کیا بھارت اسرائیل کے ساتھ ہے؟

دنیا کسی برے آدمی کے تشدد سے اتنا مجروح نہیں ہوتی جتنا وہ اچھے انسانوں کی خاموشی سے ہوتی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندنیا کسی برے آدمی کے تشدد سے اتنا مجروح نہیں ہوتی جتنا وہ اچھے انسانوں کی خاموشی سے ہوتی ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

غزہ میں اقوام متحدہ کے ایک سکول پر اسرائیلی بمباری کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ایک ترجمان اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رو پڑے۔

انھوں نے کہا کہ غزہ کا المیہ اب ایک ایسے مرحلے میں پہنچ چکا ہے جہاں الفاظ نہیں اشک ہی اس درد کی ترجمانی کر سکتے ہیں۔

چند دنوں پہلے جب بھارت کی پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے غزہ کی صورتحال پر ایک قرارداد منظور کرنے کے لیے حکومت سے بحث کا مطالبہ کیا تو حکومت کا کہنا تھا کہ غزہ کی صورتحال پر بحث ملک کے مفاد میں نہیں ہے کیونکہ اس کے دونوں ہی فریقوں سے دوستانہ تعلقات ہیں۔

سپیکر کی مداخلت سے ایوان میں بحث تو ہوئی لیکن حکومت نے کسی طرح کی قرارداد پاس کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ حکومت کی پوزیشن یہی تھی کہ حماس کو جنگ بندی کے لیے تیار ہونا چاہیے۔

گذشتہ دنوں وزیر خارجہ سشما سوراج سے ایک نامہ نگار نے غزہ پر اسرائیلی حملے کے بارے میں بھارت کے موقف کے بارے میں جب دریافت کیا تو سشما سوراج نے جواب دیا کہ ان کی حکومت فلسطینی کاز کی حمایت کرتی ہے اور اسرائیل بھارت کا ایک قریبی دوست ہے۔

بھارت فلسطینیوں کا بہت قریبی دوست رہا ہے اور ایک فلسطینی مملکت کے قیام کی ان کی جدوجہد میں ہمیشہ ان کا ساتھ دیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ بھارت نے اس جدوجہد میں ہمیشہ عدم تشدد کے راستے کی حمایت کی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کے لیے یہ حمایت کم ہوتی گئی ہے۔

غزہ پر اسرائیلی حملے کے بارے میں بھارت کے موقف کے بارے میں جب دریافت کیا تو سشما سوراج نے جواب دیا کہ ان کی حکومت فلسطینی کاز کی حمایت کرتی ہے اور اسرائیل بھارت کا ایک قریبی دوست ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنغزہ پر اسرائیلی حملے کے بارے میں بھارت کے موقف کے بارے میں جب دریافت کیا تو سشما سوراج نے جواب دیا کہ ان کی حکومت فلسطینی کاز کی حمایت کرتی ہے اور اسرائیل بھارت کا ایک قریبی دوست ہے

بھارت اب اسرائیل کا ایک قابل اعتبار اتحادی ہے۔ وہ اسرائیل سے جنگی سازو سامان خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ دفاع اور قومی سلامتی کے معاملے میں ہی نہیں، ڈیئری، آبپاشی، توانائی اور بہت سے سائنسی شعبے میں اسرائیل بھارت کے ساتھ اشتراک کر رہا ہے۔ گذشتہ کچھ سالوں میں اسرائیل بھارت کے بہت قریب آیا ہے۔

بھارت میں جس طرح فلسطینیوں کے لیے ہمدردی کے جذبات پائے جاتے ہیں اسی طرح آبادی کے ایک بڑے حصے میں ابتدا سے ہی اسرائیل کی حمایت کے لیے بھی جذبات رہے ہیں۔ بی جے پی اور ہندو پسند جماعتیں اسرائیل کی حمایت میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہیں اور اب بھی ہیں۔ دائیں بازو کے دانشور اور مبصر فلسطینیوں کے کازکی حمایت کو مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کی سیاست سے تعبیر کرتے ہیں۔ فیس بک ٹوئٹر اور دوسرے سوشل میڈیاپر یہ دانشور کافی متحرک ہیں۔

بھارت اگر چاہتا تو وہ حماس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے یہ کہہ سکتا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری سے جس بڑے پیمانے پر سیولین ہلاکتیں ہوئی ہیں اور جس طرح شہری علاقوں، ہسپتالوں اور سکولوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ قطعی ناقابل قبول ہے اور اس کا کوئی پر امن حل نکلنا چاہیے۔

اپنی خاموشی سے بھارت یہ واضح پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ اس تصادم میں اگر اسرائیل کے ساتھ نہیں تو کم از کم اسرائیل کے خلاف بھی نہیں ہے۔

بھارت کے سب سے بڑے اخبار نے بھلے ہی غزہ کے بچوں پر کوئی مضمون نہ شائع کیاہو لیکن آج اپنے ادارتی صفحہ پراس نے سیریا کی جنگ کا شکار بچوں پر ضرور مضمون شائع کیا ہے۔ غزہ میں بمباری سے سیکڑوں بچوں کی ہلاکت کے دفاع میں اسرائیل کی یہ دلیل رہی ہے کہ لوگ ‎سیریاکی ہلاکتوں کا ذکر کیوں نہیں کرتے۔

یہ دنیا کی بدلتی ہوئی روش کاعکاس ہے۔ گزرے ہوئے دنوں کا ایک قول یاد آتا ہے کہ دنیا کسی برے آدمی کے تشدد سے اتنا مجروح نہیں ہوتی جتنا وہ اچھے انسانوں کی خاموشی سے ہوتی ہے۔