،تصویر کا کیپشنبھارت کا خلائی پروگرام ساٹھ کی دہائی میں شروع ہوا تھا۔ ایپل سیٹلائٹ 1981 میں تجربے کے لیے بیل گاڑی میں لے جائی گئی تھی۔
،تصویر کا کیپشنبھارت کے سابق صدر عبدالکلام آزاد سمیت کئی بڑے سائنسدان خلائی پروگرام سے منسلک رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبھارت نے پہلا راکٹ تھمبا کے مقام سے لانچ کیا تھا۔ اس جگہ کو چننے کی وجہ اس کا خط استوا پر واقع ہونا ہے۔
،تصویر کا کیپشنبھارت نے پہلا راکٹ 21 نومبر 1963 کو لانچ کیا تھا۔ یہ ایک اپاچی راکٹ تھا جسے امریکہ سے خریدا گیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنبھارت میں بنایاگیا پہلا راکٹ روہنی 75 تھا جسے 20 نومبر 1967 کو لانچ کیا گیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنآریا بھٹ بھارت کا پہلا مصنوعی سیارہ تھا جس کا وزن 360 کلوگرام تھا۔
،تصویر کا کیپشنآریا بھٹ کو اس طرح کے اینٹینا سے پیغام بھیجے جاتے تھے۔
،تصویر کا کیپشنبھاسکر ون بھارت کا پہلا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ تھا۔ اس سیٹلائٹ کا کیمرا جو تصویریں بھیجتا تھا انھیں جنگلات، پانی اور دریاؤں کے مطالعے میں استعمال کیا جاتا تھا۔
،تصویر کا کیپشنپولر سٹیٹلائٹ وہیکل جسے پی ایس ایل وی کے نام کے طور پر جانا جاتا ہے، ایسرو کا پہلا آپریشنل لانچ وہیکل ہے۔ جولائی 2013 تک سے اس وہیکل سے 23 راکٹوں کو کامیابی سے لانچ کیا جا چکا ہے۔
،تصویر کا کیپشنان سیٹ سیریز کے مصنوعی سیاروں نے بھارت کے مواصلاتی نظام کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنچندریان کا بھارت کے خلائی پروگرام میں اہم مقام ہے جس نے چاند کی سطح پر پانی کا پتہ لگایا تھا۔
،تصویر کا کیپشنبھارت کا مصنوعی سیارہ 2014 میں مریخ کے مدار میں پہنچے گا۔