اگلا وزیراعظم کون ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
جمعے کو کانگریس کی عہدیداروں اور اہم رہنماؤں کے اجلاس میں پارٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ انتخابات سے قبل راہل گاندھی کو وزارتِ عظمی کا امیدوار نہیں بنائے گی۔
اس اہم میٹنگ سے ایک روز قبل پارٹی کی پالیسی ساز ورکنگ کمیٹی نے راہل گاندھی کو انتخابی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا تھا۔
انتخاب میں پارٹی کی قیادت راہل گاندھی ہی کریں گے۔
منموہن سنگھ حکومت کی سست کارکردگی کے نتیجے میں حکمراں کانگریس کی ساکھ بری طرح مجروح ہے اور اسے اوپر نکالنے کے لیے جس طرح کی ایک تیز رفتار اور عوام کی تمناؤں کو سمجھنے والی قیادت کی ضرورت ہے وہ فی الحال کانگریس میں نظر نہیں آتی۔
راہل کو وزارتِ عظمی کا امیدوار نہ بنا کر کانگریس نے انتخابات کے دو اہم پہلوؤں کا اعتراف کیا ہے۔
اول تو یہ کہ پارٹی اقتدار میں آنے کے بارے میں پر اعتماد نہیں ہے اور دوسرا یہ کہ اس نے راہل کو وزارتِ عظمی کا امیدوار نہ بنا کر دوسری جماعتوں کے رہنماؤں کے امکان کو کھلا رکھا ہے۔ موجودہ انتخابی پس منظر میں کانگریس کی یہ حکمت عملی صحیح نظر آتی ہے۔
دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی نے مودی کو اتار کر میڈیا اور مقبولیت کی جد وجہد میں جو ابتدائی سبقت حاصل کی تھی وہ عام آدمی پارٹی کے دہلی میں اقتدار میں آنے سے ماند پڑ چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
مودی اب رفتہ رفتہ اپنی کشش کھوتے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں۔ پارٹی کی اس وقت ساری توجہ اب کانگریس کے بجائےعام آدمی پارٹی کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر پر مرکوز ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر عام آدمی پارٹی دہلی کی غیر معمولی کامیابی کے بعد اب پارلیمانی انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست کو آخری شکل دے رہی ہے۔ پارٹی نے 26 جنوری تک پورے ملک میں ایک کروڑ ارکان کے اندراج کا ہدف رکھا ہے اور رکنیت کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
گذشتہ دنوں عام آدمی پارٹی کی حکومت نے دہلی میں غیر ملکی رٹیل کمپنیوں کو اپنے رٹیل بازار کھولنے کا سابقہ حکومت کا فیصلہ رد کر دیا۔ایک دوسرے واقعے میں پارٹی کے رہنما دہلی پولیس سے سیدھے ٹکراؤ کے راستے پر ہیں اور ان دونوں معاملات میں پارٹی پر شدید نکتہ چینی کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
پارلمیانی انتخابات اپریل سے جون تک پانچ یا چھ مرحلوں میں منعقد کیے جانے کی توقع ہے۔
اس بار کے انتخابات انتہائی دلچسپ ہیں۔ ایک طرف بی جے پی اور کانگریس جیسی روایتی جماعتیں ہیں اور دوسری طرف ان کے مقابل عام آدمی پارٹی ہے۔ عوام کا رویہ واضح طور پر تبدیلی کی طرف کی طرف مائل نظر آتا ہے۔
روایتی جماعتوں میں بے چینی کے آثار نمایاں ہیں۔ ملائم سنگھ یادو۔ بہوجن سماجوادی پارٹی اور لالو کا راشٹریہ جنتا دل سبھی بی چینی میں گھیرے ہیں۔
اس بے چینی کا سبب عام آدمی پارٹی نہیں بلکہ ملک کے سیاسی نظام کے بارے میں عوامی سطح پر اجتماعی سوچ میں غیر معمولی تغیر ہے۔
عام آدمی پارٹی اس تبدیلی کی محض ایک علامت ہے۔ اس وقت عوام کی تمناؤں اور سیاسی نظام کے درمیان ایک زبردست خلا ہے۔ اس خلا کو جو جماعت پر کرے گی وہی مستقبل میں بچ سکے گی ۔







