مریخ پر ’زندگی کی تلاش‘ میں بھارتی سفر شروع

بھارت کا پہلا خلائی مشن ’منگل یان‘ مریخ کی جانب روانہ ہوگیا ہے جس کے بعد بھارت سرخ سیارے پر کامیابی سے خلائی مشن روانہ کرنے والا پہلا ایشیائی ملک بن گیا ہے۔
1.35 ٹن وزنی مصنوعی سیارہ بھارت کے معیاری وقت کے مطابق دوپہر دو بج کر اڑتیس منٹ پر ملک کی مشرقی ساحلی ریاست آندھرا پردیش میں سری ہری كوٹا کے خلائی مرکز سےروانہ ہوا۔
مریخ کی جانب بھیجا جانے والا یہ سیارہ 30 نومبر تک زمین کے مدار میں رہے گا اور اس کے بعد بنگلور میں واقع خلائی مرکز میں نصب ریموٹ نظام کے ذریعے اسے مریخ کے نو مہینے کے طویل سفر پر روانہ کیا جائے گا۔
مریخ زمین سے 40 کروڑ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور ’منگل یان‘ 12 ستمبر 2014 کو مریخ کے مدار میں داخل ہوگا۔
اس مشن پر کُل ساڑھے چار ارب روپے لاگت آئی ہے اور اسے بھارت کے خلائی پروگرام میں ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اگر یہ مشن مریخ کے مدار تک کامیابی سے پہنچ گیا تو بھارت کی خلائی ایجنسی اسرو امریکہ، روس اور یورپی یونین کی خلائی ایجنسیوں کے بعد چوتھی ایسی ایجنسی ہوگی جو مریخ تک جہاز پہنچانے میں کامیاب ہو گی۔
اس خلائی جہاز میں پانچ مخصوص آلات موجود ہیں جو مریخ کے بارے میں اہم معلومات جمع کرنے کا کام کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان آلات میں مریخ کی سطح پر زندگی کی علامات اور میتھین گیس کا پتہ لگانے والے سینسر، ایک رنگین کیمرہ اور سیارے کی سطح اور معدنیات کا پتہ لگانے والا تھرمل امیجنگ سپیکٹرومیٹر جیسے آلات شامل ہیں۔
2008 میں چاند کے لیے بھارت کی بغیر انسان کے مہم انتہائی کامیاب رہی تھی۔ اس مہم سے ہی چاند پر پانی کی موجودگی کا پہلا پختہ ثبوت ملا تھا۔
پی ایس ایل وی راکٹ اور منگل یان مصنوعی سیارہ بھارت کے خلائی ادارے اسرو نے تیار کیا ہے اور ادارے کے سربراہ کے رادھا کرشنن نے کہا ہے کہ ’مریخ مشن خلائی تحقیق کا اختتام نہیں آغاز ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم مریخ تک پہنچنے اور مریخ کے مدار میں کامیابی کے ساتھ گردش کرنے کی بھارتی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں ۔ ہمیں اس مشن کے ذریعے بعض اہم سائنسی تجربے کرنے ہیں۔‘
مریخ پر روس ، امریکہ اور یورپی ایجنسی نے پچاس سے زیادہ مشن روانہ کیے ہیں جن میں سے تقریباً بیس مشن کامیاب رہے۔ چین نے بھی 2011 مین مریخ کے لیے اپنا سیارہ بھیجا تھا لیکن وہ مشن ناکام ہو گیا تھا ۔
بھارت کے سائنسی تجزیہ کار پلو باگلہ کا کہنا ہے کہ بھارت کے مریخ مشن کا بہت گہرا تعلق قومی افتخار سے ہے۔’اگر مریخ پر بھارت چین سے پہلے پہنچتا ہے تو آپ تصور کیجیے کہ چین کو پیچھے چھوڑ کر بھارت کے قومی جذبے کو کتنا حوصلہ ملے گا۔‘
لیکن ڈاکٹر رادھا کشنن کہتے ہیں کہ ’ہمارے اس مشن کا مقصد دوسرے ملکوں سے مقابلہ کرنا نہیں ہے۔خلا میں ہماری اپنی ذمےداریاں ہیں اور ہم خلائی ٹیکنالوجی میں خود کفیل ہونا چاہتے ہیں۔‘
بھارت اس طرح کا مشن چاند پر کامیابی کے ساتھ پہلے ہی بھیج چکا ہے ۔ مریخ کے اس مشن کو پوری دنیا میں بہت دلچسپی کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے ۔
اسرو کے لیے کام کرنے والے بنگلور کے پانچ سو سے زیادہ سائنسدانوں نے اس دس کروڑ ڈالر کی مہم پر دن رات کام کیا ہے۔ اس مشن کا رسمی اعلان وزیر اعظم من موہن سنگھ نے گذشتہ سال اگست میں ہی کر دیا تھا کہ بھارت سرخ سیارے پر خلائی جہاز بھیجے گا۔

ایشیائی ممالک میں خلائی دوڑ
کہیں بھارت کی مریخ مہم ایشیائی ممالک کے درمیان ایک نئے خلائی دوڑ یا کہیں، دوڑ کی ابتدا تو نہیں ہے؟
بھارت مریخ مہم کو اپنے حریف چین کو سرخ سیارے تک پہنچنے کی دوڑ میں پیچھے چھوڑ دینے کے موقعے کے طور پر دیکھتا آیا ہے، خاص طور پر تب جب مریخ جانے والا پہلا چینی سیٹلائٹ ’رائڈنگ آن آے رشين مشن‘ نومبر 2011 میں ناکام ہو گیا تھا۔ جاپان کی جانب سے ایسی کوشش سنہ 1998 میں ناکام رہی تھی۔
دوسری جانب 2003 میں چین اپنا پہلا انسانی خلائی جہاز کامیابی سے لانچ کر چکا ہے جس میں بھارت کو ابھی کامیابی نہیں ملی۔ چین نے 2007 میں چاند کے لیے اپنا پہلا مشن شروع کیا تھا۔
مریخ کے لیے 1960 سے اب تک تقریباً 45 مشن شروع کیے جا چکے ہیں اور ان میں سے ایک تہائی ناکام رہے ہیں۔
خیال رہے کہ مریخ کے لیے بھیجی جانے والی مہمات میں سے ’مارز ایکسپریس‘ کے علاوہ کوئی بھی مہم کامیاب نہیں ہوئی۔ اس مہم میں یورپ کے بیس ممالک کو نمائندگی حاصل ہے۔
تاہم بھارت کا دعویٰ ہے کہ اس کی مریخ مہم پر پچھلی نصف صدی میں سیاروں سے متعلق سب سے ہم اخراجات آئے ہیں۔ تاہم کچھ لوگوں نے اس سائنسی مقصد پر سوال اٹھائے ہیں۔
دہلی سائنس فورم نامی تھنک ٹینک کے ڈاکٹر رگھونندن کا کہنا ہے، ’یہ مہم اعلیٰ معیار کی نہیں ہے اور سائنس سے منسلک اس کے مقاصد بھی محدود ہیں‘ جبکہ ماہرِ اقتصادیات جيادریذ نے کہا کہ یہ مہم ’یہ مشن سپرپاور بننے کی بھارت کی گمراہ کن خواہش کی تکمیل کا حصہ ہے۔‘
ان باتوں کو رد کرتے ہوئے ایک اعلیٰ سرکاری افسر کا کہنا ہے، ’ہم 60 کی دہائی سے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ بھارت جیسے غریب ملک کو خلائی مہمات کی ضرورت ہی نہیں ہے۔‘
وہ کہتے ہیں، ’اگر ہم بڑے خواب دیکھنے کی ہمت نہیں کریں گے تو صرف مزدور ہی رہ جائیں گے۔ بھارت آج اتنا بڑا ملک ہے کہ اعلیٰ ٹیکنالوجی اس کے لیے بے حد ضروری ہے۔‘








