’دوستوں کی جاسوسی کرنا ناقابلِ قبول ہے‘

،تصویر کا ذریعہReuters
انڈیا نے امریکہ سے کہا ہے کہ ’ایک دوست ملک‘ کی جانب سے اس کی جاسوسی کی جانی ناقابل قبول ہے۔
انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سواراج نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے بات چیت کے دوران انھیں ان الزامات پر انڈیا کی ناراضگی سے آگاہ کرایا کہ امریکہ کے خفیہ ادارے این ایس اے نے بی جے پی کے رہنماؤں کی جاسوسی کی تھی۔
جواب میں جان کیری نے کہا کہ صدر اوباما نے اس پالیسی پر نظر ثانی کا حکم دیا ہے اور بتایا کہ امریکہ انڈیا کی تشویش کو سمجھتا ہے۔
امریکہ اور انڈیا کے درمیان آج دلی میں سٹریٹیجک مذاکرات کا پانچواں دور ہوا جس میں جان کیری نے کہا کہ امریکہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ مل کر باہمی تعلقات کو تیزی سے آگے بڑھانا چاہتا ہے۔
بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت اور امریکہ کے درمیان وزارتی سطح پر یہ پہلا رابطہ ہے۔
بات چیت میں سیکورٹی اور تجارت سمیت تمام کلیدی معاملات پر تبادلہ خیال ہوا لیکن کوئی بڑا اعلان نہیں کیا گیا۔
جان کیری نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت کے ساتھ مل کر وہ تعلقات کو تیزی سے آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔
امریکہ کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ بھارت اپنی منڈیوں تک رسائی کی راہ میں حائل رکاوٹٹیں ختم کرے اور خاص طور سول جوہری معاہدہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اقدامات کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارت کو آؤٹ سورسنگ کے خلاف امریکہ کے اقدامات پر خاص تشویش ہے جس سے ملک کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
سشما سواراج نے اس سلسلے میں امریکہ میں وضع کیے جا رہے ایک قانون پر اپنی حکومت کی تشویش سے مسٹر کیری کو آگاہ کیا۔
جواب میں جان کیری نے کہا کہ یہ بل عنقریب قانون کی شکل اختیار نہیں کرے گا اور صدر اوباما اس میں ترمیم کی حمایت کریں گے۔
انھوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ عالمی تنظیم برائے تجارت (ڈبلیو ٹی او) کے ایک معاہدے پر انڈیا کے ساتھ تنازع ختم ہو سکتا ہے۔
جان کیری جمعہ کی صبح وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کریں گے جنھیں امریکہ گجرات کے فسادات کی وجہ سے ویزا دینے سے انکار کرتا رہا تھا لیکن مسٹر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد خود صدر اوباما نے انھیں امریکہ آنے کی دعوت دی تھی۔
مسٹر مودی ستمبر میں امریکہ جائیں گے اور آج کی بات چیت میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے لیے بھی تیاری کی گئی۔
اس موقعے پر وفاقی وزیر نرملا سیتارمن نےکہا کہ ’دنوں ملک تعلقات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم کے دورے سے پہلے ہم ان شعبوں پر توجہ دے رہے ہیں جن میں ٹھوس پیش رفت کی گنجائش ہے تاکہ جب دونوں رہنما ملیں تو انھیں حتمی شکل دی جاسکے۔‘
سٹراٹیجک مذاکرات میں سٹراٹیجک تعاون، ماحولیات کی تبدیلی، توانائی، تعلیم اور ترقی، معیشت، تجارت، زراعت، سائنس اور ٹیکنالوجی، اور صحت جیسے کلیدی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے دونوں ملکوں کے درمیان روابط میں گرم جوشی کی کمی رہی ہے۔
دونوں ملک باہمی تجارت کو موجودہ سو ارب ڈالر سے بڑھا کر پانچ سو ارب ڈالر تک پہنچانا چاہتے ہیں لیکن یہ منزل ابھی دور ہے۔







