بھارت: آسام میں دیوالی منانے والوں پر حملہ، 7 ہلاک

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں دیوالی کا تہوار منانے والوں پر حملے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق یہ واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب ریاست کے ضلع گوال پاڑہ میں اس وقت پیش آیا جب مسلح افراد نے جوا کھیلنے والے ایک گروپ پر فائرنگ کر دی۔
واضح رہے کہ دیوالی کے موقع پر بہت سے لوگ رسمی طور پر جوا کھیلتے ہیں۔
ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق حکام کو شبہ ہے کہ اس حملے میں آسام سے متصل ریاست میگھالیہ کے مشتبہ شدت پسند گروپ ملوث ہو سکتے ہیں۔
خبروں میں بتایا گیا ہے کہ حملہ آور خود کار اسلحے سے لیس تھے اور ان کا تعلق بظاہر کالعدم تنظیم گارو نیشنل لبریشن آرمی سے بتایا جا رہا ہے۔
جی این ایل اے بھارت کی شمال مشرقی ریاست میگھالیہ کے گارو جنگلات میں سرگرم ہے۔ یہ علاقہ آسام کے گوال پاڑہ سے متصل ہے اور وہاں سنہ 2009 سے علیحدہ ریاست کی مہم جاری ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس حملے میں چھ افراد جائے حادثہ پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ زخمیوں کو گوال پاڑہ سول ہسپتال لے جایا گيا جہاں مزید ایک شخص نے دو توڑ دیا۔
بی بی سی کے نمائندے امیتابھ بھٹاشالی نے بتایا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا بھی خدشہ ہے۔ زخمیوں نے پولیس کی آمد میں تاخیر کی شکایت بھی کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم سینيئر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خبر ملتے ہی پولیس فوری طور پر وہاں پہنچی اور علاقے میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔
واضح رہے گوال پاڑہ میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ربھا ہسونگ آٹونومس کونسل کے آئندہ انتخابات کی وجہ سے تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔
یہ انتخابات نومبر کے وسط میں 13 سے 25 تاریخ کے دوران ہونے والے ہیں اور کونسل کا مطالبہ ہے کہ غیر ربھا علاقوں کو کونسل سے خارج کیا جائے۔
بہرحال حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کے اس واقعے کا تعلق انتخابات سے نہیں ہے۔







