آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا میں تین طلاق کے خاتمے کے پانچ سال: خواتین جو اب ’شادی شدہ ہیں نہ مکمل طلاق یافتہ‘
- مصنف, نیاز فاروقی
- عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی
سنہ 2017 میں جب انڈیا کی سپریم کورٹ نے فوری طور پر ایک ساتھ تین طلاق دینے کے عمل کو غیر آئینی قرار دیا تب اس کیس کی درخواست گزاروں میں سے ایک، آفرین رحمان، کافی خوش تھیں کیونکہ چند ماہ قبل ان کے شوہر کی طرف سے دی گئی یکطرفہ اور فوری طور پر تین طلاقیں اب واضح طور پر غیر قانونی تھیں۔
لیکن ان کی توقعات کے برعکس حالات زیادہ نہیں بدلے۔ ان کے شوہر نے ان سے صلح کرنے سے انکار کر دیا۔ پانچ سال بعد، آج انھیں معلوم نہیں کہ آیا ان کی شادی قائم ہے یا وہ طلاق یافتہ ہیں۔
لیکن ایسی صورتحال کا سامنا کرنے والی وہ انڈیا میں واحد مسلم خاتون نہیں۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مروجہ تین طلاق کے مقدمے کی تمام پانچوں درخواست گزار اب بھی ’طلاق یافتہ‘ ہیں۔
ان کارکنوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں تین طلاقوں کے برعکس گذشتہ پانچ سال کے دوران مردوں کی جانب سے اپنی بیویوں کو بنا طلاق دیے چھوڑنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
جمیلہ نشاط، جو حیدر آباد میں شاہین ویمن ریسورس اینڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن چلاتی ہیں، کہتی ہیں کہ ان کے کارکنوں نے اس عدالتی فیصلے کے بعد شہر کی 20 کچی آبادیوں میں طلاق جیسے ازدواجی زندگی کے معاملات کا مطالعہ کیا اور انھیں چونکا دینے والے اعداد و شمار ملے۔
انھوں نے بتایا کہ ’ہم نے جن 2106 گھرانوں کا سروے کیا، 683 میں شوہروں نے خواتین کو بنا طلاق کے چھوڑ دیا تھا۔‘
بنا طلاق دیے عورتوں کو چھوڑنا
عورتوں کے حقوق پر کام کرنے والے کارکنان بتاتے ہیں جس چیز نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے وہ مسلم خواتین کے لیے شادی کے حقوق کا تحفظ ایکٹ 2019 ہے جو 2017 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت نے بنایا تھا جبکہ عدالت کے فیصلے نے فوری طور پر ایک ساتھ تین بار طلاق کے عمل کو کالعدم قرار دیا۔
اس نئے قانون نے تین طلاق کو ایک جرم قرار دیا، جس کے تحت شوہر کو تین سال قید کی سزا ہے لیکن جیل کے خوف نے بہت سے مردوں کے لیے خواتین کو بنا طلاق چھوڑ کر قانون کو نظر انداز کرنے کا موقع دیا ہے، جس سے انھیں اپنے فعل کے لیے کسی بھی قسم کی ذمہ داری سے آزادی ملتی ہے۔ یہ عورتوں کے لیے ایک طرح سے قانونی اور سماجی چیلنج ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمیلہ کہتی ہیں کہ ’ہمارے پاس ابتدائی دنوں میں بنا طلاق کے شوہروں کے غائب ہونے کے دو سے تین کیس آتے تھے لیکن سنہ 2019 میں قانون بننے کے بعد ان معاملات میں اچانک اضافہ ہوا۔‘
عورتوں کے حقوق کے لیے کام والی تنظیم ’بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن‘ کی شریک بانی ذکیہ سومن، جو تین طلاق کیس کی درخواست گزاروں میں سے ایک تھیں، کہتی ہیں کہ عدالت کے فیصلے اور اس کے بعد آنے والے قانون سے ملے جلے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
’یہ ایک ملا جلا نتیجہ ہے خاص طور پر جب عدالت میں ان درخواست گزاروں کی بات آتی ہے کیونکہ ان میں سے کسی کو بھی ان کے شوہر نے واپس نہیں لیا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’ان پانچ میں سے کم از کم چار معاملات میں تو شوہروں نے دوبارہ شادی کر لی ہے اور ان کے بچے بھی ہیں جبکہ یہ خواتین ابھی بھی اکیلی ہیں۔‘
وہ مزید کہتی ہیں ’کمیونٹی میں بیداری آئی ہے کہ یہ اللہ کا قانون نہیں اور اس کی وجہ سے تین طلاق کے واقعات میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔‘
حالات بدل رہے ہیں
لیکن مبصرین اور حقوق نسواں سے منسلک کارکنان متفق ہیں کہ اس فیصلے اور قانون کا ایک خاص نتیجہ یہ نکلا کہ پچھلے پانچ برس میں فوری طور پر تین طلاقِ کے واقعات میں کمی آئی۔
ذکیہ کہتی ہیں کہ ’مختلف ریاستوں میں موجود ہمارے رضاکار رپورٹ کر رہے ہیں کہ تین طلاقِ کے کیسز کی تعداد میں بلا شبہ بہت کمی آئی ہے۔‘
مسلمانوں میں سماجی سطح پر بھی حالیہ برسوں میں تین طلاق کے بارے میں زیادہ بیداری آئی ہے اور لوگوں کو یہ احساس ہوا کہ فوری طور پر تین طلاق دینے کا طریقہ ایک ’بدعت‘ ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بات مسلم مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کے لیے بھی درست ہے۔
سینئیر صحافی اور ازدواجی مسائل پر کتاب کے مصنف ضیا الاسلام کہتے ہیں کہ ’گذشتہ پانچ سال میں چیزیں اتنی بدلی ہیں کہ عورتوں کو اپنے حقوق کے بارے میں علم ہونے لگا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اس فیصلے اور خاص طور پر شاہین باغ احتجاج کے بعد مسلم خواتین کو اپنی آواز ملی لیکن بدقسمتی سے سب کچھ اچھا بھی نہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’عدالت نے شوہر کو اپنی ’طلاق شدہ‘ بیوی کو واپس لینے کو نہیں کہا۔ وہ نہ ہی مکمل طور پر شادی شدہ تھیں اور نہ ہی طلاق یافتہ۔ پانچ سال بعد بھی وہ وہیں کھڑی ہیں جہاں پہلی بار سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے وقت تھیں۔‘
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ انھیں ان کے شوہروں کی طرف سے حق مہر کے طور پر کوئی مدد بھی نہیں ملی۔
حقیقت کیا ہے؟
بعض شریعی قوانین کے مطابق طلاق احسن اور طلاق حسن رجعی (جس میں رجوع کیا جائے) ہیں اور یہ تین ماہ کی مدت میں دی جاتی ہیں اور مرد کی طرف سے یکطرفہ ہیں۔
مذہب اسلام میں شوہر اور بیوی کی علیحدگی کی دیگر اقسام میں خلع (جو عورت کے کہنے پر ہوتی ہے) اور مبارات (جس میں باہمی رضامندی کی ضرورت ہوتی ہے) شامل ہیں۔
سپریم کورٹ کی وکیل شاہ رخ عالم بتاتی ہیں کہ خواتین کافی حد تک یکطرفہ طریقے سے خلع لے سکتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اگر بیوی فیصلہ کرتی ہے کہ وہ خلع چاہتی ہے تو قاضی یہ ضرور کہہ سکتا ہے کہ آپس میں بات چیت سے سلجھانے کی کوشش کریں لیکن شوہر کو آخرکار خلع قبول کرنی ہی پڑے گی، اگر عورت مہر اور دیگر حقوق ترک کر دے۔‘
لیکن عملی طور پر یہ کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ان کے مطابق ’اس لیے اکثر جب قانونی نوٹس آتا ہے تو شوہر اس پر جواب دینے میں دیر کرتا ہے یا جواب نہیں دیتا یا جواب دینے سے انکار کر دیتا ہے۔‘
جمیلہ بھی ازدواجی تنازعات کے معاملات پر کئی خواتین سے بات چیت کے بعد اسی نتیجے پر پہنچی ہیں۔
تین طلاق پر پابندی اور اس سے متعلق قانون نے مردوں کو یہ احساس دلایا ہے کہ غلط طریقے سے طلاق دینے پر وہ مجرم بن جائیں گے لیکن اگر وہ عورتوں کو بنا طلاق چھوڑ دیں تو خواتین شوہر کی شرائط کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائیں گی۔
جمیلہ کہتی ہیں کہ ’اب رویہ یہ ہے کہ اتنا ستاؤ کہ لڑکی خود خلع لے لے۔ اسی لیے اب ہمارے پاس تین طلاق سے زیادہ خلع کے کیسز آ رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت کو اپنے حق مثلاً مہر اور نفقہ سے دستبردار ہونا پڑے گا۔‘
23 سالہ عرشیہ بیگم کی اکتوبر 2021 میں شادی ہوئی لیکن سسرال والوں کے تشدد نے انھیں طلاق مانگنے پر مجبور کر دیا تاہم شوہر نے طلاق دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ خلع لے لیں۔
عرشیہ بتاتی ہیں کہ انھوں نے اس کے لیے رضامندی ظاہر کی لیکن شوہر سے کہا کہ وہ ایک شرط پر خلع لیں گی کہ وہ کاغذ پر لکھ کر تسلیم کریں کہ خلع کی وجہ ان کا اور ان کے خاندان کا تشدد ہے۔
شوہر اس پر راضی نہیں ہوا۔ عرشیہ کی والدہ نے ان سے کہا کہ وہ تشدد کے بارے میں لکھے بغیر خلع لے لیں کیونکہ اس سے ان کے لیے یہ عمل آسان ہوگا۔
عرشیہ کہتی ہیں ’لیکن میں نے کہا میں کیوں کروں؟ شوہر اور ان کے گھر والوں نے جو کیا اس کا الزام میں کیوں لوں؟ وہ معاشرے میں تشدد کرنے کے باوجود بھی اچھے ہیں لیکن میں سب کچھ برداشت کرنے کے باوجود بھی بری ہوں۔‘
عرشیہ کی جدوجہد ابھی بھی جاری ہے۔
جمیلہ کہتی ہیں کہ ’ایک لڑکی نہیں چاہتی کہ طلاق ہو۔ وہ اپنی فیملی کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ وہ اور کہاں جائے گی کیونکہ اکثر اپنی زندگی کو نئے سرے سے شروع کرنے کے لیے اس کے پاس ہنر نہیں ہوتا۔‘
لیکن جب کوئی خاتون آزادانہ طریقے سے اپنے فیصلہ لینے کی طاقت رکھتی ہے تب بھی معاشرے کا دباؤ اور پدرانہ نظام اس کے لیے زندگی مشکل بنا دیتا ہے۔
تمام کوششوں کے بعد شوہر سے بات نہ بننے کے بعد آفرین دوبارہ شادی کرنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن قسمت ان کا ساتھ نہیں دے رہی۔
یہ بھی پڑھیے
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک کارکن، نسیم اختر، جنھوں نے آفرین کو اپنا کیس سپریم کورٹ میں لے جانے میں مدد کی تھی، کہتی ہیں کہ ’آفرین کا کیس اتنا مشہور ہو گیا کہ لوگ آفرین سے ڈرنے لگے ہیں۔‘
وہ بتاتی ہیں کہ ’جس دن تین طلاق پر عدالت کا فیصلہ آیا اس دن آفرین کا چہرہ ہر ٹی وی چینل پر تھا۔ اس کے باس نے دیکھا تو فوری طور پر یہ کہتے ہوئے اسے نوکری سے نکال دیا کہ تم اتنی چالاک عورت ہو کہ اپنے شوہر کے خلاف سپریم کورٹ تک چلی گئی۔‘
اس طرح کے معاملات میں ضروری نہیں کہ سماج میں اثر و رسوخ ہر وقت مددگار ثابت ہو۔
نسیم کہتی ہیں کہ ’مثال کے طور پر آفرین کا ہی معاملہ دیکھ لیں۔ اس کا شوہر پڑھا لکھا تھا، ایک بڑے انسٹیٹیوٹ سے وکالت کی تعلیم حاصل کی تھی اور اس کے والد سرکاری ملازم تھے اور آفرین بھی متوسط طبقے سے ہے اور تعلیم یافتہ بھی ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’لیکن یہ یقینی طور پر نچلے طبقے میں زیادہ ہے۔ زیادہ تر کیس بستیوں، کچی آبادیوں سے آتے ہیں، جہاں تعلیم اور وسائل کی شدید کمی ہے۔‘
قانون کے باوجود خواتین کے لیے اتنی مشکل کیوں؟
شاہ رخ عالم اس کی وجہ سماجی اور سیاسی بتاتی ہیں۔
انڈیا میں مسلم اور دیگر کمیونٹیز میں طلاق کی شرح کا حوالہ دیتے ہوئے شاہ رخ عالم کہتی ہیں کہ اس اصلاح کا کمیونٹی کے اندر کی صورتحال سے کوئی تعلق نہیں۔
بہت سے مسلمان اس طرح کے اقدامات کو اپنے ذاتی معاملے میں مداخلت کے طور پر دیکھتے ہیں، خاص طور پر جب مسلمانوں اور ہندؤوں میں طلاق کی شرح میں بہت زیادہ فرق نہیں۔
2011 کی مردم شماری کے مطابق، جو کہ انڈیا کی سب سے تازہ مردم شماری ہے، ہر 1000 شادی شدہ ہندوؤں میں سے دو طلاق یافتہ ہیں اور ہر 1000 شادی شدہ مسلمانوں میں 3.7 فرد طلاق یافتہ ہیں۔
مسلم تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اکثر اس نمبر کو بڑھا چڑھا کر غیر متناسب طریقے سے پیش کیا جاتا ہے۔
لیکن مسلمانوں میں ان اقدامات کی مقبولیت اس لیے بھی کم ہے کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ اس کا استعمال ان کے ذاتی ازدواجی تنازعات کو بھی جرم کی شکل دینے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
ذکیہ جو کہ اس قانون کی پُر زور حامی ہیں، کہتی ہیں کہ ’یہ قانون ایک بہترین قانون نہیں لیکن اسے اور بہتر بنایا جا سکتا تھا۔ اس میں کچھ شرائط ہونی چاہیے تھیں۔ اس میں طلاق کی دو یا تین دفعات رکھی جا سکتی تھی، جو اس بات کو یقینی بناتی تھی کہ مسئلہ جڑ سے حل ہو جائے۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ قانون میں یہ کہنا چاہیے تھا کہ طلاق کی صورت میں عورتوں کا کیا حق ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ قانون کے تحت سب کچھ حاصل کرنا ممکن نہیں لیکن اس میں ایک اشارہ تو کیا جا سکتا تھا۔
جدوجہد جاری ہے
انڈیا کی حکمراں جماعت بی جے پی، جس کا ملک کے مسلمانوں کے ساتھ ناخوشگوار تعلق تاریخ کا حصہ ہے، مسلم عورتوں کے حقوق کے نام پر اس موضوع کو آگے بڑھانے میں متحرک رہی ہے، جس کی وجہ سے کئی مسلم اسے ایک سیاسی چال کے طور پر دیکھتے ہیں۔
لیکن مبصرین کہتے ہیں کہ عام لوگوں کے دقیانوسی تصورات کے باوجود مسلمان سرگرم طریقے سے تبدیلی کے خواہاں ہیں۔
ذکیہ، جو 2000 کی دہائی کے اوائل سے مسلم خواتین کے ساتھ کام کر رہی ہیں، کہتی ہیں کہ انڈین مسلمان نہ صرف تبدیلی کے لیے تیار ہیں بلکہ وہ سرگرم طریقے سے تبدیلی چاہتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ غلط چیزوں پر عمل کرنے سے اسلامو فوبیا میں اضافہ ہوتا ہے اور ہندوتوا کی سیاست میں فروغ ہوتا ہے۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’عام مسلمان کو جب یہ پتا چلتا ہے کہ اللہ نہیں چاہتا کہ وہ ایسا کریں تو وہ سوچتے ہیں کہ میں ایسا کیوں کروں۔‘
ضیا الاسلام تبدیلی کی ایک اور مثال پیش کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ زیادہ تر لوگ ابھی تک اس ترقی کو نہیں سمجھ پائے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’گزشتہ سال خواتین کا ایک گروپ ملک بھر کے 16 شہروں کی مساجد میں نماز پڑھنے گیا۔ انھیں شاید ہی کوئی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اپنے حقوق لینے میں کامیاب رہیں، جسے اللہ نے انھیں دیا ہے، جو انھیں حق دیتا ہے کہ وہ جب چاہیں مسجد میں نماز ادا کر سکیں۔‘
لیکن ضیا سوال کرتے ہیں کہ ’کسی ایک عورت کو بھی اس لیے کیوں تکلیف اٹھانی پڑے کہ ایک مرد نے جان بوجھ کر قرآن کے پیغام کو توڑ مروڑ کر پیش کیا؟‘
وہ کہتے ہیں کہ جدوجہد جاری ہے اور ’یہ تو صرف شروعات ہے۔‘