توہین مذہب کا الزام: ایک اُستاد جن کا ہاتھ ایک سوال کی وجہ سے کاٹ دیا گیا

    • مصنف, سوتک بسواس
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، انڈیا

سنہ 2010 میں چند افراد نے انڈیا کے ایک پروفیسر کا ہاتھ اُس وقت کاٹ دیا تھا جب ان پر ایک امتحانی پرچے میں مبینہ طور پر اسلام کی توہین کا الزام لگا۔ گذشتہ ماہ انڈیا کی حکومت نے متنازع پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر پابندی عائد کر دی تھی جس کے اراکین اس حملے میں ملوث تھے۔ بی بی سی نے انڈیا کی ریاست کیرالہ جا کر اس واقعے کی تفصیلات جاننے کی کوشش کی ہے۔

انتباہ: اس مضمون میں کچھ ایسی تفصیلات موجود ہیں جو چند قارئین کے لیے پریشان کن ثابت ہو سکتی ہیں۔

ٹی جے جوزف کو 12 سال قبل ہونے والا وہ حملہ آج بھی یاد ہے۔

وہ جولائی کی صبح تھی۔ پروفیسر جوزف، جو اس وقت 52 سال کے تھے اور کیرالہ کے ایک شہر میں مقامی کالج میں ملیالم زبان پڑھاتے تھے، اتوار کو چرچ میں عبادت کے بعد اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ گاڑی میں گھر جا رہے تھے۔

گھر سے تقریبا 100میٹر فاصلے پر ایک سوزوکی وین نے اچانک اُن کا راستہ روک لیا۔ اس گاڑی کا دروازہ کُھلا اور چھ آدمی باہر نکلے جن میں سے ایک کلہاڑی تھامے پروفیسر جوزف کی گاڑی کی طرف لپکا۔

ابھی وہ شخص ان کی گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہا تھا کہ چاقو سے لیس ایک دوسرا شخص عقبی دروازے کی جانب بڑھا اور تین لوگ اس طرف پہنچ گئے جہاں ان کی بہن بیٹھی تھیں۔

چار سال پرانی ویگن آر کا انجن بند ہو چکا تھا اور گاڑی کا شیشہ ایک کلہاڑی سے توڑا جا رہا تھا۔ پروفیسر جوزف کو احساس ہوا کہ وہ پھنس چکے ہیں۔

کلہاڑی بردار شخص نے دروازہ اندر سے کھولا اور ان کو سڑک پر گھسیٹتے ہوئے ان پر پے در پے وار کرنے لگا۔

پروفیسر نے اس شخص سے التجا کی: ’مجھے مت مارو۔۔۔ مجھے مت مارو۔‘

کلہاڑی بردار شخص ان کے ہاتھوں اور ٹانگوں پر ایسے وار کرتا رہا جیسے لکڑی کاٹ رہا ہو۔ ان کے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کٹ کر ایک جانب گر چکی تھی جبکہ دایاں بازو بمشکل جسم سے جڑا ہوا تھا۔

اتنے میں پروفیسر جوزف کی چیخیں سُن کر ان کا بیٹا اور اہلیہ گھر سے باہر نکلے۔ ان کے بیٹے نے ایک لمبے چھرے سے حملہ آور شخص پر دھاوا بولا جس نے اس موقع پر ایک دیسی ساختہ بم کا دھماکہ کیا اور ان کو زخمی حالت میں چھوڑ کر وین میں فرار ہو گیا۔

پڑوسی پروفیسر جوزف کو 50 کلومیٹر دور ہسپتال لے گئے جہاں ان کی فوری سرجری کی گئی۔ چھ ڈاکٹرز نے 16 گھنٹے کے آپریشن میں ان کا کٹا ہوا ہاتھ سیا اور ان کے بازو اور کلائی کی بھی سرجری کی۔

ان کو آپریشن کے 18 گھنٹے بعد ہوش آیا۔ اس وقت تک ہسپتال صحافیوں سے بھر چکا تھا۔ ایک استاد پر حملے کی خبر سے عوام مشتعل ہو چکے تھے۔ 35 دن بعد ان کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔

پروفیسر جوزف نے مجھے بتایا کہ ’میرا جرم امتحانی پرچے میں ایک ایسا سوال شامل کرنا تھا جس کے بارے میں چند لوگوں کو لگا کہ اس سے اسلام کی توہین ہوئی۔ اس نے میری زندگی بدل دی۔‘

اب ذرا اس حملے سے تھوڑا پیچھے چلتے ہیں۔

اس حملے سے چار ماہ قبل 26 مارچ کو رات گئے پروفیسر ایک فون کال کی وجہ سے جاگ گئے تھے۔ یہ نیومین کالج کے پرنسپل تھے، یہ کالج مقامی رومن کیتھولک چرچ کے زیر انتظام چلتا ہے۔ یہ پروفیسر جوزف کی تیسری نوکری تھی اور ان کا پڑھانے کا تجربہ 25 سال کا تھا لیکن اس کالج میں نوکری کرتے اُن کو ابھی دو سال ہی ہوئے تھے۔

پرنسپل نے پروفیسر جوزف کو بتایا کہ کالج میں پولیس آئی ہوئی تھی اور بہتر ہو گا کہ وہ کالج نہ آئیں۔

’پرنسپل نے کہا اگر تم آئے تو شاید حالات خراب ہو جائیں۔‘

پروفیسر جوزف نے پوچھا ’کیوں؟ میں نے تو کچھ غلط نہیں کیا۔‘

پرنسپل نے ان کو بتایا کہ ’افواہ اڑی ہے کہ پیغمبر اسلام کی توہین ہوئی ہے اور کالج کی دیواروں پر پوسٹر چپساں کیے گئے ہیں۔‘

یہ متنازع سوال ایک ایسی مشق تھی جس میں پروفیسر جوزف نے فلمساز پی ٹی کنجو کی سکرین پلے کی کتاب سے ایک جملہ مستعار لیا تھا جو خدا اور ایک شخص کے درمیان مکالمے پر مبنی تھا۔

پروفیسر جوزف نے کہا کہ ’میرے ذہن میں یہ گمان بھی نہیں گزرا کہ لوگ اس (سوال) سے پیغمبر اسلام کو وابستہ کر لیں گے۔‘

اس امتحان میں 32 طلبا نے حصہ لیا جن میں سے چار مسلمان تھے۔ ’ان میں سے کسی نے اعتراض نہیں کیا سوائے ایک لڑکی کے جس نے کچھ ہچکچاہٹ دکھائی۔‘

معاملہ باہر نکلا، تناؤ کی کیفیت میں اضافہ ہوا تو مشتعل ہجوم نے شہر میں دکانیں بند کروانا شروع کر دیں۔ اُدھر پولیس مظاہرین کو کالج میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔ صورتحال کو کشیدہ ہوتے دیکھ کالج انتظامیہ نے پروفیسر کو معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔

پروفیسر جوزف کہتے ہیں کہ ’مجھے ایسا لگا کہ کسی نے مجھے بتائے بغیر ہی برہنہ کر دیا ہے۔‘

انھوں نے شہر چھوڑ دیا اور اگلے چند دن ایک شہر سے دوسرے شہر سستے ہوٹلوں میں قیام کیا جہاں ٹی وی وہ پر وہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔

پولیس نے ان کی تلاش شروع کر دی اور ان کے 22 سالہ بیٹے کو حراست میں لے لیا گیا۔ چھ دن بعد پروفیسر جوزف نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ ان کو جیل میں بند کر دیا گیا جہاں ان کے سیل میں قتل کے الزام میں ملوث افراد سمیت 15ملزمان قید تھے۔

پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور ان کا پاسپورٹ، بینک دستاویزات اور دیگر کاغذات اپنی تحویل میں لے لیے۔ ان پر توہین مذہب کا الزام لگایا گیا۔

کالج نے معافی مانگی اور پروفیسر کو الزامات کی ایک فہرست بھجوائی جس میں تمام مذاہب بالخصوص اسلام کو ماننے والوں کے جذبات مجروح کرنے کا الزام شامل تھا۔

ایک ہفتہ جیل گزارنے کے بعد پروفیسر جوزف ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے اور اپنے سسرال کے ساتھ رہنے لگے۔ وہ باہر جاتے وقت محتاط رہتے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے خدشہ تھا کہ مجھے قتل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔‘ مئی میں تین مختلف گروہ ان کو تلاش کرتے رہے جن میں سے ایک تقریباً ان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔

پہلی بار وہ گھر پر موجود نہیں تھے جب چھ افراد ان کے گھر کے گیٹ پر پہنچے۔ انھوں نے پروفیسر کے اہلخانہ سے کہا کہ وہ طلبا ہیں اور پروفیسر سے ملنا چاہتے ہیں۔

دوسری بار جب کچھ لوگ آئے تو انھوں نے پروفیسر جوزف سے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کے علاج کے لیے عطیات اکھٹا کر رہے ہیں۔ انھوں نے پروفیسر کو ایک لفافہ دیا جس میں ان کے مطابق ایک جاننے والے نے اپنا حوالہ دیا تھا۔

پروفیسر نے بتایا کہ ’میں گیٹ سے دو قدم پیچھے ہٹا اور گھر واپس آ گیا۔ لفافے پر میرا نام لکھا ہوا تھا۔ میں نے سوچا یہ بم بھی ہو سکتا ہے۔ میں نے لفافہ ان کو واپس کیا اور گیٹ بند کر دیا۔ وہ لوگ واپس چلے گئے۔‘

’اب مجھے یقین ہو چکا تھا کہ مجھ پر حملہ ہونے والا ہے۔ میں گھبرانا شروع ہو گیا۔‘ انھوں نے پولیس سے بات کی جنھوں نے ان کے گھر کے باہر رات کو گشت کا وعدہ کیا۔

مئی کے آخری ہفتے میں کچھ لوگ پھر آئے۔ ان میں سے دو نے گھر کی گھنٹی بجائی اور کہا کہ وہ بینک سے آئے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہتے ہوئے زبردستی گھر میں گھس آیا کہ وہ سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس والا ہے اور کمروں میں پروفیسر جوزف کو تلاش کرنے لگا۔ اس وقت وہ گھر پر موجود نہیں تھے۔

انھوں نے گھر کا ایک چکر لگایا اور پھر موٹر سائیکلوں پر وہاں سے روانہ ہو گئے۔ اس کے بعد سے پروفیسر نے حفاظت کا زیادہ خیال رکھنا شروع کر دیا۔ گھر میں کوئی نہ کوئی ہر وقت باہر سڑک پر نظر رکھتا، گیٹ کو ہر وقت بند رکھا جاتا اور انھوں نے دو تیز دھار لبمے چھرے تیار کروا کر گھر میں ایک جگہ چھپا لیے۔

اب وہ گھر سے نکلنے میں احتیاط کرتے تھے لیکن ان کی قسمت نے جولائی کی اس صبح ان کا ساتھ نہیں دیا جب ان پر حملہ ہو گیا۔ پولیس نے اس حملے کے بعد 31 افراد کو گرفتار کیا جن کا تعلق پاپولر فرنٹ آف انڈیا سے تھا۔

یہ تنظیم 2006 میں وجود میں آئی تھی جس پر گذشتہ ماہ دہشت گرد گروہوں سے مبینہ روابط کی وجہ سے پانچ سال کے لیے پابندی عائد کر دی گئی۔ یہ تنظیم ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

اس حملے کے الزام میں 13 افراد کو سزا ہوئی جن میں سے 10 کو آٹھ سال قید ہوئی۔ وفاقی تفتیش کاروں نے سزا کو نرم گردانتے ہوئے اس کے خلاف اپیل کی جو اب تک زیر سماعت ہے۔

اس کیس میں 11 افراد کے خلاف اب تک مقدمہ چل رہا ہے جس میں 400 عینی شاہدین گواہی دے چکے ہیں۔ اس مقدمے کو چلتے ہوئے ایک دہائی ہو چکی ہے تاہم پروفیسر جوزف کو اب تک عدالت کی جانب سے حکم کے مطابق آٹھ لاکھ روپے کی وہ رقم نہیں ملی جو ملزمان نے ادا کرنی تھی۔

اس واقعے کے وقت کیرالہ کے پولیس چیف جیکب پنوسے نے مجھے بتایا کہ ان کے کیریئر میں ہونے والا ’یہ سب سے منظم حملہ تھا۔‘

’اس کی بہت منصوبہ بندی کی گئی۔ پروفیسر کی شناخت ہوئی۔ حملے کے مقام کا انتخاب کیا گیا، ہر احتیاطی تدبیر اختیار کی گئی۔ اس حملے میں تین گاڑیاں استعمال ہوئیں۔‘

حملہ آور منصوبہ بندی کے دوران کم از کم چار بار مختلف مقامات پر اکھٹے ہوئے۔ جب پروفیسر کے گھر پر حملے کی کوشش ناکام ہوئی تو انھوں نے ایک منی وین خریدی اور اس کی جعلی نمبر پلیٹ بنائی۔ ایک موٹر سائیکل سوار پروفیسر کا پیچھا کرتے ہوئے چرچ تک ان کے سفر کا راستہ معلوم کر چکا تھا۔

ریٹائرڈ پولیس چیف نے بتایا کہ ’وہ اتنے ہوشیار تھے کہ حملے کے دوران استعمال ہونے والے تمام فون اور سم بلکل نئی تھیں۔ ایک حملہ آور نے ایک چھوٹی سی غلطی کر دی۔ اس نے نئی سم اپنے نئے فون میں ڈال کر ایک نمبر پر کال کی۔ وہ نمبر ہم نے تلاش کر لیا۔‘

’یہ مافیا کی طرز کا حملہ تھا۔ ہم خوش قسمت تھے کہ ہم نے کیس جلدی حل کر لیا۔‘

تاہم پروفیسر جوزف کی مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئیں تھیں۔ ہسپتال سے گھر واپس لوٹنے کے ایک ماہ بعد کالج نے ان کو برطرف کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

کیرالہ میں ہنگامہ مچ گیا۔ اساتذہ نے ان کے علاج کے لیے پیسہ اکھٹا کیا، ان کی حمایت میں خطوط آنا شروع ہو گئے اور مشہور ثقافتی اور ادبی شخصیات نے ان کی کی برطرفی کی مذمت کی۔ دو مظاہرین نے کالج کے باہر بھوک ہڑتال تک شروع کر دی۔

تاہم پروفیسر کی زندگی ابتر ہوتی چلی گئی۔ 2010 اور 2011 کے دوران ان کے متعدد آپریشن ہوئے۔ ان کے دائیں ہاتھ میں حس ختم ہو جانے کی وجہ سے انھوں نے بائیں ہاتھ کا استعمال کرنا شروع کر دیا۔

ان کے خاندان کو زیورات بیچنا پڑے، بچوں کی تعلیم کے لیے ادھار لینا پڑا۔ ان کی اہلیہ نے کسی دکان ہر کام کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔

2013 میں عدالت نے ان کے خلاف توہین مذبت کا مقدمہ فارغ کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ ’یہ تنازع چند لوگوں کی وجہ سے پیدا ہوا جن کو سوال سمجھنے میں غلطی ہوئی تھی۔‘

پروفیسر جوزف کہتے ہیں کہ ’چار سال میں یہ پہلا خوشی کا موقع تھا۔‘

تاہم ان کی اہلیہ ڈپریشن کا شکار ہو چکی تھیں۔ ’وہ کہتی تھی میں مر جانا چاہتی ہوں۔‘

گھر سے تمام زہریلی ادویات نکال دی گئیں، چھریاں چھپا دی گئیں، اور ان کی اہلیہ کی دوایاں قفل بند کر دی گئیں جن کی چابی صرف پروفیسر کے پاس ہوتی تھی۔

اس سب کے باوجود 2014 مارچ میں ان کی اہلیہ نے خودکشی کر لی۔

اس واقعے کے بعد کالج کو شدید مذمت کا سامنا کرنا پڑا اور کالج انتظامیہ کو پروفیسر کی مشکلات کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔

ان کی اہلیہ کی موت کے تین دن بعد کالج نے پروفیسر کو نوکری پر بحال کر دیا۔ ان کی ریٹائرمنٹ میں بھی تین ہی دن باقی رہ گئے تھے۔

تاہم مقامی رومن کیتھولک چرچ اپنے موقف پر ڈٹی رہی۔ ایک خط میں انھوں نے لکھا کہ ’پروفیسر کے سوال نے ایک مخصوص گروہ سے تعلق رکھنے والے طلبا کے جذبات کو مجروح کیا۔‘

ان کے مطابق ’پروفیسر کو انسانی بنیادوں پر ہمدردی کی وجہ سے بحال کیا گیا، عوامی دباؤ کی وجہ سے نہیں۔‘

تاہم پروفیسر کی بحالی کی وجہ سے اب وہ پرانی تنخواہوں اور ریٹائرمنٹ کے مالی فوائد کے حقدار بن چکے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے اس حملے کو تو بھلا دیا لیکن میری بیوی کی موت نے مجھے ہلا دیا۔‘

اب پروفیسر جوزف کی زندگی میں ایک نیا موڑ آ چکا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے ایک مصنف کے طور پر نیا جنم لیا ہے۔ انھوں نے اپنی آپ بیتی حال ہی میں مکمل کی جس کی 30 ہزار کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ اب وہ کہانیوں کی ایک اور کتاب لکھنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی رقم سے انھوں نے اپنے گھر میں ایک منزل کا اضافہ کر لیا ہے جہاں وہ اپنی 95 سالہ والدہ، 35 سالہ بیٹے، اس کی بیوی اور پوتے کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔

ان کا بیٹا سٹاک بروکنگ فرم میں کام کرتا ہے اور ان کی بہو انجینیئر ہے۔ ان کی بہن، جو حملے میں زخمی ہو گئی تھیں، ان سے ملنے آتی رہتی ہیں۔

پروفیسر جوزف کہتے ہیں کہ حملہ کرنے والوں کو معاف کر چکے ہیں کیوں کہ ’وہ ایک بڑے کھیل میں استعمال ہونے والے مہرے تھے۔‘ وہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر پابندی کے حامی ہیں۔

تاہم سست رفتار نظام انصاف ان کو تھکا رہا ہے۔ ’جب بھی وہ کسی کو گرفتار کرتے ہیں، مجھے شناخت کے لیے جیل جانا پڑتا ہے اور عدالت کے چکر لگانا پڑتے ہیں۔ میں ایک سال پہلے بیان دینے عدالت گیا اور مجھے اس حملے کی تمام تفصیلات یاد کرنا پڑیں۔‘

میرے ایک سوال ہر پروفیسر نے مجھے ایک قصہ سُنایا۔ وہ چند سال پہلے کیرالہ میں ہی سیر و تفریح کر رہے تھے جب ان کی اپنے ایک طالب علم سے ملاقات ہوئی۔

’اس نے اپنی بیٹی سے کہا کہ یہ وہ سر جوزف ہیں جن پر حملہ ہوا تھا۔ اس کی بیٹی نے کہا یہ وہی ہیں جن کا ہاتھ کٹنے کی خبر سُن کر آپ رو پڑے تھے؟‘