راجیو گاندھی کے قاتلوں کی سزا عمر قید میں تبدیل

،تصویر کا ذریعہap
بھارت کی سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کے الزام میں موت کی سزا پانے والے تین افراد کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے۔
چیف جسٹس پی ستھاشوم کی سربراہی میں بینچ نے منگل کو یہ فیصلہ سنایا۔
راجیو گاندھی کے قتل کے الزام میں ستھن، مرگن اور پیراريوالن کو عدالت نے 1998 میں موت کی سزا سنائی تھی۔
ان افراد نے 2000 میں صدر کو معافی کی درخواست دی تھی لیکن 11 سال کے بعد صدر نے ان کی درخواست خارج کر دی تھی۔
پہلے انہیں 2011 میں پھانسی دی جانی تھی لیکن مدراس ہائی کورٹ کے حکم پر اس پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت تھا۔
ان افراد کے وکیل نے صحافیوں کو بتایا، ’سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ جو آدمی پھانسی کے پھندے کے نیچے رہتا ہے، جس کی رحم کی درخواست پر پہلے ہی سے اتنی دیر ہو چکی ہے، ظاہر ہے اسے بہت تکلیف برداشت کرنا پڑی ہے۔ ان حالات میں ان کی موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنا ہی صحیح ہوگا۔‘
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر خوشی ظاہر کی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کی اعلی اہلکار دیویا ایئر نے کہا: ’بھارت میں اب سزائے موت کو ختم کر دیا جانا چاہیے۔ یہ سزا دینے کا وحشیانہ طریقہ ہے جس کے بارے میں ابھی تک یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ اس سے جرم روکنے میں کوئی مدد ملتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ ماہ بھارت میں سپریم کورٹ نے 14 لوگوں کی موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہPhoto Sena Vidanagama
سابق بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی مئی 1991 میں تمل ناڈو میں ایک انتخابی ریلی کے دوران ایک خودکش حملے میں مارے گئے تھے۔
ستھن، مرگن اور پیراريوالن سری لنکا کے تامل باغی باغیوں کے رکن رہے ہیں۔ سری لنکا میں علیحدہ تمل قوم کے لیے جدوجہد کرنے والی اس شدت پسند تنظیم کو 2009 میں ختم کر دیا گیا۔
راجیو گاندھی نے 1987 میں بطور بھارتی وزیرِ اعظم سری لنکا میں بھارتی امن فوجی بھیجے تھے۔ ان کے قتل کو اسی کا انتقالم سمجھا جاتا ہے۔
باغیوں نے 2006 میں راجیو گاندھی کے قتل پر افسوس ظاہر کیا تھا۔







