راجستھان کے مشہور تھیوا زیورات کو شناخت مل گئی

،تصویر کا ذریعہabha sharma
راجستھان میں پرتاپ گڑھ کے مشہور ’تھیوا‘ زیورات کی نقل کرنا اب آسان نہیں ہوگا کیونکہ اب اس دستکاری کو،’جيوگرافیكل آئڈنٹیفكیشن ٹیگ‘ یعنی جيائی ٹیگ مل گیا ہے۔
’تھیوا‘ یعنی چمکتے رنگین کانچ پر ہاتھ سے نقاشی کی گئی سونے کی خوبصورت دستکاری کو روایتی طور پر پرتاپ گڑھ کے راجستھانی کاریگر بناتے ہیں۔
جيائی ٹیگ ایسی مصنوعات کو ملتا ہے، جو کسی خاص جغرافیائی علاقے میں روایتی طریقے سے بنائے جاتے ہیں یہ ٹیگ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ مصنوعات اصلی ہیں۔
لیکن تھیوا زیوروں کو اس جيائی ٹیگ کی ضرورت کیوں پڑی۔

،تصویر کا ذریعہabha sharma
اس بارے میں ، پرتاپ گڑھ میں راجستھان تھیوا فنکاروں سے متعلق ادارے کے نائب صدر مہیش راجسونی کہتے ہیں،’ کچھ لوگ سونے کی جگہ پیتل، اور گلاس کے جگہ پلاسٹک کا استعمال کر کے ’تھیوا‘ زیوارات بنا اور فروخت کر رہے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں، ’خریدار کو صحیح چیز نہیں ملتی وہ 100 روپے کی چیز چار ہزار میں خريد كر ٹھگ لیا جاتا ہے اور ساتھ ہی تھیوا کا نام بھی بدنام ہوتا ہے‘۔
مہیش بتاتے ہیں،’جيوگرافیكل آئڈنٹیفكیشن ٹیگ‘ملنے کے بعد اب کوئی دوکاندار جعلی مال کو اصلی بتا کر نہیں بیچ سکتا اگر کوئی ایسا کرتا ہے، تو اسے پچاس ہزار روپے کا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔
زیورات ڈیزائنگ اور ٹیکنالوجی کے ماہر ڈاکٹر پراگ کے ویاس کہتے ہیں جيائی ٹیگ سے اصلی تھیوا زیور اور بڑے پیمانے پر مشینوں سے بنائے جانے والے جعلی زیوارات میں فرق کرنے میں سہولت ہوگی‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہPAWAN SONI
پراگ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ، "پرتاپ گڑھ کے راجسونی خاندان کے کئی قریبی خاندان دوسری جگہ جا کر تھیوا زیور بناتے ہیں انہیں اس ’جيائی ٹیگ‘ سے مشکل ہو سکتی ہے‘۔
تھیوا زیورات میں بیلجیئم کے کانچ کے تمام رنگ استعمال ہوتے ہیں، ان میں سب سے زیادہ مقبول ہے سرخ، سبز اور نیلے رنگ ہیں۔
تھیوا میں گلے کا ست رنگی ہار، چوڑیاں، بالیاں، پینڈنٹ اور دیگر زیور کے علاوہ آرائشی سامان بھی تیار کیا جاتا ہے۔
مہیش راجسونی کے مطابق 22 کیرٹ سونے کی پرت پر پہلے نقاشی کی جاتی ہے پھر اسے گرم کر احتیاط سے اتار کر اسےدو ملی میٹر موٹے رنگین شیشے پر چڑھایا جاتا ہے۔
سب کام ہاتھ سے ہوتا ہے اور ایک چھوٹا سا پیس بنانے میں پورا دن لگ جاتا ہے۔







