ہندو مذہب اپنی رواداری کھو رہا ہے

معروف دانشور اور سماجی کارکن ہرش میندر نے نفرت کی تحریک کو 12 برس قبل گجرات میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے اداروں کے خلاف چلائی گئی تحریک سے موازنہ کیا ہے

،تصویر کا ذریعہMANISH SAANDILYA

،تصویر کا کیپشنمعروف دانشور اور سماجی کارکن ہرش میندر نے نفرت کی تحریک کو 12 برس قبل گجرات میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے اداروں کے خلاف چلائی گئی تحریک سے موازنہ کیا ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

ان دنوں اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی قیادت اور اس کی اتحادی تنظیمون نے مسلمانوں کے خلاف شدید مہم چلا رکھی ہے۔ بی جے پی کے متعدد اعلیٰ رہنما جگہ جگہ نفرت انگیز تقریریں کر رہے ہیں۔ عموماً ان تقریروں میں یہ بتایا جاتا ہے کہ کئی عرب ممالک بھارتی مسلمانوں کے توسط سے ہندوؤں کو مسلمان بنانے کے لیے پیسے بھیج رہے ہیں اور مسلمان اس سازش میں شریک ہے۔

نفرت کی اس تحریک میں سب سے شدید نشانے پر وہ لوگ ہیں جو اپنے مذہب سے باہر شادیاں کر رہے ہیں۔ اس میں ہندوؤں کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں کو مسلمانوں کے قریب نہ آنے دیں ورنہ وہ بقول ان کے ’لو جہاد'‘ کی سازش کا شکار ہو سکتی ہیں۔

مدیھہ پردیش میں بی بے پی کی ایک رکنِ اسمبلی نے تو یہاں تک دعویٰ کیا ہے کہ کئی روز تک چلنے والے نو راتر کے تہوار کے بعد بقول ان کے ہر برس چارلاکھ سے زیادہ ہندو لڑکیاں ’لو جہاد‘ کی سازش کے تحت مذہب اسلام اختیارکر لیتی ہیں۔ انھوں نے ہندوؤں پر زور دیا ہے کہ وہ اس تہوار کے دوران خاص طورپر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے ڈانڈیا رقص کی تقریبوں میں مسلم نوجوانوں کو داخل نہ ہونے دیں۔

اسی طرح کی قدرے چھوٹے پیمانے پر پرچار اور تبلیغ مدھیہ پردیش، راجستھان اور کئی دوسری ریاستوں میں بھی چل رہی ہے۔ تقریریں ہو رہی ہیں، سوشل میڈیا پر پیغامات بھیجے جا رہے ہیں اور پمفلٹ تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ ہر جگہ پیغام یہی ہے کہ مسلمانوں کو قریب مت آنے دو۔ انھیں ہندوؤں کے تیج تہواروں میں شریک مت ہونے دو اور ان سے کسی طرح کا سماجی رابطہ نہ رکھو۔

اسی طرح کی تحریک ایک عشرے قبل گجرات میں چلائی گئی تھی جب نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ بنے تھے۔ یہ تحریک آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد جیسی تنطیمیں چلا رہی تھیں اور انھیں بظاہر حکومت کی سرپرستی حاصل نہیں تھی لیکن اس وقت مودی کی خاموشی ان تنطیموں کے لیے آسانیاں پیدا کر رہی تھی۔ وزیر اعلیٰ کے طور پر مودی کی توجہ ترقیاتی پہلوؤں پر مرکوز رہی اور رفتہ رفتہ ریاست میں یہ تنظیمیں بہت محدود ہو کر رہ گئیں اور وہ نریندر مودی کو اپنا مخالف سمجھنے لگیں۔

گذشتہ مئی کے انتخابات میں اپنے زور پر تن تنہا اقتدار میں آنے کے بعد یہ ہندو تنظیمیں پوری شدت سے سرگرم ہو گئی ہیں۔ بی بے پی کے اندر بھی بہت بڑی تعداد ایسے رہنماوؤں کی ہے جو ایک طویل عرصے سے بھارت کو ایک ہندو مذہبی ریاست میں تبدیل کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

اس وقت اتر پردیش اور شمالی ہندوستان میں نفرت کی جو لہر پیدا کی جارہی ہے اسے راج موہن گاندھی نے سنہ 1947 کی تقسیم کے وقت کی نفرتوں کی فضا سے تعبیر کیا ہے۔ معروف دانشور اور سماجی کارکن ہرش میندر نے نفرت کی تحریک کو 12 برس قبل گجرات میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے اداروں کے خلاف چلائی گئی تحریک سے موازنہ کیا ہے۔

اس صورتِحال پر وزیرِاعظم مودی کی خاموشی پر اسرار بنتی جا رہی ہے۔ مودی کے ان حامیوں میں بھی بے چینی پیدا ہو رہی ہے جنھون نے بی جے پی کو ترقی کے ایجنڈے کے لیے منتخب کیا اور جو نفرت کی سیاست میں یقین نہیں رکھتے۔ بھارت گجرات نہیں ہے۔ یہ پورا ملک ہے، یہاں خاموشی کی نہیں واضح طور پر یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ بھارت ایک سیکولر جمہوری ملک ہے اور یہاں مذہبی تعصب، تفریق اور عدم رواداری کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

بھارت کے ممتاز ماہر قانون فالی ایس ناریمن نے اقلیتی کمیشن کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندو مذہب اپنی روایتی رواداری اور رحم دلی کھوتا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بہت سے ہندو یہ سوجنے لگے ہیں کہ وہ اقتدار میں اپنے مذہب کی وجہ سے آئے ہیں۔ بقول ان کے بدقسمتی یہ ہے کہ اقتدار کی اعلیٰ سطح پر جو لوگ فائز ہیں وہ اس تصور کو چیلنج نہیں کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہندو مذہب تمام بھارتی مذاہب میں روایتی طور پر سب سے زیادہ روادار رہا ہے۔ لیکن نفرت انگیز تقریروں اور متعصبانہ بیانات سے جس طرح کی مذہبی کشیدگی پیدا ہو رہی ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہندو مذہب کی رواداری کی روایت اس وقت شدید دباؤ سے گزر رہی ہے۔