس کی سرحد میں ’دراندازی‘ کی گئی۔

اپنے ماضی کے طرزِ عمل کے برخلاف اب بھارتی افواج سرحد کے بعض حصوں میں اپنے روز مرہ کے گشت کے دوران چینی فوجیوں کو ایل اے سی یعنی ’لائن آف ایکچول کنٹرول‘ کی خلاف ورزی سے روک دیتے ہیں۔

اس کی جزوی وجہ حالیہ سالوں میں دونوں جانب کے درمیان سرحدی مڈھ بھیڑ کے واقعات میں اضافہ ہے مگر اس کے ساتھ ایک بڑی کہانی بھی ہے۔

سرحدی در اندازیاں چین کی جانب سے بھارت کو دفاعی پوزیشن میں رکھنے کے لیے بار بار استعمال کی جاتی ہیں اور کسی بھی بڑے دو طرفہ دورے سے پہلے اس نوعیت کی در اندازیاں ایک سنجیدہ رخ اختیار کر لیتی ہیں۔

بھارت کی وزارتِ داخلہ کے مطابق چینی فوجیوں کی جانب سے سال کے 216 دنوں میں 334 بار اس کی سرحد میں ’دراندازی‘ کی گئی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبھارت کی وزارتِ داخلہ کے مطابق چینی فوجیوں کی جانب سے سال کے 216 دنوں میں 334 بار اس کی سرحد میں ’دراندازی‘ کی گئی

مئی 2013 میں بھارتی حکام نے چینی افواج پر چینی وزیراعظم لی کچیانگ کے دورے سے کچھ عرصہ قبل بھارتی سرزمین میں دراندازی اور لداخ کی دپسانگ وادی میں خیمے لگانے کا الزام عائد کیا تاہم یہ معاملہ دورے سے چند دن قبل حل ہو گیا۔

حالیہ مڈھ بھیڑ چینی صدر شی جن پنگ کے دورے کے ساتھ ہوئی جس کا نتیجہ دورے کے دوران سامنے آنے والی شرمندہ کر دینے والی شہ سرخیاں تھیں۔

یہ ممکن ہے کہ نریندر مودی کے حکومت میں آنے کے بعد بیجنگ ان کی خارجہ پالیسی کے فیصلوں سے نا خوش ہو جبکہ دوسری جانب ہو سکتا ہے کہ چینی افواج بھارتی سرحدی افواج کا اندازہ لگا رہی ہوں کہ کہ وہ کتنی دیر جمے رہ سکتے ہیں۔

چین نے سرحد پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و ترقی پر تیزی سے خرچ کیا ہے بنسبت بھارت کے جہاں یہ سب بہت ساری خامیوں کا شکار ہے۔

بار بار ہونے والی ان در اندازیوں سے بیجنگ نے بھارت کی خامیوں اور اس کی جانب سے چین کو ممکنہ طور پر چیلنج کرنے کی قیمت کو نمایاں کیا ہے۔

ہر در اندازی کے ساتھ چین زمینی حقائق کو سرحد پر بدل دیتا ہے اور اس عمل میں مزید رقبہ حاصل کرتا ہے اور اپنے حق میں نقشہ دوبارہ بناتا ہے۔

بہت سے مبصرین نے چینی صدر کے دورۂ بھارت کو مایوس کن قرار دیا ہے حتیٰ کہ معاشی محاذ پر بھی جس کے بارے میں بہت بات کی جا رہی تھی۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

بھارت میں اس طرح کی میڈیا رپورٹس بھی تھیں کہ چین نے بھارت میں سو بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے تاہم اگلے پانچ سال کے لیے صرف 20 بلین ڈالر کے سمجھوتے ہی طے کیے جا سکے ہیں۔

سرکاری سطح پر چین نے یہی کہا ہے کہ شی جن پنگ کے دورے سے دونوں ممالک کے درمیان ’بعض شبہات‘ کو دور کرنے میں مدد ملی ہے اور تعلقات ایک ’نئے دور‘ میں داخل ہوئے ہیں اور یہ کہ سرحدی تنازعات کو سیاسی طور پر حل کرنے کے لیے ’اہم اتفاقِ رائے‘ حاصل کیا گیا ہے۔

تاہم امریکہ کے دورے سے قبل نریندر مودی نے بیجنگ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مسائل سے آنکھیں بند نہیں کر سکتا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ ’ہم 18ویں صدی میں نہیں رہ رہے ہیں۔‘

اپنی مشرقی سرحدوں پر درپیش خطرات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ چین کے مفاد میں ہے کہ بھارت ایشیا میں امریکہ کی قیادت میں اس طاقت کے توازن کو برابر کرنے والے اتحاد میں شامل نہ ہو۔

یہ علیحدہ بات ہے کہ سرحدی تنازعات پر سخت موقف سے بیجنگ شاید نئی دہلی کو جاپان اور امریکہ کے اور قریب کرنے والا نہ جائے۔

یہ مضمون ہرش وی پنت نے لکھا جو کنگز کالج لندن میں بین القوامی تعلقات کے پروفیسر ہیں۔