بھارت میں تعلیم کی زبوں حالی پر یونیسکو کی رپورٹ

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
بھارت میں غریب گھروں سے تعلق رکھنے والے 90 فیصد بچے چار سال سکول جانے کے بعد بھی پڑھنے لکھنے کی صلاحیت حاصل نہیں کر پاتے جبکہ ملک میں ناخواندہ بالغوں کی تعداد تقریباً 29 کروڑ ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی تازہ ترین رپورٹ کےمطابق دنیا بھر میں ناخواندہ بالغوں کی کل تعداد کا 37 فیصد حصہ بھارت میں رہتا ہے۔ ادارے کے مطابق ملک میں آبادی کے تناسب سے خواندگی میں تو اضافہ ہوا ہے لیکن آبادی بڑھنے کی وجہ سے ناخواندہ افراد کی مجموعی تعداد کم نہیں ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت کے خوشحال طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین میں اب سو فیصد خواندگی ہے لیکن غریب ترین طبقےکے لیے منزل ابھی دور ہے اور یہ ہدف سنہ 2080 تک ہی حاصل ہونے کا امکان ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ دنیا کی ناخواندہ آبادی کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ صرف دس ملکوں میں رہتا ہے اور تعلیم کے خراب معیار کی وجہ سے بھارت میں 90 فیصد غریب بچے چار سال تک سکول جاتے رہنے کے بعد بھی لکھ پڑھ نہیں پاتے۔ مزید برآں غریب ممالک میں صورتحال اتنی خراب ہے کہ ہر چار میں سے ایک بچہ ایک جملہ بھی نہیں پڑھ سکتا۔

،تصویر کا ذریعہAP
یونیسکو کا کہنا ہے کہ ’تعلیم سب کے لیے‘ پروگرام کےتحت 2015 کے لیےجو اہداف قائم کیے گئے تھے ان میں سے زیادہ تر حاصل نہیں کیے جاسکیں گے اور یہ کہ نئے اہداف طے کرتے وقت اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ حکومتیں قومی مجموعی پیداوار کا کم سے کم چھ فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کریں۔
ہندوستان میں بچوں کو سکول بھیجنے کی راہ میں کافی پیش رفت ہوئی ہے لیکن ماہرین کے مطابق سکولوں کی خراب حالت اور کئی ریاستوں میں خود اساتذہ کی لاپروائی کی وجوہ سے تعلیم کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔
ماہرتعلیم کرشن کانت کہتے ہیں کہ صورتحال غریب ریاستوں میں زیادہ خراب ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بہار میں چھ ہزار روپے کے مقابلے جنوبی ریاست کیرالہ میں ایک بچے کی تعلیم پر تقریباً 40 ہزار روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
اس کے علاوہ مدھیہ پردیش اور اتر پردیش جیسی ریاستوں میں غربت کی وجہ سے بچے سکول جانا بیچ میں ہی ترک کر دیتے ہیں۔ اترپریش میں صرف 70 فیصد بچے پانچویں کلاس تک پہنچ پاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تعلیم کے خراب معیار کی ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی ہے کہ ٹیچر سکولوں سے غیر حاضر رہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر اور گجرات جیسی خوشحال ریاستوں میں 15 سے 17 فیصد استاد غیر حاضر رہتے ہیں جبکہ بہار اور جھاڑکھنڈ میں 38 سے 42 فیصد ٹیچر سکول نہیں جاتے۔







