ایون جیل میں آتش زدگی: ایران کی ’بدنام زمانہ‘ جیل میں آتشزدگی، چار قیدی ہلاک درجنوں زخمی

    • مصنف, پرہام گھوبادی، ایلکس بنلے اور نیتھن ولیمز
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

ان کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق ایران کی ’بدنامِ زمانہ‘ ایون جیل میں بڑے پیمانے پر آتش زدگی کے باعث چار قیدی ہلاک اور 61 زخمی ہو گئی ہیں۔

ایون جیل میں ماضی میں متعدد سیاسی قیدیوں کو رکھا جا چکا ہے اور جیل میں موجود ذرائع نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد اس سے زیادہ ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں تہران میں موجود اس جیل میں شعلے بھڑکتے دیکھے جا سکتے تھے اور گولیوں اور دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دی تھیں۔

ایران گذشتہ کئی ہفتوں سے حکومت مخالف مظاہروں کی لپیٹ میں ہے۔

بی بی سی فارسی کی رانا رحیم پور کا کہنا تھا کہ تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ جیل میں پیدا ہونے والی صورتحال کا حالیہ مظاہروں سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

تاہم رانا رحیم پور کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسا ہونے کا امکان اس لیے بھی ہے کیونکہ سینکڑوں مظاہرین کو ایون جیل بھیجا گیا تھا۔

سرکاری میڈیا کے حالیہ مظاہروں اور ایون جیل واقعے کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے اور انھوں نے ایک اہلکار کا حوالہ دیا جنھوں نے آتشزدگی کا ذمہ دار 'مجرمانہ عناصر' کو قرار دیا ہے۔

تہران کے گورنر نے سرکاری ٹی وی سے جیل کے اندر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جیل ایسے حصہ میں فسادات کا آغاز ہوا جہاں معمولی جرائم میں ملوث افراد قید تھے۔

سوشل میڈیا پر کچھ صحافیوں کی جانب سے حکام پر 'جیل کو جان بوجھ کر آگ لگانے' کا الزام عائد کیا گیا ہے کیونکہ ایک اہم سیاسی قیدی کو آگ بھڑکنے سے پہلے ہی گھر بھیج دیا گیا تھا۔

ایران کے سابق صدر اکبر ہاشمی رفسانجانی کے بھائی کے مطابق انھیں 'عارضی طور پر قبل ازوقت رہائی' دی گئی تھی۔

حکومت مخالف مانیٹرنگ گروپ ’1500 تسویر‘ (1500tasvir) کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں، ’ڈکٹیٹر مردہ باد‘ کے نعرے، جو حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے اہم نعروں میں سے ایک ہے، کو جیل کے باہر سے سنا جا سکتا ہے۔

بی بی سی فارسی کے مطابق، ایک اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جیل میں اس کے احاطے کے باہر سے اشیا کو گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور پھر ایک دھماکے کی آواز سنی گئی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق فسادات مالی فراڈ کے الزامات میں قید اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں کے درمیان ہوئے اور کوئی سیاسی قیدی اس میں ملوث نہیں تھا۔

کچھ قیدیوں کے اہل خانہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے رشتہ داروں سے فون پر رابطہ نہیں کر پا رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ جیل کے اردگرد انٹرنیٹ کنکشن بھی منقطع ہے۔

جیل کی طرف جانے والی سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔ اس سے قبل ویڈیوز میں چھاپے مار پولیس کو ایون میں داخل ہوتے دکھایا گیا تھا۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ علاقے میں خصوصی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔

ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ایمبولنسیں بھی وہاں موجود تھیں۔

برطانوی-ایرانی دہری شہریت کی حامل نازنین زغاری-ریٹکلف اور انوشہ اشوری دونوں کو ایون جیل میں جاسوسی کے الزام میں کئی سال تک قید رکھا گیا تھا، جس کی انھوں نے اس سال کے شروع میں رہائی سے قبل تردید کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

انسانی حقوق سے متعلق کام کرنے والے مغربی ممالک کے گروپوں کی جانب سے جیل پر طویل عرصے سے تنقید کی جاتی رہی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے جیل میں حکام پر تشدد اور غیر معینہ مدت تک قید کی دھمکیاں دینے کے ساتھ ساتھ طویل پوچھ گچھ اور قیدیوں کے لیے طبی دیکھ بھال سے انکار کا الزام عائد کیا ہے۔

ہیکرز کے ایک گروپ نے جو خود کو عدالت علی (علی کا انصاف) کہلاتا ہے، نے گذشتہ سال اگست میں ایون جیل سے لیک ہونے والی نگرانی کی فوٹیج کی ویڈیوز پوسٹ کیں، جن میں گارڈز قیدیوں کو مارتے یا بدسلوکی کرتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔

بعض غیر ملکی حکومتوں نے جن کے شہریوں کو جیل میں رکھا ہوا ہے، نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وہ ’جلد بازی‘ کے ساتھ واقعات کی پیروی کر رہے ہیں جبکہ برطانیہ کی حکومت کے قومی سلامتی کے وزیر نے اسے ’انتہائی تشویشناک پیش رفت‘ قرار دیا۔

پانچ ہفتے قبل مہسا امینی کی موت کے بعد سے ایران بھر میں مظاہروں کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ سنہ 1979 کے بعد ایران میں ایسے مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔