آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
گیان واپی مسجد کے احاطے میں پوجا کی اجازت سے متعلق مقدمے کی سماعت ہو گی
- مصنف, نیاز فاروقی
- عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی
ریاست اتر پردیش میں واقع وارانسی کی ایک عدالت نے پیر کو مسلم جماعت انجمن کمیٹی کی اس درخواست کو مسترد کر دیا، جس میں ہندو عبادت گزاروں کے مقدمے کو چیلنج کیا گیا تھا جو کہ گیان واپی مسجد کے احاطے میں عبادت کرنے کی اجازت کی درخواست کر رہے تھے۔
ڈسٹرکٹ جج اے کے وشویشوا نے فیصلہ دیا کہ ہندو عبادت گزاروں کی طرف سے دائر مقدمہ کو 'دی پلیس آف ورشپ ایکٹ' کے ذریعے نہیں روکا جا سکتا ہے۔ یہ ایکٹ 15 اگست 1947 کے بعد اس تاریخ سے پہلے کی کسی بھی مذہبی مقامات کی فطرت میں تبدیلیوں کو منجمد کرتا ہے۔
اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ ہندو فریق کے طرف سے داخل سول سوٹ کی تفصیل سے سماعت کی جائے گی اور شواہد کا جائزہ لیا جائے گا۔
خیال رہے کہ انڈیا کے قدیم شہر وارانسی یعنی بنارس کی گیان واپی مسجد کا سروے مکمل ہونے کے بعد ہندو فریق نے نچلی عدالت میں دعویٰ کیا تھا کہ اس سال کے شروع میں ایک مقامی عدالت کے حکم پر گیان واپی مسجد کی ویڈیو گرافک سروے کے دوران ایک 'شیو لنگ' ملا تھا لیکن مسلم فریق نے اس سے اختلاف ظاہر کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ وقف کی جائیداد ہے۔
تاہم یہ دعویٰ سامنے آنے کے بعد یہاں کی ایک مقامی عدالت نے رواں برس مئی میں اس جگہ کو فوری طور پر سیل کرنے کا حکم دیا تھا۔ جبکہ انڈیا میں مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم مسلم پرسنل لا بورڈ نے سروے کے نتیجے میں سامنے آنے والے دعوے اور اس کی بنیاد پر مسجد کے وضو خانے کو بند کرنے کے حکم کو 'غیر قانونی' قرار دیا تھا۔
جج روی کمار دیواکر نے اپنے حکم میں لکھا تھا: 'حکم دیا جاتا ہے کہ اس جگہ کو فوری طور پر سیل کر دیا جائے جہاں سے شیولنگ ملا ہے اور سیل کی گئی جگہ پر کسی بھی شخص کا داخلہ ممنوع ہو گا۔'
اب وارانسی کی مقامی عدالت نے مسلمانوں کو ہندو پوجاریوں کے اس دعوے کو خارج کرنے سے متعلق درخواست کو مسترد کیا ہے۔ اب عدالت ہندو پوجاریوں کے دعوے پر سماعت کرے گی اور پھر فریقین کے دلائل سن کر اپنا فیصلہ سنائے گی۔
ہندو فریق کی طرف سے ایک درخواست گزار منجو ویاس نے عدالت کے فیصلے کے بعد خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ 'بھارت آج خوش ہے۔ میرے ہندو بھائیوں اور بہنوں کو جشن منانے کے لیے دیے روشن کرنا چاہیے'۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہندو فریقین کی طرف سے درخواست گزار سوہن لال آریہ نے کہا کہ 'یہ ہندو برادری کی جیت ہے۔ اگلی سماعت 22 ستمبر کو ہے۔ یہ (فیصلہ) گیان واپی مندر کا سنگ بنیاد ہے۔ لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل ہے'۔
جج اے کے وشویش نے گذشتہ ماہ فرقہ وارانہ طور پر حساس معاملے میں 12 ستمبر تک فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔
دلی کی پانچ خواتین نے درخواست دائر کی تھی جس میں ہندو دیوتاؤں کی روزانہ پوجا کی اجازت مانگی گئی تھی، جن کا دعویٰ ہے کہ یہ بت گیان واپی مسجد کی بیرونی دیوار پر واقع ہیں۔
ضلعی منتظم نے حکم سے قبل وارانسی میں دفعہ 144 کا اعلان کیا ہے اور سخت سکیورٹی کا انتظام کیا ہے۔
اس سے پہلے بھی گیان واپی مسجد پر ہندو فریقین کی جانب سے سوال اٹھائے گئے ہیں۔
سنہ 1936 میں عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا، جس کا فیصلہ اگلے سال آیا اور اس فیصلے میں پہلے نچلی عدالت اور پھر ہائی کورٹ نے مسجد کو وقف جائیداد مانا۔
سنہ 1992میں بابری مسجد کو منہدم کرنے سے پہلے بابری مسجد کے علاوہ متھرا کی ایک مسجد اور وارانسی کی گیان واپی مسجد پر ہندو فریقین نے دعویٰ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
انجمن انتظامیہ مسجد کے وکیل ابھے یادیو نے بی بی سی کے نامہ نگار اننت جھانے کو بتایا تھا کہ سنہ 1991 میں ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جس مسجد پر یہ تعمیر کی گئی ہے، وہ کاشی وشوناتھ کی زمین ہے، اس لیے مسلمانوں کی عبادت گاہ کو ہٹا کر اس پر ہندوؤں کو قبضہ دیا جائے۔
یہ معاملہ فی الحال ہائی کورٹ میں ہے۔
سنہ 1996 میں بھی سوہن لال آریہ نامی شخص نے وارانسی کی ایک عدالت میں درخواست دائر کی تھی، جس میں سروے کا مطالبہ کیا گیا تھا، لیکن سروے نہیں ہوا۔
خیال رہے کہ اس بار سروے کا مطالبہ کرنے والی پانچ خواتین درخواست گزاروں میں سے ایک لکشمی دیوی ہیں جو سوہن لال کی بیوی ہیں۔
تنازع کی جڑ یہ شیولنگ ہے کیا؟
واضح رہے کہ ہندو شیولنگ کو بھگوان شیو کی علامت اور تخلیق کائنات کے منبع کے طور پر پوجتے ہیں۔ ہندو روایت میں یہ ہر طرح کی تخلیق اور قوت تخلیق کی علامت ہے۔
ہم نے ہندو مذہب کے عالم اور معروف صحافی مدھوکر اپادھیائے سے شیولنگ کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے کہا کہ شیو یا شوا ہندو مذہب کے تین اہم ترین بھگوانوں میں سے ایک ہیں۔ ایک برہما بھگوان ہیں جنھیں ہندو مذہب میں خالق کائنات تصور کیا جاتا ہے جبکہ دوسرے وشنو ہیں جنھیں چیزوں کو برقرار رکھنے والا کہا جاتا ہے جن کے اوتار میں رام اور کرشن شامل ہیں، جبکہ تیسرے مہیش ہیں جو دراصل شیو ہیں اور ان کو شنکر، مہادیو اور بھولے جیسے کئی ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے اور انھیں دنیا کو ختم کرنے کی طاقت یا پوری قوت والا بھگوان تصور کیا جاتا ہے۔
ہندو روایت میں شیو کی آمد کافی دیر سے ہوتی ہے اور انھیں غیر آریائی دیوتا تصور کیا جاتا ہے۔ مدھوکر اپادھیائے کا کہنا ہے کہ ابھی تک کا معلوم سب سے قدیم شیولنگ مندر مدھیہ پردیش کے امرکنٹکا مندر میں ہے جہاں آٹھوی صدی عیسوی کے آدی شنکراچاریہ نے اس کی پوجا کی تھی۔ یہ اب زمین کے نیچے گہرائی میں چلا گیا ہے اس لیے وہاں جانا کافی مشکل کام ہے۔
انھوں نے بتایا کہ شمالی ہندوستان میں شیوا کی پوجا یا عبادت کی زیادہ روایت رہی ہے جبکہ مشرقی ہندوستان میں شکتی کی علامت دیویوں کا زیادہ زور رہا ہے چاہے وہ درگا ہو کہ کالی یا پھر آسام کا کامکھیا کا معروف مندر، جبکہ مغرب میں وشنو کا غلبہ رہا ہے اور جنوب میں شیو اور وشنو دونوں کی ملی جلی اہمیت ہے۔