آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
رنویر سنگھ کے خلاف ایف آئی آر درج: ’انھوں نے خواتین کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے‘
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، انڈیا
اپنے کپڑوں کی وجہ سے سرخیوں میں رہنے والے بالی ووڈ اداکار رنویر سنگھ آج کل بغیر کپڑوں کے تصویریں شیئر کرنے کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔ اور انھی تصاویر کی وجہ سے رنویر سنگھ پر فحاشی پھیلانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
دراصل ایک سے زیادہ ہٹ فلموں میں کام کرنے والے رنویر سنگھ نے حال ہی میں اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے کچھ عریاں تصاویر شیئر کی ہیں، جو ’دا پیپر میگزین‘ کے لیے لی گئی تھیں۔ رنویر سنگھ کی یہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں اور ان تصاویر کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی تعریف اور مذمت سے بھرپور ردعمل کا سیلاب سا آ گیا ہے۔
ساتھ ہی ان تصاویر کو قابل اعتراض سمجھتے ہوئے دو افراد نے رنویر سنگھ کے خلاف ممبئی کے چیمبر میں شکایت درج کرائی ہے۔ ان میں سے ایک خاتون اور دوسرا شخص ایک این جی او سے وابستہ ہیں۔
شکایت کنندگان کے وکیل اکھلیش چوبے کے مطابق، جب رنویر سنگھ کی عریاں تصاویر کو زوم کیا گیا تو ان کے ‘پرائیویٹ پارٹس‘ دکھائی دے رہے تھے۔ اس سے ‘خواتین کے جذبات‘ کو ٹھیس پہنچی ہے۔
بالی ووڈ ستاروں پر اس طرح کے معاملات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماڈلنگ کی دنیا سے آنے والے ملند سومن اور پونم پانڈے جیسے فنکاروں کو بھی ایسے کیسز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
برہنہ فوٹو گرافی کچھ لوگوں کے لیے تخلیقی انداز میں اپنے فن کو پیش کرنے کا ایک طریقہ ہے، جب کہ دوسرے اسے فحش سمجھتے ہیں۔ اسی لیے وقتاً فوقتاً یہ موضوع بحث کا موضوع بنتا رہا ہے۔
’دا پیپر میگزین‘ کے ساتھ ایک گفتگو میں گذشتہ دنوں رنویر سنگھ نے کہا ’میں ایک ہزار لوگوں کے سامنے بھی برہنہ ہو سکتا ہوں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میرے ایسا کرنے سے وہ پریشان ہو جائیں گے۔‘
سوشل میڈیا پر آنے والے ردِعمل کو دیکھ کر لگتا ہے کہ انھوں نے کافی لوگوں کو پریشان کر دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ رنویر کی ان تصاویر کے خلاف باتیں کرنے والوں کی تعداد زیادہ تھی۔ ان کی تصاویر کا میمز کے ساتھ مذاق بھی اڑایا گیا۔
لیکن رنویر سنگھ کوئی روایتی فلم سٹار نہیں ہیں۔
وہ اپنے جوش اور غیر معمولی پھرتی کے لیے بھی لوگوں کی نظروں میں رہتے ہیں۔ ان کے فیشن کا سٹائل بھی دوسروں سے مختلف ہے۔ وہ ویلوٹ کی پینٹ، عجیب ڈیزائن والی ٹرٹل نیک شرٹ اور یہاں تک کہ زیورات پہننے میں بھی کتراتے نہیں۔
اور ووگ میگزین نے ان کے اس انداز کی تعریف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’رنویر کا یہ انداز آج کل کے دور میں فیشن کی دنیا کی اس روایت کی مثال ہے جس میں فیشن مردانہ اور زنانہ کے دائروں سے آزاد ہو رہا ہے۔‘
پیپر میگزین کے مطابق ’رنویر سنگھ نے ہر اس پرانے اور روایتی خیال کو توڑا ہے جسے آج بھی انڈین معاشرے میں مردانگی سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔‘
رنویر سنگھ ایک خوبصورت مردانہ جسامت کے مالک ہیں۔ لیکن وہ ایسے کپڑے پہننے سے نہیں گھبراتے جن میں مردانہ اور زنانہ دونوں پوشاکوں یا پسندیدگی کی جھلک ہوتی ہے۔
وہ خیالات پر اڑے رہنے کے بجائے اس میں ضرورت پڑنے پر تبدیلی کے حامی ہیں اور جنسی تعلقات جیسے موضوعات پر بھی کھل کر بات کرتے ہیں۔
امریکہ کی ٹفٹس یونیورسٹی میں لٹریچر اور سیکشوئیلٹی میں پی ایچ ڈی کر رہے راہل سین کہتے ہیں ’وہ انڈیا میں رائج مردانگی کے تصور میں فٹ نہیں بیٹھتے۔ اور یہ سماجی بے چینیوں کی وجہ ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے مرد بھی انھیں اس انداز میں دیکھ کر پریشان ہو گئے۔‘
ایک خیال یہ بھی ہے کہ رنویر کی برہنہ تصاویر پر آنے والا شدید ردعمل سماج میں ’اخلاقی الجھن‘ یا ’اخلاقی کشمکش‘ کی عکاسی کرتا ہے۔
لوگوں میں جدید خیالات اور طرز زندگی کو اپنانے کا رُخ اور روایتی طور طریقوں کو نہ چھوڑنے کا رجحان ساتھ ساتھ نظر آ رہا ہے۔ انڈیا کے متعدد علاقوں میں تاریخی عمارتوں پر برہنہ تصاویر اور فن پارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جنسی تعلقات پر دنیا کی سب سے قدیم کتاب کاما سوترا بھی انڈیا میں ہی لکھی گئی۔
1974 میں ایک فلم میگزین کے کوور پر ماڈل اور ڈانسر پرتیما بیدی کی ساحل سمندر پر کھیچی گئی تصویر بھی کچھ اسی طرز پر تھی۔ برہنگی سے انڈیا کا تعرف نیا نہیں ہے۔ ہندوؤں کے کمبھ میلے میں ایسے مناظر عام ہوتے ہیں جب متعدد نیم برہنہ سادھو جسم پر صرف راکھ ملے ہوئے نظر آتے ہیں۔
’مسکولر انڈیا‘ نامی کتاب کے مصنف مائیکل باس کہتے ہیں کہ ’انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر انڈین مرد اکثر چھوٹے انڈر ویئر پہنے اپنے جسم کی نمائش کرتے نظر آتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کے دس لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔
’انھیں بھی چند منفی تبصروں کا سامنا ہوتا ہے لیکن بیشتر لوگ انھیں مختلف ایموجیز کے ذریعے سراہتے ہیں۔ کوئی مثبت حیرانی کا اظہار کرتا ہے تو کوئی انھیں بتاتا ہے کہ وہ ان سے کتنے متاثر ہیں۔‘
باس اس جانب بھی دھیان دلاتے ہیں کہ انڈین فلموں میں ہیرو کا شرٹ اُتار دینا بھی معیوب نہیں سمجھا جاتا۔
لیکن وہ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ’جب رنویر سنگھ جیسے لوگ برہنگی کے قابل قبول معیار سے آگے بڑھ کر اپنے جسم کی نمائش کرتے ہیں تو اس میں انھیں مردانگی کی ’ایک کمزور جھلک‘ نظر آتی ہے۔
’نتیجتاً لوگ ایسی تصاویر کا مذاق اڑانے لگتے ہیں، جس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ انڈیا میں مردوں کا اپنی شخصیت کی کمزور یا نرم جھلک دکھانے کو عام طور پر قبول نہیں کیا جاتا۔‘
انڈین مصنفہ شوبھا ڈے کہتی ہیں ’مجھے اس بحث کا مقصد ہی سمجھ نہیں آتا۔ برہنگی انڈیا میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ رنویر سنگھ کے معاملے میں یہ ان کا جسم ہے اور اس پر ان کی مرضی چلنی چاہیے۔‘
تاہم انڈیا کے مقبول ترین مصور ایم ایف حسین اور اکبر پدمسی بھی برہنہ تصاویر بنانے کے لیے تنقید کی زد میں آ چکے ہیں۔
ان میں سے ایک تصویر میں ایک مرد کا ہاتھ ایک عورت کے بریسٹ پر تھا۔ کئی ایسے واقعات بھی سامنے آئے جب فلموں کے سیٹ کو برہنگی دکھانے کے خلاف ردعمل میں تباہ کر دیا گیا۔
ایسا بھی نہیں ہے کہ رنویر سنگھ اس قسم کی تصاویر کھنچوانے والے پہلے فلمی اداکار ہوں۔
سال 1995 میں اداکار ملند سومن اور ماڈل مدھو سپرے کی ایک تصویر سامنے آئی تھی جس میں دونوں کے جسم پر کوئی کپڑے نہیں تھے۔ جسم پر محض سانپ لپٹا ہوا تھا۔
وہ ایک جوتوں کی کمپنی کا اشتہار تھا۔ ان کے خلاف عدالت میں تقریباً چودہ برس تک معاملہ چلا۔ برانڈ سٹریٹیجسٹ امبی پرمیشورن کے بقول ’جب عدالت نے انھیں اس معاملے سے بری کیا تب تک مدھو سپرے ملک چھوڑ کر جا چکی تھیں۔
’جوتوں کی کمپنی کا کاروبار بند ہو چکا تھا، اور کیا معلوم اس سانپ کا کیا ہوا۔‘
یہ بھی پڑھیے
ممبئی میں اشتہارات کے معیار کے نگران ادارے کے پاس اشتہارات کے خلاف شکایات مستقل آتی رہتی ہیں۔ گذشہ برس نومبر میں بھی ان کے پاس ایسی دو شکایات آئی تھیں۔ ان میں سے ایک کے خلاف شکایت تھی کہ اس میں خواتین کے ’زیر جاموں پر اعتراض‘ اٹھایا گیا تھا اور دوسرے میں دو لڑکیاں ٹی شرٹ اٹھا کر ایک دوسرے کو ’اپنے زیر جاما دکھا رہی تھیں‘ جسے شکایت کرنے والے نے ’بھدہ‘ قرار دیا تھا۔
لیکن ادارے نے ان دونوں ہی شکایات کو مسترد کر دیا تھا۔
مصنفہ برندا بوس کی کتاب ’دا اوڈیسیٹی آف پلیژر: سیکشوئیلٹی، لٹریچر اینڈ سینیما ان کنٹیمپریری انڈیا‘ اسی موضوع کو ٹٹولتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اب جتنی آزادی ہے اتنی ہی زیادہ کشمکش بھی۔
’اور ایک اخلاقی پولیس بھی ہے جنھیں برہنگی سے گھن بھی آتی ہے اور وہ اس بارے میں مزید جاننا بھی چاہتے ہیں۔ ایک عجیب سی کشمکش ہے جو ہم سبھی میں کسی حد تک پائی جاتی ہے۔‘
دو برس قبل چنائی کے فوٹوگرافر جی وینکٹ رام بھی خود اسی کشمکش کی زد میں آ گئے۔ جسم کو کسی بھی شکل اور صورت میں قبول کرنے کی مہم کے تحت انھوں نے ایک ٹیٹو آرٹست کی برہنہ تصاویر اتاری تھیں۔
وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے ’بہت ہمت جٹا کر‘ اس تصویر کو انسٹاگرام پر شیئر کیا جہاں ان کے نوے ہزار سے زائد فالوورز ہیں۔
ان کے بقول ’بہت سے لوگوں نے اسے پسند کیا لیکن بعض خوش نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم آپ کا احترام کرتے تھے۔ آپ نے یہ کیسے کر دیا؟‘
پھر کچھ بہت ہی عجیب ہوا۔ ان کے تقریباً ڈھائی ہزار فالوورز کم ہو گئے اور آٹھ ہزار بڑھ گئے۔ اور یہ سب کچھ ایک ہی دن میں ہوا۔
وہ بتاتے ہیں ’یہ سونامی کی طرح تھا۔ سینکڑوں لوگوں نے ایک ہی وقت میں مجھے فالو اور ان فالو بھی کیا، لیکن زیادہ تر نے فالو کیا۔ نوجوان افراد شوٹ کی تعریف کرتے نہیں تھک رہے تھے۔ وہ بہت ہی عجیب و غریب تجربہ تھا۔‘
اس برس رام نے دو ماڈلز کے ساتھ ایک سیریز شوٹ کی ہے جس کا نام ’بیئر‘ یعنی برہنہ ہے۔ رام نے اس سیریز کی تصاویر انسٹاگرام پر شیئر کیں تو ان کو سراہا گیا اور کسی نے ٹرولنگ نہیں کی۔
وہ بتاتے ہیں کہ اگر تصاویر خوبصورتی سے لی جائیں تو بہت سی خواتین اور مرد ماڈلز برہنہ فوٹو شوٹ کرانے سے گھبراتے نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’روایتی میڈیا اور ایڈورٹائزنگ کے بر عکس سوشل میڈیا آپ کو زیادہ آزادی اظہار دیتا ہے۔‘
پلے بوائے کی ہی طرح انڈیا میں معروف رہ چکے میگزین ’ڈیبانوئر‘ کے سابق ایڈیٹر ونود مہتا نے ایک مرتبہ ایک ایسا واقعہ سنایا تھا جو انڈیا میں برہنگی اور سیکشوئیلٹی سے متعلق رویوں کی عکاسی کرتا ہے۔
ایمرجنسی کے دنوں میں جب پریس پر سینسرشپ لاگو تھی، مہتا کو ایک مرتبہ ایک وفاقی وزیر نے بلایا اور میگزین کا وہ حصہ دکھانے کو کہا جس میں اکثر نیم برہنہ خواتین کی تصاویر ہوا کرتی تھیں۔
مہتا نے انھیں قریب آدھی درجن تصاویر دکھائیں جس میں سے انھوں نے ایک کا انتخاب کیا۔
مہتا اپنی یادداشتوں میں بتاتے ہیں کہ ’منسٹر کی نظر اس تصویر پر رُکی جو نوے فیصد برہنہ تھی۔ انھوں نے اسے ایک طرف رکھ دیا۔
’میں نے ان سے پوچھا کہ کیا ہمیں میگزین کا یہ حصہ نکال دینا چاہیے۔ تو وہ تو جیسے خوفزدہ ہو گئے اور بولے، نہیں! بس اسے تھوڑا مہذب بنائیے۔‘
’اور پھر اس منسٹر نے بلا اجازت وہ تصویر اپنے پاس رکھ لی۔‘