اترپردیش: سہارن پور میں مسلم سکھ فسادات، دو افراد ہلاک، کرفیو نافذ

بھارتی ریاست اترپردیش کے سہارنپور ضلعے میں دو اقلیتی برادریوں، مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان سنیچر کو پرتشدد واقعات رونما ہوئے جس میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہیں۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے سلسلے میں بارہ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
یہ تنازع شہر کے علاقے قطب شیخ میں ایک گردوارے کی زمین کے حوالے سے پیدا ہوا ہے تاہم اس نے فرقہ وارنہ رخ اختیار کر لیا۔
پر تشدد تصادم میں پولیس اہلکار سمیت تقریباً 20 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ بعض بھارتی ٹی وی چینلوں کے مطابق اس میں دو افراد کی ہلاکت کی اطلاعات بھی ہیں۔
زخمیوں کو سہارنپور کے ضلع ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
بی بی سی سے بات چیت میں سہارنپور کے سینئر پولیس اہلکار راجیش پانڈے نے بتایا کہ شہر میں قطب شیخ، کوتوالی اور منڈی سمیت تمام پانچ تھانہ علاقوں میں كرفیو لگا دیا گیا ہے۔
ادھر مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے یوپی کے حالات کے بارے میں وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو سے فون پر بات چیت کی ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے اکھلیش سے یوپی میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے ضروری قدم اٹھانے کے لیے کہا اور مرکزی حکومت سے ہر طرح کی مدد کی یقین دہانی کرائی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں فرقوں کی جانب سے مشتعل ہجوم نے پر تشدد رخ اپنایا اور علاقے میں بڑے پیمانے پر آگ زنی کے واقعات نظر آئے۔
بھیڑ پر قابو پانے کے لیے مقامی پولیس کو ربڑ کی گولیاں چلانی پڑیں۔
تنازع اس وقت شروع ہوا جب دو مذہبی مقامات کے درمیان کی زمین پر طرفین میں سے ایک نے کچھ تعمیراتی کام شروع کیا۔

،تصویر کا ذریعہPTI
اترپردیش کے چیف سیکریٹری آلوک رنجن نے اس بارے میں کہا: ’وہاں اضافی فورسز روانہ کی گئی ہیں۔ امن و امان قائم رکھنے کے لیے وہاں دفعہ 144 لگی ہوئی ہے۔ ہم کسی کو امن و امان میں خلل ڈالنے نہیں دیں گے۔‘
اس سے قبل پڑوس کے ایک دوسرے ضلعے مرادآباد میں بھی حالات کشیدہ ہیں اور وہاں ایک مندر سے لاؤڈسپیکر ہٹائے جانے کا معاملہ سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
وہاں امن مارچ کیا جا رہا جبکہ بعض ہندو تنظیمیں اس پر مہا پنچایت کرنا چاہتی ہیں۔
واضح رہے کہ اسی قسم کی مہا پنچایت کے بعد اتر پردیش میں سہارنپور سے ملحق ضلع مظفر نگر میں ہندومسلم فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے جن میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے اور مسلمانوں کو بڑی تعداد میں اپنا گھر بار چھوڑ کر کیمپوں میں پناہ لینی پڑی تھی۔







