وی پی مینن: شاہی ریاستوں کو انڈیا سے الحاق پر مجبور کرنے والے بیوروکریٹ جو کبھی سونے کی کان میں مزدور تھے

انڈیا سنہ 1947 میں برطانوی راج سے آزادی کے دہانے پر تھا اور ویپلا پنگونی مینن مکمل طور پر تھک چکے تھے۔

تین دہائیوں تک پیس کر رکھ دینے والی سامراجی بیوروکریسی میں کام کرنے والے 54 سال کے سرکاری ملازم کو اس کا نقصان بھی پہنچا تھا۔

ان کی سوانح نگار نارائنی باسو نے لکھا ہے کہ مینن ’کام کے بوجھ تلے دبے تھے، تھک چکے تھے اور بری طرح سے کھانسنے بھی لگے تھے۔‘

انھوں نے یکے بعد دیگرے کئی وائسرائے کے لیے سیاسی اور آئینی اصلاحات پر ایک اہم عہدیدار کے طور پر کام کیا اور اقتدار کی منتقلی کے اہم منصوبے کا مسودہ تیار کرنے میں مدد کی۔ انھوں نے برسوں سے کام سے چھٹی نہیں لی تھی۔

15 اگست کو جس دن انڈیا کو آزادی ملی اقتدار کی منتقلی کی تقریبات ختم ہونے کے بعد مینن خاموشی کے ساتھ ریٹائرمنٹ کے منتظر تھے۔

طبعاً قدامت پسند نظریات کے حامل مینن آزادی کے ایک ہیرو اور کانگریس پارٹی کے رہنما ولبھ بھائی پٹیل کے اتحادی تھے۔ اب پٹیل نے انھیں دوبارہ ان کی خدمات حاصل کرنے کے لیے طلب کیا۔

سردار پٹیل انڈیا کے وزیر داخلہ بنے تھے اور عرف عام میں وی پی کے نام سے پکارے جانے والے مینن کو وہ اپنا سیکریٹری بنانا چاہتے تھے تاکہ شاہی ریاستوں کے معاملات کو ہینڈل کر سکیں۔

مورخ رام چندر گوہا کے الفاظ میں ’چھوٹے، چوکس اور بلا کے ذہین‘ مینن جیسے سرکاری ملازم کے لیے یہ ایک اور مشکل کام تھا جو ان کے سپرد کیا جا رہا تھا۔

ان شاہی ریاستوں کی تعداد کوئی 565 تھی اور یہ برطانوی ہندوستان کے ایک تہائی رقبے پر محیط تھیں جن میں آبادی کا ڈھائی فیصد حصہ آباد تھا۔ ان میں سے کئی ریاستوں کی اپنی فوجیں، ریلوے، کرنسی نوٹ اور ڈاک ٹکٹ تھے۔

زیادہ تر حکمرانوں کو نا اہل اور عیاش کے طور پر دیکھا گیا۔ دوسرے راجے مہاراجے، حیدرآباد کے نظام (بادشاہ) جیسے حکمراں بھی تھے جن کے بارے میں ایک جائزے کے مطابق کہا گيا ہے کہ ان کی آمدن اور خرچ بیلجیئم جیسے ملک کے برابر تھی اور اقوام متحدہ کی 20 بانی رکن ریاستوں سے زیادہ تھے۔

مینن کا کام ان کو ختم کرنا تھا۔ انھیں ان حکمرانوں کو انڈیا میں ضم ہو جانے کے لیے راضی کرنا تھا اور یہ کام اس گہرے عدم اعتماد اور بڑھتے ہوئے تشدد کے ماحول میں حاصل کیا جانا تھا جو برصغیر کی تقسیم کی وجہ سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی تناؤ سے پیدا ہوئی تھی۔

کانگریس لیڈر اور بعد میں انڈیا کے پہلے وزیر اعظم بننے والے جواہر لعل نہرو نے اپنے ایک ساتھی سے بات کرتے ہوئے اسے ’خوفناک شدت‘ کی انتظامی صورتحال قرار دیا تھا۔

انڈیا کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور پھر پٹیل کے ساتھ کام کرتے ہوئے مینن نے الحاق کی ایک دستاویز پر کام کیا جس کے تحت ریاستوں کو کہا گیا کہ وہ دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کا کنٹرول کانگریس کی حکومت پر چھوڑنے پر اتفاق کریں۔

دو سال سے زیادہ عرصے تک مینن اور پٹیل نے شاہی حکمرانوں کے ساتھ اذیت ناک مذاکرات کیے اور ان کی ریاستوں کے سینکڑوں دورے کیے۔ ان حکمرانوں نے ان سے آزاد انڈیا میں اپنے مستقبل کے بارے میں سوال کیا۔

حیدر آباد اور کشمیر کی بڑی سلطنتوں اور ساحلی ریاست جونا گڑھ نے تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔ ٹراونکور نے انڈیا یا پاکستان کسی کے ساتھ بھی شامل ہونے سے انکار کردیا۔

دوسرے حکمرانوں نے علیحدہ یونین کے قیام پر غور کیا: اڑیسہ (اب اوڈیشہ) اور چھتیس گڑھ کے حکمرانوں نے مشرقی ریاستوں کے اتحاد پر بات چیت کی۔

’وی پی مینن: دی ان سنگ آرکیٹیکٹ آف ماڈرن انڈیا‘ کی مصنفہ مز باسو نوٹ کرتی ہیں کہ ’الگ ہونے کا عمل شروع ہو گیا تھا لیکن وی پی تمام نامساعد حالات کے باوجود انڈیا کو اقتدار کی منتقلی پر ڈٹے رہے۔‘

پٹیل کے ایلچی کے طور پر کام کرنے والی نکتہ داں مینن نے حکمرانوں کے ساتھ لالچ اور ڈرانے دھمکانے کی جنگ لڑی۔

انھیں معاوضے کے طور پر پنشن کی پیشکش کی گئی اور اس کے ساتھ انھیں اپنے محلات اور القاب و خطابات کو برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی لیکن جب معاملات مشکل ہو گئے تو چھڑی کام آئی یعنی انھیں دھمکایا گیا۔

حیدر آباد کے نظام انڈیا اور پاکستان دونوں سے علیحدہ خود مختار رہنا چاہتے تھے۔ ان کے خلاف سمتبر میں فوج بھیجی گئی۔ انڈین فوجیوں نے جونا گڑھ پر حملہ کیا جس کے مسلم حکمران نے پاکستان کے ساتھ جانے کا انتخاب کیا تھا اور وہاں ایک رائے شماری منعقد کی گئی جہاں لوگوں نے زبردست اکثریت کے ساتھ انڈیا میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔

کشمیر میں مینن نے سوئے ہوئے شہزادے کو یہ بتانے کے لیے جگایا کہ پاکستان کے قبائلی جنگجوؤں نے ان کی سلطنت پر حملہ کیا ہے۔ مینن کہتے ہیں کہ مہاراجہ فوری طور پر الحاق کے لیے تیار ہو گئے اور انھوں نے الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیے۔

یہ بھی پڑھیے

دو سال میں ہی 500 سے زیادہ شاہی ریاستوں کو 14 نئی ریاستوں میں تحلیل کر دیا گیا، یہ ایک قابل ذکر کارنامہ ہے۔ مز باسو کہتی ہیں کہ ’پٹیل کی حکمرانوں کے لیے کھلی توہین سے وی پی کی باریک بینی اور کم گوئی متاثر ہوئی۔‘

انڈیا کو متحد کرنے سے پہلے ہی مینن ناگزیر ہو چکے تھے۔ انھوں نے سنہ 1947 میں ایک ناقابل یقین حد تک سزا دینے والی ڈیڈ لائن کے تحت کام کیا تاکہ اقتدار کی منتقلی کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا جا سکے۔

اس منصوبے کے تحت یہ تجویز کیا گیا کہ اقتدار انڈیا اور پاکستان میں دو وفاقی حکومتوں کو منتقل کیا جائے۔ انھوں نے یہ منصوبہ اپنے ٹائپ رائٹر پر تیار کیا۔ یہ اس تصفیہ کی بنیاد بنی جس کے تحت تین ماہ بعد انگریز ہندوستان چھوڑ کر چلے گئے۔

مز باسو کہتی ہیں کہ ’انھوں نے اسے چار گھنٹوں میں یکجا کیا اور یہ ایک ایسی چیز تھی جو تاریخ اور جنوبی ایشیا کا چہرہ بدلنے والی تھی۔ یہ ایک قابل ذکر کامیابی تھی۔‘

مینن نے حاشیہ خیال سے باہر عزائم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ جس شخص نے کالج کا منھ نہ دیکھا ہو اور سونے کی کان میں ایک مزدور کے طور پر اپنی زندگی کا آغاز کیا ہو وہ سول سروس کی چوٹی پر پہنچ گیا تھا۔ ایک بیوروکریٹ کے طور پر اس کا 37 سال کے طویل کریئر ہندوستان کی آزادی کے طویل اور مشکل سفر پر محیط تھا۔

ان کا تعلق اشرافیہ سے نہیں تھا۔ انھوں نے سامراجی بیوروکریسی میں ٹائپسٹ، سٹینوگرافر اور کلرک کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ اس سے انھیں دھوئیں سے بھرے کمروں میں دیر تک نوٹس لینے اور سخت گفت و شنید میں مصروف عہدیداروں اور رہنماؤں کو سنتے رہنے کی عادت پڑی۔

مینن نے ہندوستان کے لبرل سکریٹری آف سٹیٹ ایڈون مونٹیگ کو اس بات کا سہرا دیا کہ انھوں نے انھیں ’کاغذ کو آگے بڑھانے، ڈرافٹ رائٹنگ اور لیٹر ٹائپنگ‘ سے آگے سوچنے پر آمادہ کیا۔

اس کے بعد کے سال میں مینن کو عجیب و غریب کام سونپے جانے لگے۔ انھوں نے انڈیا میں غم و غصے کی لہر کے دوران ایک شمالی ریاست کے بادشاہ کو لندن سے دو ’نائٹ کلب ہوسٹسز‘ کو دہلی مدعو کرنے سے روک دیا۔

انھوں نے ایک سینیئر وزیر کو ’خفیہ ٹیلی گرام‘ بھیجا جس میں انھیں لندن سے ایک وفات پا جانے والے ہندوستانی بادشاہ کے کچھ انمول فن حاصل کرنے کا کام سونپا گیا۔ یہاں تک کہ وہ شاہی خاندان کے افراد کے ذریعہ نظام حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے زیورات کے دعووں سے متعلق مقدمات میں حکومت کے نمائندے کے طور پر عدالتوں میں پیش ہوئے۔

ان سب کارناموں کے باوجود مز باسو جیسے مؤرخین کا خیال ہے کہ پٹیل کی موت کے بعد انھیں بہت جلد بھلا دیا گيا، نہرو نے نظر انداز کر دیا اور انھیں ایک طرف کر دیا۔

مز باسو کہتی ہیں کہ ’انھیں سیاسی گفتگو سے باہر کر دیا گیا تھا۔‘ جب وہ 75 سال کی عمر میں فوت ہوئے تو دو شادیوں سے ان کے تین بچے تھے۔ ان کا جنازہ ان کی زندگی کی ہی طرح ’چھوٹا اور نجی‘ تھا۔

بیوروکریٹ، کرائسس مینیجر، ہینڈی مین اور انڈیا کے ساتھ شاہی ریاستوں کے انضمام کے ڈرافٹس مین، مینن بیک وقت یہ سب کچھ اور بہت کچھ تھے۔

مز باسو کہتی ہیں کہ ’مختلف شخصیات اور بڑی انا والوں کے ساتھ کمروں میں رہنے‘ کے مواقع نے انھیں مسودہ تیار کرنے کے جملے اور بات چیت کرنے کا سلیقہ سکھایا۔ ’انھوں نے سیکھا، جذب کیا اور اپنے اندر ڈھال لیا۔‘

مین کہا کرتے تھے کہ ’آپ صرف اسی وقت سیکھ سکتے ہیں جب آپ نے نیچے سے شروع کیا ہو۔‘