’انخلا سے پاکستان میں امریکی آپریشن متاثر ہوں گے‘

’ہم سنتے ہیں افغانستان کے حوالے سے صدر اوباما کی ’زیرو آپشن‘ کے بارے میں (افغانستان میں کوئی امریکی فوجی نہیں رہے گا) لیکن اصل بات پاکستان کی ہے‘

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن’ہم سنتے ہیں افغانستان کے حوالے سے صدر اوباما کی ’زیرو آپشن‘ کے بارے میں (افغانستان میں کوئی امریکی فوجی نہیں رہے گا) لیکن اصل بات پاکستان کی ہے‘

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کو خدشہ ہے کہ افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کے باعث امریکی اڈے بند کرنے پڑیں گے جن سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے اور ایٹمی بحران کی صورت کے ردِعمل پر امریکی کارروائی متاثر ہو گی۔

نیو یارک ٹائمز نے امریکی انتظامیہ کے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر براک اوباما افغانستان سے پوری فوج واپس بلوا لیتے ہیں تو سی آئی اے کو ڈرون اڈے بھی بند کرنے پڑیں گے کیونکہ ان اڈوں کی حفاظت نہیں کی جاسکے گی۔

امریکی وزارت دفاع نے اس سلسلے میں حال ہی میں دو آپشنز پیش کی ہیں جن میں سے ایک میں کہا گیا ہے کہ کم از کم دس ہزار امریکی فوجی افغانستان میں تعینات رہیں جو افغانستان کی فوج کی معاونت اور تربیت کے ساتھ ساتھ امریکی تنصیبات کی حفاظت بھی کریں۔

امریکی انتظامیہ کے ذرائع نے امریکی اخبار کو بتایا کہ ان اڈوں کے بند ہونے کے باعث پاکستان اور بھارت سے ایٹمی مواد یا ہتھیار کی چوری کی صورت میں امریکہ بر وقت کارروائی نہیں کر سکے گا۔

ایک سابق انٹیلی جنس اہلکار نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا: ’ہم سنتے ہیں افغانستان کے حوالے سے صدر اوباما کی ’زیرو آپشن‘ کے بارے میں (افغانستان میں کوئی امریکی فوجی نہیں رہے گا) لیکن اصل بات تو پاکستان کی ہے۔‘

امریکی انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ پر ڈرون حملوں کے لیے نزدیک ترین اڈا اتنی دور ہے کہ وہاں سے قبائلی علاقوں تک ڈرون نہیں بھیجا جا سکتا۔

نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں اوباما انتظامیہ نے انٹیلی جنس، عسکری اور ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دی ہے جو اس مسئلے پر تجاویز پیش کرے گی۔

امریکی اخبار کے مطابق گذشتہ سالوں میں پاکستان چھوٹے درجے کے ایٹمی ہتھیار بنانے میں تیزی لایا ہے جو بھارت کی جانب سے حملے کو پسپا کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی نگرانی کرنے کے لیے بڑی کوششیں کی ہیں کیونکہ ان کو خدشہ ہے کہ یہ ہتھیار چوری ہو سکتے ہیں۔

تاہم امریکی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان کیٹلین ایم ہیڈن نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا: ’صدر اوباما نے مکمل فوجی انخلا کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ ہم فوجی کمانڈروں سمیت انٹیلی جنس حکام، سفارت کاروں اور ترقیاتی ماہرین سے مشاورت کے بعد ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔‘

واضح رہے کہ وزیر اعظم پاکستان کے مشیر سرتاج عزیز آج واشنگٹن میں امریکی وزیر داخلہ جان کیری سے ملاقات کریں گے جس میں انسداد دہشت گردی کے آپریشنز پر بات چیت کی جائے گی۔

ان مذاکرات میں افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا، ڈرون حملے اور پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کے علاوہ دیگر امور پر بات چیت متوقع ہے۔