’امریکہ افغان شہری ہلاکتوں کی تحقیقات میں ناکام‘

حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹریشنل کے مطابق امریکہ اپنی فوج کی وجہ سے افغان عام شہریوں کی ہلاکت کے واقعات کی تحقیقات اور اس میں ملوث اہلکاروں کو سزا دینے میں ناکام رہا ہے۔
ایمنسٹی کی ایک نئی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں قابل ذکر جنگی جرائم کی تحقیقات اور اس میں ملوث افراد کو سزا نہیں دی جا سکی۔
اس رپورٹ میں امریکی افواج کی سال 2009 اور 2013 کے درمیان افغانستان میں فضائی کارروائیوں اور رات کو چھاپوں پر توجہ مرکوز رکھی گئی ہے۔
ایمنسٹی کی 84 صفحات پر مشتمل رپورٹ’ تاریکی میں چھوڑ دیا‘ رپورٹ پر نیٹو نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ہے کہ وہ رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اس پر اپنا ردعمل دیں گے۔
نیٹو کے ایک ترجمان کے مطابق وہ شہری ہلاکتوں کے الزامات کو بڑی سنجیدگی سے لیتے ہیں اور تمام رپورٹس کی مکمل چھان بین کی جائے گی۔
اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں گذشتہ سال شہری ہلاکتوں میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق گذشتہ سال تین ہزار عام شہری مارے گئے جبکہ پانچ ہزار چھ سو زخمی ہوئے۔
زیادہ تر ہلاکتیں سڑک کنارے نصب بم دھماکوں، سکیورٹی افواج اور طالبان شدت پسندوں کے درمیان لڑائی کی زد میں آنے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
افغانستان میں عام شہریوں کی ہلاکت کا معاملہ نیٹو کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ ہے کیونکہ شہری ہلاکتوں کی وجہ سے کئی بار صدر حامد کرزئی کے تعلقات امریکہ سے کشیدہ ہوئے اور اسی وجہ سے گذشتہ سال ایک واقعے میں شہری ہلاکتوں کے بعد افغان صدر نے شہری علاقوں میں غیر ملکی فضائی مدد طلب کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ میں جائزہ لیا گیا کہ کس طرح امریکہ نے ایسے واقعات میں شہری ہلاکتوں تحقیقات کیسے کیں اور فوجی کارروائیوں کے دوران ہلاکتوں کے ذمہ داروں کا احتساب کرنے میں ناکام کیوں رہا۔
ایمنسٹی کے ایشیا پیسفک کے ڈائریکٹر رچرڈ بینٹ کے مطابق’افغانستان میں امریکی چڑھائی کے بعد سے ہزاروں افغان شہری مارے گئے لیکن متاثرین اور ان اہلخانہ کو تھوڑا بہت ہی انصاف مل پایا۔ امریکی فوج کا عدالتی نظام اپنے فوجیوں کو ماورائے عدالت ہلاکتوں اور تشدد کے واقعات میں سزا دینے میں تقریباً ناکام رہا۔
رپورٹ میں افغانستان کی حکومت پر بھی زور دیا گیا کہ وہ ایسا طریقۂ کار وضع کریں جس کے تحت تشدد اور دیگر مظالم میں ملوث افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سے پوچھ گچھ اور انھیں سزا دی جا سکے۔







