بالی وڈ کو اظہار کا حق کیوں نہیں؟

،تصویر کا ذریعہbbc
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
کچھ دن پہلے عالمی سطح کے کئی سرکردہ بھارتی اور بھارتی نژاد ادیبوں نے بھارتی عوام سے اپیل کی وہ سیکیولر ازم اور ایک اعتدال پسند سیاسی نظام کی بقا کے لیے انتخابات میں نریندر مودی کو مسترد کر دیں۔
اسی طرح کی ایک اور ’اپيل‘ کچھ دنوں پہلے بھارت کی کئی سرکردہ شخصیات کی طرف سے بھی جاری کی گئی لیکن جب گزشتہ دنوں بالی وڈ کے کچھ ادیبوں ، نغمہ نگاروں اور اداکاروں نے ووٹروں سے اسی طرح کی اپیل کی تو پورے ملک میں بحث چھڑ گئی اور پوری فلم انڈسٹری دو حصوں میں تقسیم ہوتی نظر آئی۔
بالی وڈ کے درجنوں ہدایت کاروں ، موسیقاروں ، گلوکاروں اور اس سے وابستہ شخصیات کی طرف سے جو اپیل کی گئی تھی اس میں اگرچہ کسی پارٹی کا نام نہیں تھا لیکن اس میں سیکیولر ازم اور بھارت کی ملی جلی تہذیب کو بچانے کے لیے سیکیولر امیدواروں کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل سے یہ واضح تھا کہ یہ نریندر مودی اور ان کی جماعت کے خلاف ووٹ ڈالنے کی اپیل ہے۔
ہندی فلم انڈسٹری کے کئی سرکردہ اداکار اور ہدایت کار نہ صرف بی جے پی کے حامی ہیں بلکہ وہ پوری شدت سے اپنے سیاسی نظریے کا پرچار بھی کسی نہ کسی شکل میں کرتے رہے ہیں۔
بی جے پی کی طرف سے ونود کھنہ ، ہیما مالنی ، شترو گھن سنہا ، منوج تیواری، سمرتی ایرانی ، بپی لہری اور کرن کھیر جیسی فلمی شخصیات انتخابی میدان میں ہیں۔ اداکار سلمان خان نے تو ایک مرحلے پر مودی کی امیدواری کی تقریباً حمایت ہی کر دی تھی۔
سلمان کے والد ، سلیم اختر نے گزشتہ دنوں مودی کی ویب سائٹ کے اردو ورژن کا افتتاح بھی کیا۔ لتا منگیشکر اور انوپم کھیر بھی مودی کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ دھرمیندر، منوج کمار، ابھیجیت اور سنی دیول بی جے پی کے زبردست حامی ہیں اور اس کا اظہار کرتے ہیں ۔
بالی وڈ کے کئی دیگر اداکار کانگریس اور دوسری جماعتوں کے حامی بھی ہیں اور جیہ پردا اور راج ببر جیسے کئی انتخابی سیاست میں بھی سرگرم بھی ہیں۔
بالی وڈ کی یہ خصوصیت رہی ہے کہ اس نے ملک کی سیاست میں خود کو غیر جانبدار رکھا ہے اور فلمی صنعت کے کئی ارکان کی سیاسی وابستگی کے باوجود اس پہلو کو پیشہ ورانہ اور ذاتی رشتوں پر غالب نہیں ہونے دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گزشتہ دنوں جب بالی وڈ کے کئی سرکردہ ارکان نے ووٹروں سے اپیل پر دستخط کیے تو اگرچہ اس کی نوعیت انفرادی تھی لیکن چونکہ یہ اس طرح کی پہلی اپیل تھی اس لیے اس پر تنازعہ پیدا ہونا لازمی تھا۔
فلم اظہار کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ ہندی فلمیں اگرچہ بنیادی طور پر معاشرے کی حقیقتوں کی عکاسی نہیں کرتیں اور ان کی نوعیت بنیادی طور پر تفریحی ہے لیکن اس کے باجود ان فلموں کے ذریعے مثبت معاشرتی پیغام دیے جاتے رہے ہیں۔
فلمی دنیا سے وابستہ لوگ معاشرے کے ایک باشعور طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں اور جس طرح بہت سے فلمی ستاروں کو انتخاب لڑنے کا حق حاصل ہے اسی طرح فلمی صنعت کے ہر فرد کو ملک کی سیاست کے بارے اپنے خیالات کے اظہار کا حق بھی ہے۔
انہیں کسی مخصوص نظریے کی سیاست کو مسترد کرنے کی اپیل کرنے کا بھی حق بھی حاصل ہے۔ بالی وڈ نے ہمیشہ رواداری ، محبت ، اعتدال پسندانہ اور ترقی پسندانہ خیالات کو فروغ دیا ہے اور وہ سیاست میں بھی انہیں اقدار کی توقع کریں گے۔
جنہیں اس اپیل پر اعتراض ہے انہیں اس بات کی بھی وضاحت کرنی چاہیے کہ گجرات کے فسادات پر بنی فلم ’پرزانیہ‘ کو گجرات میں نہ دکھائے جانے پر انہوں نے احتجاج کیوں نہیں کیا تھا۔ اور وہ اس وقت خاموش کیوں رہے تھے جب نرمدا آندولن کی رہنا میدھا پاٹکر کے ساتھ چند منٹ کےاتحاد کے اظہار کی پاداش میں عامر خان کی فلم ’سرفروش‘ کو گجرات میں دکھائے جانے پر پابندی لگائی گئی تھی ۔







