بھارت چین سرحد پر 50 ہزار فوجیوں کی تعیناتی

بھارتی حکومت نے چین سے متصل اپنی سرحد پر فوج کی تعداد میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب مزید 50 ہزار فوجی اس سرحد پر تعینات کیے جائیں گے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نئی تعیناتی پر 65 ہزار کروڑ روپے کے اخراجات آئیں گے۔
<link type="page"><caption> ’بھارت چار سرحدی لائنوں میں پھنس کر رہ گیا ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/regional/2013/11/131101_india_jaswant_book_mb.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> بھارتی میڈیا کا جنگی جنون</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2013/08/130810_doorsa_pehlu_media_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
یہ فوجی مغربی بنگال میں بھارت اور چین کے درمیان سرحد پر تعینات کیے جائیں گے۔
گذشتہ ایک سال میں کئی بار بھارتی علاقے میں چین کی جانب سے مبینہ دراندازی کی خبریں آتی رہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق حالیہ دنوں میں چین نے بھی بھارت سے ملحقہ سرحد پر اپنی فوجی نفری میں اضافہ کیا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان ہزاروں کلومیٹر طویل سرحد گذشتہ کئی دہائیوں سے تنازعے کا سبب بنا ہوا ہے اور اس کے حل کے لیے فریقین کے درمیان کئی دفعہ بات چیت ہو چکی ہے تاہم مبصرین کے مطابق اس ضمن میں پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق بھارتی فوج کی 17 ویں کور اس تعیناتی کے ابتدائی دور میں جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں رہے گی اور بنیادی ڈھانچے کے تیار ہوجانے کے بعد اسے مغربی بنگال کے پاناگڑھ علاقے میں منتقل کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان موجودہ حقیقی کنٹرول لائن پر تعینات ہونے والی یہ پہلی کور ہوگی جو جنگ کی صورت میں چین کے خود مختار علاقے تبت میں کارروائی کرنے کے لیے تیار ہوگي۔
بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کی قیادت میں 17 جولائی کو ہونے والی کابینہ کی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اس نئی کور کے قیام کی تجویز کو منظوری دی گئی تھی۔
مبصرین کے خیال میں یہ بھارت کی جانب سے ایک اہم قدم ہے کیونکہ چین بھی اپنے خود مختار تبت کے علاقے میں اپنی فوجی صلاحیتوں کو مستحکم بنانے میں مصروف ہے۔
اطلاعات کے مطابق چین نے اس علاقے میں طیاروں کے لیے کم از کم پانچ بیس قائم کیے ہیں جو پوری طرح سے کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اس کے علاوہ چین نے وہاں وسیع ریلوے نیٹ ورک کے ساتھ 5800 کلومیٹر طویل سڑکیں بھی تعمیر کی ہیں۔







