بھارت دہشت گردی کا مچھلی بازار

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
بھارت کے شہر حیدرآباد کی پولیس نے انجنیئرنگ کے چار طلبا کو عراق کے سنی انتہا پسند گروپ دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے کے لیے عراق جانے سے روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔
عراق کی خطرناک صورتِ حال کے سبب وہاں جانے کے لیے بھارت کی حکومت کی پیشگی اجازت لینی ضروری ہے اس لیے میڈیا کی خبروں کے مطابق یہ چاروں بنگلہ دیش کے راستے عراق جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ چاروں مسلم نوجوان دولتِ اسلامیہ کے جہادی پراپیگنڈے سے متاثر تھے اور ان کی جانب سے لڑنے کے لیے عراق جانا چاہتے تھے۔
اطلاع کے مطابق ان میں سے دو نوجوانوں کے والدین نے ان کے بارے میں پولیس کو الرٹ کیا تھا۔
چند دنوں پہلے افغانستان کی ایک شدت پسند تنظیم کی ویب سائٹ سے یہ خبر سامنے آئی تھی کہ ممبئی کا ایک مسلم نوجوان عراق میں دولتِ اسلامیہ گروہ کی جانب سے لڑتا ہوا مارا گیا تھا۔
اگرچہ ان خبروں کی تصدیق نہیں ہو سکی لیکن اس کے باوجود یہ خبریں بھارتی حکومت اور بالخصوص مسلمانوں کے لیے خاصی تشویشناک بنی ہوئی ہیں۔
بھارت میں ماضی میں تمل ٹائیگرز، ببرخالصہ اور خالصتان کمانڈوز سے لے کر شمال مشرقی ریاستوں کی ان گنت دہشت گرد تنظیمیں سرگرم رہی ہیں۔
کشمیر میں مسلح علیحدگی پسند تحریک کے آغاز کے ساتھ جے کے ایل ایف، حزب المجاہدین اور بعض دوسری مقامی شدت پسند تنطیمین وجود میں آئیں۔ بعد میں العمر، البدر، لشکرِ طبیہ، جیشِ محمد اور حر کت المجاہدین جیسی بین اقوامی تنطیمیں وجود میں آئیں اور ایک طویل عرصے تک بھارت کے عوام اور سکیورٹی فورسز کے لیے ایک مسئلہ بنی رہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پچھلے کچھ برسوں میں انڈین مجاہدین نامی ایک ایسی شدت پسند تنظیم وجود میں آئی جو بظاہر جنوب سے لے کر شمال تک چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں پھیلی ہوئی ہے اور سکیورٹی فورسز کے مطابق یہ تنظیم مذہبی بنیادوں پر تیار کی گئی ایک نظریاتی شدت پسند تنظیم ہے۔
پچھلے کچھ برسوں میں اس تنظیم نے بھارتی عوام کو نشانہ بنانے کے لیے بازاروں، دکانوں، ریستورانوں یہاں تک کہ ہسپتالوں پر حملے کیے ہیں۔
بھارت میں دہشت گرد تنطمییں عموماً سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے نبرد آزما رہی ہیں اور اس میں مذہب کی اتنی کارفرمائی نہیں ہوتی تھی لیکن بین الاقوامی تنظمیوں کی آمد اور بظاہر ان سے رابطے کے نتیجے میں انڈین مجاہدیں جیسی تنظیمیں مذہبی طور پر ریڈیکلائزڈ شکل میں سامنے آئیں۔
گذشتہ 25 برسوں سے بھارت ہر طرح کے دہشت گردوں کا مچھلی بازار بنا رہا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ سبھی دہشت گرد تنظیمیں اپنی معنویت اور اپنا وجود کھو چکی ہیں اور اب جب دہشت گردی ماند پڑ چکی ہے تو اچانک افغانستان کے سنگلاخ غاروں میں روپوش القاعدہ کے ایمن الظواہری نے برصغیر میں دہشت گردی کے ایک نئے دور کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔
25 برس کی دہشت گردی کے دوران بین القوامی شدت پسند تنظیمیں بھارتی مسملمانوں کو اپنی صفوں میں شامل کرنے میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کر سکیں۔
بھارت میں بیشتر شدت پسند تنظیمیں دم توڑ چکی ہیں یا بےاثر ہو چکی ہیں۔ برصغیر میں شدت پسندی کے راستے مسدود ہو رہے ہیں۔
دنیا کے کسی بھی ملک کی طرح بھارت میں بھی دنیا اور انسانوں سے بیزار قسم کے کچھ مایوس نوجوان دولتِ اسلامیہ اور ایمن الظواہری کےگروہ میں شامل ہونے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔
یہ سوال بھارت کی حکومت اور سکیورٹی فورسز کے لیے آنے والے دنوں میں ایک مسئلہ بنا رہے گا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مذہبی انتہا پسندی کی اندورنی جنگ میں خودساختہ رہنماؤں اور ان کے انتہا پسند نظریات کا مستقبل بھی پوری طرح غیر یقینی حالات کا شکار ہے۔







