چین میں الیکٹرک گاڑیاں مقبول تو ہو رہی ہیں مگر یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟

،تصویر کا ذریعہAlamy
- مصنف, کرس برانیوک
- عہدہ, ٹیکنالوجی آف بزنس رپورٹر
اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی حکومت کیسے نئی ٹیکنالوجیز کے فروغ میں کردار ادا کر سکتی ہے تو چین کے شہر بیجنگ کی نئی ٹیکسیوں کو ہی دیکھ لیں۔
پانچ برس قبل اس شہر میں یہ منصوبہ پیش کیا گیا تھا کہ پیٹرول یا ڈیزل سے چلنے والی ٹیکسیاں اب سڑکوں پر مزید نہیں لائی جائیں گی اور آج صورتحال یہ ہے کہ بیجنگ کی سڑکوں پر ہزاروں گاڑیاں بیٹریوں سے چل رہی ہیں اور ان برقی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو چارجنگ سٹیشنز پر اپنا وقت برباد کرنے کی فکر بھی نہیں۔
بیجنگ اور چین کے دیگر کئی شہروں میں الیکٹرک ٹیکسیاں کسی بیٹری سویپنگ سٹیشن جاتی ہیں جہاں ایک مشین کچھ ہی منٹوں میں ان کی بیٹری نکال کر چارج شدہ بیٹری نصب کر دیتی ہے۔
نیشنل تائیوان یونیورسٹی کے ای یون لیزا ہسیا کہتے ہیں کہ ’وہ (ڈرائیور) گاڑی چلا کر کچھ پیسے کمانے کے لیے سڑکوں پر آتے ہیں اس لیے وہ نہیں چاہیں گے کہ اُنھیں کسی سٹیشن پر بیٹری چارج کرنے کے لیے دو گھنٹے انتظار کرنا پڑے۔‘
یہ چین میں برقی گاڑیوں کی تیزی سے فروغ پاتی مارکیٹ کا صرف ایک رُخ ہے۔ صرف ٹیکسیاں ہی نہیں بلکہ عام شہری بھی بڑی تعداد میں برقی گاڑیاں خرید رہے ہیں۔
رواں برس جولائی میں چائنہ پیسنجر کار ایسوسی ایشن نے توقع ظاہر کی تھی کہ ملک میں سنہ 2022 میں 60 لاکھ نئی برقی گاڑیاں فروخت ہوں گی جو اس کی پچھلی پیشگوئی 55 لاکھ سے زیادہ ہیں۔
ستمبر کا مہینہ چین میں ٹیسلا کے لیے سب سے اچھا مہینہ رہا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس نے اس مہینے میں 83 ہزار 135 گاڑیاں فروخت کی ہیں۔
چین میں اب نئی رجسٹر ہونے والی تمام گاڑیوں کی تقریباً ایک چوتھائی تعداد یا الیکٹرک ہے یا ہائبرڈ۔ اس کا سادہ الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ چین اس ٹیکنالوجی کے حصول میں امریکہ اور یورپ سے بھی آگے ہے۔ دنیا کی نصف برقی گاڑیاں چین میں فروخت کی جاتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ای یون لیزا ہسیا کے مطابق اس کی بڑی وجہ سرکاری سرپرستی، ملنے والی مراعات اور فوائد ہیں۔ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے سے چینی حکومت نے برقی گاڑیوں کی فروخت پر سبسڈی دے رکھی ہے۔ یہ سبسڈیز وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی رہی ہیں اور سنہ 2023 تک ختم ہونی ہیں مگر اس کے باوجود کئی وجوہات ہیں کہ کیوں برقی گاڑی خریدنا جیب کے لیے صرف فائدہ ہی فائدہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین میں فوسل ایندھن (پیٹرول اور ڈیزل) سے چلنے والی نئی گاڑیوں کے خریداروں کو نہ صرف گاڑی کے لیے بلکہ نمبر پلیٹ تک کے لیے پیسے دینے پڑتے ہیں۔ شنگھائی میں ایک نئی نمبر پلیٹ کی قیمت تقریباً ایک لاکھ یوآن (14 ہزار امریکی ڈالر) ہے۔
اگر آپ برقی گاڑی منتخب کرتے ہیں تو دیگر فوائد بھی ہیں جو مختلف شہروں میں مختلف ہو سکتے ہیں۔ لیوژو شہر میں حکام نے برقی گاڑیوں کے مالکان کو بس لینز میں گاڑی چلانے کی اجازت دے رکھی ہے اور اُنھیں مفت پارکنگ کی سہولت بھی ملتی ہے۔
اس کے بعد کچھ گاڑیوں کی قیمت بھی بہت پُرکشش ہوتی ہے۔ وولنگ ہانگ گوانگ منی ای وی ایسی گاڑی ہے جو مہنگی برقی گاڑیوں کے رجحان کو چیلنج کر رہی ہے۔
سٹارم کرو کیپیٹل نامی ریسرچ فرم کے صدر اور ڈائریکٹر جون ہیکاوے کہتے ہیں کہ اس چھوٹی سی گاڑی کا بالکل بنیادی ورژن صرف 4600 ڈالر کا ہے اور شہروں میں رہنے والوں اور پہلی مرتبہ گاڑی خریدنے والوں دونوں ہی کے لیے یہ پُرکشش ہوتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ وہ گاڑیاں ہیں جو ایشیا کے ایک بڑے حصے میں فروخت کی جا سکتی ہیں۔‘
ہانگ گوانگ منی اس وقت چین کی سب سے مقبول برقی گاڑی ہے مگر کئی دیگر زیادہ قیمت والی برقی گاڑیاں بھی ہیں مثلاً ٹیسلا ماڈل وائے (54 ہزار ڈالر) یا پھر شپینگ پی 7 (33 ہزار 100 ڈالر)۔ دونوں ہی چین میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی 10 برقی گاڑیوں میں شامل ہیں۔
چین میں برقی گاڑیوں کی مارکیٹ میں مقابلہ نہایت سخت ہے اور بہت سی کمپنیاں اس میں جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ روئٹرز کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ایئرلائن جونیاؤ بھی برقی گاڑیاں بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کنسلٹنگ کمپنی گارٹنر سے منسلک تجزیہ کار پیڈرو پاچیکو نے کہا کہ ’یہ ان پیداوار کنندگان کے ٹیکنالوجی تیار کرنے کے لیے بہت سازگار ماحول ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ چین میں کچھ برقی گاڑیوں کی رینج بہت ہی زبردست ہے اور اب کاریں بنانے والی کمپنیاں مہنگی برقی گاڑیوں میں انفوٹینمنٹ سسٹمز اور دیگر اشیا بھی شامل کر رہے ہیں تاکہ گاہکوں کی توجہ حاصل کی جا سکے۔
مگر چین میں برقی گاڑیوں کے اس رجحان کے بارے میں دو بڑے سوالات ہیں: کیا یہ جاری رہے گا اور دوسرا یہ کہ اس سے برقی گاڑیوں کی عالمی مارکیٹ میں کیا تبدیلیاں آئیں گی۔
یہ بھی پڑھیے
اکنامسٹ انٹیلیجنس یونٹ میں صنعتی تجزیوں کی ڈائریکٹر اینا نیکولز کہتی ہیں کہ اُنھیں اس بات پر حیرت ہے کہ چین میں حالیہ کچھ عرصے میں کس تیزی سے برقی گاڑیاں فروخت ہو رہی ہیں مگر وہ کہتی ہیں کہ نئی برقی گاڑیوں کی خریداری پر سبسڈی کے خاتمے سے ان کی مانگ میں کمی آ سکتی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’برقی گاڑیوں کی مارکیٹ کا مستقبل میں بھی اسی شرح سے بڑھتے رہنا تھوڑا سا مشکل ہے۔‘
چارجنگ کی سہولیات اب بھی ہر جگہ موجود نہیں اور سپلائی کے مسائل اپنی جگہ ہیں۔ چین کے کچھ حصوں میں بدترین خشک سالی کے باعث جب بجلی کی پیداوار میں کمی آئی تو کئی چارجنگ سٹیشنز بند کر دیے گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عموماً زیادہ برقی گاڑیوں کی فروخت کا مطلب ہے بجلی کی طلب میں اضافہ اور ایسے وقت میں جب چین اپنے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں میں کوئلے کی کھپت میں کمی لانے کی کوشش کر رہا ہے تو ان تمام گاڑیوں کو بجلی فراہم کرنا ایک چیلنج بن سکتا ہے۔
ہیکاوے کی طرح کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہائبرڈ گاڑیاں مکمل طور پر برقی گاڑیوں سے بہتر ہیں کیونکہ ان کا بجلی پر انحصار کم ہو گا۔
اس کے علاوہ انھیں چھوٹی بیٹریوں کے باعث کم لیتیھئم کی ضرورت ہو گی۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ کچھ برسوں میں دنیا میں لیتھیئم کی قلت پیدا ہو جائے گی۔
اور جہاں تک بات اس سوال کی ہے کہ چین کی برقی گاڑیوں کی مارکیٹ عالمی سطح پر کیا رجحانات بدل سکتی ہے تو اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا مگر یہ تبدیلی شروع ہو چکی ہے اور کئی چینی کمپنیاں اب اپنی برقی گاڑیاں لاطینی امریکہ، افریقہ اور دیگر ممالک میں فروخت کے لیے پیش کر رہی ہیں۔
نیو نے بھی حال ہی میں ناروے میں اپنے بیٹری سویپنگ سٹیشن کھولے ہیں اور اس نے ملک میں ایسا دوسرا سٹیشن کھول لیا ہے۔
پیڈرو پاچیکو کا کہنا ہے کہ مزید بڑی کار برانڈز کو بیٹری سویپنگ ٹیکنالوجی اپنانی ہو گی تاکہ ان کی گاڑیاں یورپ میں فروغ پا سکیں مگر وہ چین میں انتہائی کم قیمت برقی گاڑیوں کی کامیابی کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’چین میں ان کے پاس پہلے ہی کم قیمت برقی گاڑیاں ہیں۔ یورپ میں ہم ابھی تک وہاں نہیں پہنچے۔‘
ابھرتی ہوئی مارکیٹس میں یہ بالکل ویسی ہی گاڑیاں ہیں جو اپنی جگہ بنا سکتی ہیں۔
کیا دنیا فتح کرنے کا وقت آ گیا ہے؟ شاید ہاں مگر ایک اور حلقے کا کہنا ہے کہ دنیا ابھی انتظار کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیے
’جب تک کہ چینی مارکیٹ پھل پھول رہی ہے، وہ اسے مقامی طور پر فروخت کر سکتے ہیں اور وہ ایسا کیوں نہیں کریں گے؟‘
تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ سبسڈیز ختم ہونے کے بعد اس مارکیٹ کا کیا ہو گا۔ اس سے چینی برقی گاڑیوں کے تیار کنندگان دیگر ممالک کا رخ کر سکتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ہم چینی حکام کی پالیسیوں کی وجہ سے بالواسطہ طور پر برقی گاڑیاں پسند کرنے لگیں؟
اتنظار کرنا اور دیکھنا ہو گا۔













