بھارت میں تقدیر بدلنے والے ادارے

،تصویر کا ذریعہIIT Mumbai
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
بھارت کے اخبارات نے آج ممبئی کے نواحی شہر بھیونڈی کے دو جڑواں بھائیوں رام اور شیام کی خبر شائع کی ہے۔
یہ دونوں بچے ایک غریب بس ڈرائیور کے بیٹے ہیں۔ پانچ بھائیوں بہنوں اور ماں باپ کے ساتھ سات افراد کا یہ خاندان چھوٹے سے ایک کمرے کے مکان میں زندگی بسر کرتا ہے۔
ان دونوں بچوں نے جمعرات کو بھارت کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی یعنی آئی آئی ٹی میں داخلے کا امتحان پاس کیا ہے۔ اگر سب کچھ معمول کے مطابق ہوا تو کچھ دنوں میں ان دونوں بھائیوں کا شمار بھی دنیا کے کامیاب ترین انسانوں میں ہو گا۔
جب دنیا کے عظیم تعلیمی اداروں کا ذکر ہوتا ہے تو فوراً ہی ایم آئی ٹی، ہاورڈ یونیورسٹی، آکسفورڈ یونیورسٹی، کیمبرج، ایل ایس ای، پرنسٹن، کیلیفورنیا اور اسی طرح کے درجنوں نام یکلخت ذہن میں آتے ہیں۔ بھارت میں یوں تو سینکڑوں یونیورسٹیاں، ٹیکنالوجی کے ادارے اور میڈیکل کالج موجود ہیں لیکن ان میں سے دو چار کو چھوڑ کر شاید ہی کوئی ادارہ بین الاقوامی معیار پر پورا اترتا ہو۔
بھارت میں وسائل کی کمی نہیں ہے اور حکومتوں کے پاس خرچ کرنے کے لیے اربوں روپے ہوتے ہیں۔ تعلیم اب زبردست منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ نجی کمپنیاں اور صنعت کار ملک میں نئی نئی جدید یونیورسٹیاں، میڈیکل اور منیجمنٹ کے کالج اور ادارے کھول رہے ہیں۔ کچھ عشرے قبل بھارت کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے۔
حکومت نے ان دنوں ملک میں دہلی، مدراس، کولکتہ، کانپور اور ممبئی میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کھولے۔ یہ ملک کا دوسرا ایک ایسا ادارہ بن گیا جہاں سے گریجویشن کرنے والے طلبا کو ملازمت ملنا یقینی ہوتا تھا۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔
ابتدائی دنوں میں آئی آئی ٹیز میں شہر کے اعلیٰ اور متوسط تعلیم یافتہ طبقوں کے بچے ہی داخلہ لے پاتے تھے۔ یہاں تعلیم انتہائی معیاری، سخت اور جدید خطوط پر دی جاتی ہے۔ یہاں داخلہ ایک کامیاب زندگی کا ضامن تھا۔ 70 کی دہائی اور اس کے بعد یہاں تعلیم پانے والے طلبا کو امریکہ اور یورپ کی بڑی بڑی کمپنیاں اور تحقیقی ادارے اپنی طرف راغب کرنے لگے۔ اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔
آئی آئی ٹیز کی تعداد بڑھ کر اب 19 تک پہنچ چکی ہے لیکن اصل ادارے اب بھی صرف آٹھ ہیں اور ان میں سے ہر برس تقریباً 8000 طلبا انجینئیرنگ، خلائی شعبے اور سائنس کے تمام شعبوں میں گریجویشن کرتے ہیں۔ ماضی کی طرح اب بھی ان طلبا کی اکثریت امریکہ اور یورپ اعلیٰ تعلیم اور ملازمت کے لیے چلی جاتی ہے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آئی آئی ٹی کے طلبا آج امریکہ کے ہر بڑے ادارے اور ہر بڑی کمنپنیز میں بڑی تعداد میں نظر آئیں گے۔ یہاں سے فارغ ہونے والے طلبا سب سے زیادہ تنخواہ پانے والے پیشہ ور ہی نہیں بلکہ دنیا کے کامیاب ترین انسانوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا تعلیمی ادارہ ہے جس کا ہر طالبِ علم کامیاب ہوتا ہے۔ جس کے ہر طالبِ علم کو بہترین ملازمت کی ضمانت ہوتی ہے۔
پچھلے کئی سالوں سے بھارت کی سول سروس میں بھی آئی آئی ٹی کے طلبا بڑی تعداد میں آ رہے ہیں۔
آئی آئی ٹی بھارت جیسے ترقی پذیر ملک میں ایک تعلیمی معجزہ ہے۔ یہ ادارہ پوری طرح حکومت کا امداد یافتہ ہے۔ یہاں فیس بہت مناسب ہے اور ایڈمیشن کھلے مقابلے سے ہوتا ہے۔ پچھلے بیس پچیس سالوں میں آئی آئی ٹیز ہی میں نہیں ملک کے تمام اولین میڈیکل کالجز اور باوقار منیجمنٹ کے اداروں میں گاؤں اور چھوٹے چھوٹے قصبوں کے غریب اور پسماندہ طبقوں کے طلبا کی اکثریت مقابلے کے ذریعے داخلہ لینے میں کامیاب ہو رہی ہے۔
بھارت میں گاؤں، قصبے اور چھوٹے چھوٹے شہر خاموشی کے ساتھ تعلیم کے ایک انقلاب سے گزر رہے ہیں۔ ہر جگہ اچھے اداروں میں داخلہ حاصل کرنے کی جدو جہد ہو رہی ہے۔ بھارت کی اکثریت گاؤں اور چھوٹے چھوٹے قصبوں میں آباد رہی ہے اور ان کی اکثریت ابھی ترقی کے عمل کا فائدہ نہیں اٹھا سکی تھی۔ اب وہ صرف تعلیم ہی نہیں میعاری تعلیم کے ذریعے اپنا مقدر تبدیل کر رہے ہیں۔
بھیونڈی کے جن دو غریب بھائیوں کی تصویریں آج اخباروں میں شائع ہوئی ہیں وہ پانچ برس بعد دنیا کی کسی بڑی کمپنی یا کسی بین الاقوامی تحقیقی ادارے میں اپنا مقام متیعن کر رہے ہوں گے۔ ان کی دنیا یکسر بدل چکی ہے۔







