’ہیپی ان تہران‘ پر گرفتاری اور تذلیل

،تصویر کا ذریعہYoutube
- مصنف, طاہر عمران
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
اگر خوشیاں پھیلانے پر آپ کو تھانے اور حوالات کی سیر کرنی پڑ جائے اور سرکاری ٹی وی پر آپ کی تذلیل کی جائے تو ایسی خوشی کا کیا فائدہ؟
ایران میں چند نوجوانوں کے گروپ کو پولیس نے پاپ گلوکار فیرل ولیمز کے گانے ’ہیپی‘ کی میوزک ویڈیو <link type="page"><caption> ’ہیپی ان تہران‘</caption><url href="https://www.youtube.com/watch?v=i-saMfNbwmw" platform="highweb"/></link> بنانے پر گرفتار کیا ہے۔
یہ ویڈیو انٹرنیٹ پر آنے کے بعد وائرل ہو گئی، جس کے بعد ان نوجوانوں کو ملک کے سرکاری ٹی وی پر ہتھکڑیاں لگا کر پیش کر کے اعترافی بیانات دلوائے گئے کہ انھیں جھانسہ دیا گیا تھا اور اس پر ندامت کا اظہار کرنے پر مجبور کیا گیا۔
اس خبر کی اشاعت کے کچھ دیر بعد ایران سے آمدہ اطلاعات کے مطابق ان نوجوانوں کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے اور ان میں سے ایک لڑکی نے انسٹاگرام پر اپنی تصویر لگا کر تصدیق کی کہ انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق فیرل ولیمز کے گانے ’ہیپی‘ کی ویڈیو 21 مارچ کو پوسٹ کی گئی اور چونکہ یہ گانا نوجوانوں میں بے حد مقبول ہے اس لیے اس کے ایک نہیں بلکہ دو ایرانی ورژن انٹرنیٹ پر ہیں جبکہ کئی اور ممالک میں بھی اس کے ورژن بنائے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
’ہیپی ان تہران‘ کو ہٹائے جانے اور گرفتاری سے قبل 165000 بار دیکھا جا چکا تھا تاہم ان نوجوانوں کی سرکاری ٹی وی پر سرعام بے عزتی پر جسے ان کی ’عزت کے تحفظ‘ کا نام دیا گیا ہے، سوشل میڈیا پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
ایران کے <link type="page"><caption> سرکاری ٹی وی پر </caption><url href="https://www.youtube.com/watch?v=N5jyIR3NdjE" platform="highweb"/></link>ایک پولیس افسر بڑے فخر سے بتاتا ہے کہ اس نے بڑی محنت کر کے ان افراد کو شناخت کیا اور چند گھنٹوں میں گرفتار کیا حالانکہ یہ ویڈیو ایک مہینے سے زیادہ عرصے سے انٹرنیٹ پر موجود تھی۔
اس ویڈیو کے بعد میزبان ان سے سوال و جواب کرتا ہے اور ان نوجوانوں میں سے ایک بتاتا ہے کہ انھیں معلوم نہیں تھا کہ ان کی یہ ویڈیو نشر کی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد یہی پولیس افسر نوجوانوں کو خبردار کرتا ہے کہ وہ اس طرح کی فلمیں بنانے والوں کے جھانسے میں نہ آئیں اور انھوں نے اس ویڈیو کو ’فحش‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی ویڈیو ’عوام الناس کی پاکیزگی کو زک پہنچاتی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
ایران کے سرکاری ٹی وی پر اس ساری نشریات کا مقصد میزبان کے بقول ان نوجوانوں کی ’عزت کی حفاظت کرنا ہے۔‘
اس ویڈیو میں شامل نوجوانوں میں سے ایک نے اس قبل ایران وائر نامی ویب سائٹ کوبتایا تھا کہ انھوں نے ’اپنے بالوں کو وِگ کے ذریعے‘ ڈھانپا تاکہ وہ ’اسلامی شعائر‘ کی خلاف ورزی کی مرتکب نہ ہوں اور یہ کہ ’دنیا کو معلوم ہو کہ ایران ان کی سوچ کے برعکس ایک بہتر جگہ ہے۔‘
اس کے بعد ایرانیوں نے ہیش ٹیگ #freehappyiranians استعمال کر کے ہزاروں ٹویٹس شروع کر دیں جن میں کئی نے ایرانی صدر کو بھی ٹیگ کر کے مخاطب کیا۔
ایرانی صحافی گلناز اسفند یاری نے ٹویٹ کی کہ ’ایران وہ ملک ہے جہاں ’خوش ہونا‘ جرم ہے۔‘
شیما کلباسی نے ٹویٹ کی کہ ’اگر آپ تہران میں فیرل کے گانے پر رقص کریں گے تو آپ کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
یہاں تک کے گلوکار فیرل ولیم نے بھی اس پر ٹویٹ کر کے اظہارِ خیال کیا: ’یہ سخت افسوس کی بات ہے کہ ان بچوں کو خوشیاں پھیلانے کی کوشش پر گرفتار کر لیا گیا۔‘
یاد رہے کہ 17 مئی کو ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ ’سائبر سپیس کو ایک موقع سمجھا جانا چاہیے جہاں دو طرفہ رابطے کیے جاتے ہیں، کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور روزگار کے موقع پیدا ہوتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’حکومت موجودہ صورتحال سے خوش نہیں ہے اور انٹرنیٹ کی رفتار کو گھروں، کاروبار اور موبائلز پر بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
مبصرین ان نوجوانوں کے خلاف اس کارروائی کو صدر روحانی کے دور میں بڑھتی ہوئی آزادی کے خلاف ایک تنبیہ کے طور پر لے رہے ہیں تاکہ لوگوں کو خبردار کیا جا سکے کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔
بعض مبصرین اس کا تعلق انٹرنیٹ پر ان تصاویر سے جوڑ رہے ہیں جس میں گذشتہ دنوں خواتین نے حجاب کے بغیر تصاویر سوشل میڈیا پر شائع کی گئی تھیں۔







